Edward Said: Istashraq Aur Ma Baad e Nau Abadiyati Fikr (3)
ایڈورڈ سعید: استشراق اور مابعد نوآبادیاتی فکر (3)

کہتے ہیں ایک قدیم کتب خانے کی گرد آلود الماری میں ایک ایسی کتاب بھی رکھی تھی جسے صدیوں تک سب نے پڑھا، مگر کسی نے یہ نہ پوچھا کہ اسے لکھنے والا کون تھا اور اس نے دوسروں کی کہانی کس نیت سے لکھی تھی۔ پھر ایک دن ایک مسافر آیا، اس نے کتاب کو بند نہیں کیا بلکہ اس کے حاشیوں میں چھپے سوال پڑھنے شروع کیے۔ تب معلوم ہوا کہ بعض اوقات تاریخ حقیقت سے زیادہ طاقتور کہانیوں کے سہارے لکھی جاتی ہے اور انہی کہانیوں کو چیلنج کرنے والے لوگ زمانوں کا رخ بدل دیتے ہیں۔
علم کی دنیا میں بعض کتابیں محض خیالات کا اظہار نہیں کرتیں بلکہ پورے عہد کی فکری سمت متعین کرتی ہیں۔ وہ پرانے یقینوں کو سوال میں بدل دیتی ہیں، خاموش تاریخوں کو زبان عطا کرتی ہیں اور ان حقیقتوں سے پردہ اٹھاتی ہیں جو برسوں سے اقتدار کے بیانیوں میں پوشیدہ رہتی ہیں۔ ایڈورڈ سعید کی فکر بھی اسی نوع کی فکری مداخلت ہے۔ انہوں نے ادب، تاریخ، ثقافت اور سیاست کے درمیان قائم مصنوعی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ انسانی شعور کی تشکیل صرف نظریات سے نہیں بلکہ ان کہانیوں، متون اور بیانیوں سے بھی ہوتی ہے جو معاشرے اپنے بارے میں تخلیق کرتے اور دوسروں کے بارے میں رائج کرتے ہیں۔
اگر "استشراق" ایڈورڈ سعید کی فکری عمارت کی بنیاد ہے تو "Culture and Imperialism" اس عمارت کی تکمیل ہے۔ استشراق میں انہوں نے مغرب کے علمی اور فکری نظام کا تجزیہ کیا، جبکہ Culture and Imperialism میں انہوں نے یہ واضح کیا کہ سامراج صرف سیاسی، عسکری یا معاشی غلبے کا نام نہیں بلکہ وہ ایک ثقافتی مظہر بھی ہے، جو ادب، فنون، تاریخ، تعلیم، صحافت، جغرافیہ اور اجتماعی حافظے کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سعید کی فکر ادبی تنقید کو محض جمالیاتی تجزیے سے نکال کر تہذیبی، تاریخی اور سیاسی تناظر میں داخل کرتی ہے۔
ان کے نزدیک ادب کبھی بھی اپنے عہد سے مکمل طور پر الگ نہیں ہوتا۔ ہر ادبی متن کسی نہ کسی تاریخی صورتِ حال، سماجی ڈھانچے، معاشی نظام اور سیاسی ماحول میں وجود پاتا ہے۔ مصنف اگرچہ اپنی تخلیقی آزادی رکھتا ہے، لیکن وہ اپنے عہد کے غالب تصورات، اقدار اور طاقت کے ڈھانچوں سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے ادب کو صرف حسنِ بیان، اسلوب، علامت، تشبیہ یا استعارات کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے تہذیبی اور سیاسی پس منظر میں بھی پڑھنا ضروری ہے۔
ایڈورڈ سعید نے مغربی ادب کے متعدد شاہکاروں کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ دکھایا کہ نوآبادیاتی شعور ان میں کس قدر خاموش مگر مؤثر انداز میں موجود ہے۔ جین آسٹن کے ناولوں میں یورپی متوسط طبقے کی آسودگی کے پس منظر میں نوآبادیاتی دولت کا کردار پوشیدہ ہے۔ جوزف کونراڈ کے ناول Heart of Darkness میں افریقہ کو ایک تاریک اور غیر مہذب دنیا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ رڈیارڈ کپلنگ کی تحریروں میں برطانوی سلطنت کو تہذیب، نظم اور ترقی کی علامت بنا کر دکھایا گیا ہے۔ سعید ان مصنفین کی ادبی عظمت سے انکار نہیں کرتے، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ عظیم ادب بھی اپنے عہد کے سیاسی تصورات سے بے نیاز نہیں ہوتا۔
یہاں سعید نے "Contrapuntal Reading" یا "تقابلی و متوازی قرأت" کا تصور پیش کیا، جو ان کی تنقیدی فکر کا نہایت اہم حصہ ہے۔ موسیقی کی اصطلاح سے ماخوذ اس نظریے کے مطابق کسی متن کو صرف مصنف یا غالب تہذیب کے نقطۂ نظر سے نہیں بلکہ ان خاموش آوازوں کی موجودگی میں بھی پڑھا جانا چاہیے جو متن کے حاشیوں پر موجود ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی برطانوی ناول سلطنت کی عظمت بیان کرتا ہے تو قاری کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس عظمت کی قیمت کن محکوم اقوام نے ادا کی اور متن ان اقوام کی موجودگی یا غیر موجودگی کو کس انداز میں پیش کرتا ہے۔
یہ طرزِ مطالعہ دراصل تاریخ کو فاتحین کے بجائے محکوم اقوام کی آنکھ سے دیکھنے کی دعوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مابعد نوآبادیاتی تنقید صرف ادب کی نئی تعبیر نہیں بلکہ تاریخ نویسی، ثقافتی مطالعات، بشریات، سماجیات اور سیاسیات میں بھی ایک نئی فکری روایت کی بنیاد بن گئی۔
اسی تناظر میں ہندوستانی نژاد مفکرہ گیاتری چکرورتی اسپیواک نے اپنا معروف سوال اٹھایا: "کیا محکوم خود بول سکتا ہے؟" اس سوال کا مقصد یہ تھا کہ جب طاقت کے تمام ذرائع غالب تہذیب کے ہاتھ میں ہوں تو محکوم کی آواز کہاں سنائی دیتی ہے؟ اگر وہ بول بھی رہا ہو تو کیا اس کی آواز اسی صورت میں دنیا تک پہنچتی ہے جس صورت میں وہ خود پیش کرنا چاہتا ہے، یا پھر اسے بھی طاقت کے ادارے اپنی تعبیر کے مطابق تبدیل کر دیتے ہیں؟ اسپیواک کا یہ سوال دراصل سعید کے تصورِ نمائندگی کی توسیع ہے۔
اسی طرح ہومی کے۔ بھابھا نے ثقافتی اختلاط (Hybridity)، تقلید (Mimicry) اور تیسرے مقام (Third Space) جیسے نظریات پیش کیے۔ ان کے مطابق نوآبادیاتی تعلق صرف حاکم اور محکوم کی سادہ تقسیم نہیں بلکہ اس کے درمیان ایک پیچیدہ تہذیبی تعامل بھی پیدا ہوتا ہے۔ محکوم نہ مکمل طور پر غالب تہذیب کو قبول کرتا ہے اور نہ مکمل طور پر مسترد کرتا ہے، بلکہ دونوں کے درمیان ایک نئی شناخت تشکیل دیتا ہے۔ اس تصور نے شناخت کے جامد نظریات کو چیلنج کیا اور یہ واضح کیا کہ تہذیبیں ہمیشہ تعامل، تبادلے اور تغیر کے عمل سے گزرتی ہیں۔
اگرچہ ہومی بھابھا اور اسپیواک نے اپنے الگ نظریات پیش کیے، لیکن ان کی فکری بنیادوں میں ایڈورڈ سعید کی تنقید نمایاں طور پر موجود ہے۔ اسی لیے مابعد نوآبادیاتی مطالعات میں ان تینوں مفکرین کو اکثر ایک ہی فکری سلسلے کی اہم کڑیاں تصور کیا جاتا ہے۔
ایڈورڈ سعید کا ایک اور اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ادب اور سیاست کے درمیان قائم مصنوعی دیوار کو منہدم کیا۔ ان کے نزدیک اگر ادب انسان کی آزادی، شناخت، یادداشت اور اخلاقی شعور سے متعلق ہے تو وہ لازماً سیاسی بھی ہوگا، کیونکہ سیاست بھی انہی مسائل سے وابستہ ہے۔ البتہ وہ ادب کو کسی جماعتی منشور یا نظریاتی پروپیگنڈے میں تبدیل کرنے کے قائل نہیں تھے۔ ان کے نزدیک ادیب کی ذمہ داری اقتدار کی حمایت کرنا نہیں بلکہ ہر اس طاقت پر تنقیدی نگاہ رکھنا ہے جو انسان کی آزادی، وقار اور مساوات کو محدود کرتی ہو۔
یہی اصول انہوں نے اپنی پوری علمی زندگی میں اختیار کیا۔ انہوں نے امریکی خارجہ پالیسی پر بھی تنقید کی، عرب دنیا کی آمریتوں پر بھی سوال اٹھائے، فلسطینی قیادت کی غلطیوں کی بھی نشاندہی کی اور مغربی ذرائع ابلاغ کے دوہرے معیار کو بھی بے نقاب کیا۔ یہی علمی دیانت انہیں محض ایک نظریہ ساز نہیں بلکہ ایک اخلاقی دانشور (Public Intellectual) بناتی ہے۔
سعید کے نزدیک حقیقی دانشور وہ نہیں جو اقتدار کے قریب ہو، بلکہ وہ ہے جو طاقت کے مراکز سے ایک تنقیدی فاصلہ برقرار رکھے، سچ بولنے کا حوصلہ رکھے اور مظلوم انسان کی آواز بنے۔ اسی تصور کو انہوں نے اپنی معروف کتاب "Representations of the Intellectual" میں نہایت وضاحت کے ساتھ پیش کیا، جہاں دانشور کو ضمیرِ عصر قرار دیا گیا ہے، نہ کہ ریاست یا بازار کا ترجمان۔
اسی لیے ایڈورڈ سعید کی فکر صرف ادبی تنقید نہیں بلکہ ایک اخلاقی فلسفہ بھی ہے، جس کا بنیادی مقصد انسان کو ہر قسم کی فکری، ثقافتی اور سیاسی غلامی سے آزاد کرنا ہے۔ ان کے نزدیک آزادی صرف ریاستوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ذہن، زبان، تاریخ اور شعور کی آزادی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ جب تک کوئی قوم اپنے ماضی کی تعبیر خود نہیں کرے گی، اپنی زبان پر اعتماد پیدا نہیں کرے گی اور اپنی ثقافتی روایت کو تخلیقی انداز میں آگے نہیں بڑھائے گی، اس وقت تک سیاسی آزادی بھی مکمل معنوں میں آزادی نہیں کہلا سکتی۔
یہی وجہ ہے کہ ایڈورڈ سعید آج بھی محض ماضی کے ایک مفکر نہیں بلکہ عصرِ حاضر کے ان چند دانشوروں میں شامل ہیں جن کی فکر مسلسل نئی صورتوں میں زندہ ہو رہی ہے۔ ڈیجیٹل سرمایہ داری، مصنوعی ذہانت، عالمی میڈیا، معلوماتی اجارہ داری، ثقافتی سفارت کاری اور بیانیاتی جنگوں کے اس دور میں ان کے سوالات پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں۔

