Tuesday, 21 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Imran Khan Ki Maqbooliat Ka Eteraf, Magar Insaf Par Khamoshi

Imran Khan Ki Maqbooliat Ka Eteraf, Magar Insaf Par Khamoshi

عمران خان کی مقبولیت کا اعتراف، مگر انصاف پر خاموشی

ابھی چند دنوں پہلے معروف صحافی اور جید تجزیہ نگارجناب مجیب الرحمن شامی صاحب سے منسوب ایک مضمون "عمران خان سے ملاقات" نظر سے گزرا۔ اگرچہ اس مضمون کی نسبت اور اس کے مکمل سیاق و سباق پر بحث کی جا سکتی ہے، لیکن اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات پر اظہارِ رائے ہر پڑھنے والے کا حق ہے۔

اس مبینہ مضمون میں عمران خان کی شخصیت، ان کے عروج و زوال، کامیابیوں، ناکامیوں، سیاسی جدوجہد اور موجودہ حالات کو نہایت ادبی اور شاعرانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ کہیں تعریف ہے، کہیں تنقید، کہیں طنز اور کہیں ہمدردی کا احساس بھی نمایاں ہے۔ لیکن اس پورے مضمون میں عمران کے متعلق جناب شامی صاحب کا سب سے اہم جملہ شاید یہ ہے "اس کے دُعا گو، گلی گلی، قریہ قریہ، نہ گن سکے کوئی، انسان"۔

یہ محض ایک ادبی جملہ نہیں بلکہ ایک سیاسی حقیقت کا اعتراف بھی ہے۔ شامی صاحب کی یہ رائے بلکل سہی ہے کہ بطور ایک سیاسی رہنما عمران خان کے لیے ملک کے گلی گلی اور قریہ قریہ میں دعا کرنے والے موجود ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ آج بھی ایک بہت بڑے پیمانہ پر عوامی مقبولیت رکھتے ہیں۔ جمہوری نظام میں عوامی حمایت ہی کسی سیاسی رہنما کا اصل سرمایہ ہوتی ہے اور مخالفین کو اس بات کا احترام کرنا چاہیئے۔

یہاں سوچنے والے ذہنوں میں چند بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں۔ اگر ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان ایک جمہوری ریاست ہے تو پھر جمہوریت کا مفہوم کیا ہے؟ کیا جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے اور حکومت بنانے کا نام ہے، یا اس کی بنیاد شخصی آزادی، آزادیٔ رائے، اختلافِ رائے کے احترام، سیاسی سرگرمیوں کے حق اور قانون کی مساوی عملداری پر بھی قائم ہوتی ہے؟

اگر کسی رہنما کے کروڑوں حامی موجود ہیں، تو کیا ان شہریوں کی سیاسی رائے کا احترام بھی جمہوریت کا تقاضا نہیں؟ کیا ریاست کی ذمہ داری نہیں کہ وہ ہر شہری کو اپنی پسند کے سیاسی نظریات رکھنے، ان کا اظہار کرنے اور پُرامن سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا مساوی حق فراہم کرے؟

یہ سوال صرف عمران خان کا نہیں، بلکہ ہر اس پاکستانی کا ہے جو آئین اور جمہوریت پر یقین رکھتا ہے۔ آج اگر یہ سوال ایک سابق وزیر اعظم کے بارے میں اٹھ رہا ہے تو کل یہی سوال کسی دوسرے سیاسی رہنما، کسی صحافی، کسی وکیل، کسی استاد یا کسی عام شہری کے بارے میں بھی اٹھیگا۔ اصول اگر اشخاص کے ساتھ بدلنے لگیں تو پھر وہ اصول نہیں رہتے، محض مصلحت بن جاتے ہیں۔

شامی صاحب نے اپنے مبینہ مضمون میں عمران خان کے لیے عوامی محبت اور دعاگوؤں کی کثرت کا اعتراف تو کیا، لیکن یہ توقع بھی کی جا سکتی تھی کہ وہ انصاف اور قانون کی بالادستی کے اصول پر بھی اتنی ہی وضاحت سے اظہارِ خیال کرتے۔ یہاں کسی مقدمے کے نتیجے پر رائے دینا مقصود نہیں، کیونکہ اس کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے۔ تاہم یہ کہنا یقیناً مناسب ہے کہ ہر شہری کو شفاف، منصفانہ اور بروقت قانونی کارروائی کا حق حاصل ہے اور انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیے۔

حقیقی صحافت کا اصل منصب یہی ہے کہ وہ شخصیات سے بلند ہو کر اصولوں کی بات کریں۔ اگر صحافی عوامی مقبولیت کا اعتراف کرتے ہیں تو انہیں بنیادی شہری آزادیوں، آزادیٔ اظہار، قانون کی یکساں عملداری اور منصفانہ عدالتی عمل جیسے اصولوں کی حمایت بھی اسی جرات اور وضاحت سے کرنی چاہیے۔ یہی صحافت کا حسن ہے اور یہی اس کی اخلاقی ذمہ داری بھی۔

جمہوریت نام ہی اختلافِ رائے کے احترام، شخصی آزادی اور آئین کی بالادستی کا ہے۔ اگر ان اصولوں میں سے کسی ایک کو بھی کمزور کر دیا جائے تو جمہوریت اپنی روح کھو بیٹھتی ہے، خواہ اس کے ظاہری ڈھانچے باقی رہیں۔

سوال عمران خان کی ذات ہی نہیں، بلکہ وہ اصول ہیں جن پر ہر جمہوری معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ اگر ہم واقعی جمہوریت کے داعویدار ہیں تو ہمیں ہر سیاسی اختلاف سے بالاتر ہو کر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ آزادیٔ رائے، شخصی آزادی، منصفانہ قانونی عمل اور عوام کے حقِ انتخاب کا احترام کسی ایک جماعت یا ایک رہنما کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مشترکہ حق ہے۔

شخصیات وقت کے ساتھ بدل جاتی ہیں، اقتدار آتا جاتا رہتا ہے، لیکن اصول ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ قومیں بھی انہی اصولوں کی بنیاد پر مضبوط ہوتی ہیں، نہ کہ افراد کی بنیاد پر۔

Check Also

Passport Ka Nahi, Zehan Ka Rang Badliye

By Asif Masood