EPR Paradox
ای پی آر پراڈوکس

فرض کریں آپ کے پاس دو ایسے ذرات ہیں جو ایک دوسرے سے خاص انداز میں جڑے ہوئے ہیں۔ اب آپ ان میں سے ایک ذرہ زمین پر رکھتے ہیں اور دوسرا لاکھوں یا اربوں کلومیٹر دور خلا میں بھیج دیتے ہیں۔ اگر آپ زمین پر موجود ذرے کی پیمائش کریں تو دور موجود دوسرے ذرے کی حالت بھی اسی لمحے متعین ہو جاتی ہے، حالانکہ ان کے درمیان روشنی کو بھی سفر کرنے میں کافی وقت لگے گا۔ ایسا کیسے ممکن ہے؟ کیا معلومات روشنی سے بھی زیادہ تیز سفر کر رہی ہیں؟ یہی سوال ای پی آر پراڈوکس کہلاتا ہے۔
یہ پراڈوکس 1935 میں تین سائنس دانوں، Albert Einstein، Boris Podolsky اور Nathan Rosen نے پیش کیا۔ انہی تینوں کے ناموں کے ابتدائی حروف سے اس کا نام EPR رکھا گیا۔ ان کا مقصد کوانٹم میکینکس کو رد کرنا نہیں تھا، بلکہ یہ سوال اٹھانا تھا کہ آیا یہ نظریہ واقعی مکمل ہے یا ابھی اس میں کچھ پوشیدہ قوانین موجود ہیں۔
کوانٹم فزکس کے مطابق بعض ذرات ایک ایسی حالت میں آ سکتے ہیں جسے کوانٹم اینٹینگلمنٹ کہا جاتا ہے۔ اس حالت میں دونوں ذرات کی خصوصیات ایک دوسرے سے اس طرح جڑی ہوتی ہیں کہ ایک کی پیمائش دوسرے سے وابستہ ہو جاتی ہے، چاہے ان کے درمیان کتنا ہی بڑا فاصلہ کیوں نہ ہو۔
یہ تصور آئن اسٹائن کو قبول نہیں تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ کائنات میں کوئی بھی اثر روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز نہیں ہو سکتا۔ اگر ایک ذرے کی پیمائش سے دوسرے پر فوراً اثر پڑتا ہے تو یہ ان کے نظریۂ اضافیت سے ٹکراتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ اسی لیے آئن اسٹائن نے اسے مشہور الفاظ میں "فاصلے پر پراسرار عمل" کہا تھا۔
کئی سال تک یہ بحث صرف نظریاتی رہی، لیکن پھر 1964 میں آئرش طبیعیات دان John Stewart Bell نے ایک ایسا ریاضیاتی طریقہ پیش کیا جسے آج بیل تھیورم کہا جاتا ہے۔ اس نے پہلی بار یہ ممکن بنایا کہ ای پی آر پراڈوکس کو تجربات کے ذریعے جانچا جا سکے۔
بعد کے کئی تجربات، خصوصاً 1980 کی دہائی سے لے کر آج تک، بار بار یہی ظاہر کرتے رہے کہ کوانٹم اینٹینگلمنٹ واقعی ایک حقیقی مظہر ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ معلومات روشنی سے زیادہ تیز سفر کرتی ہیں، بلکہ یہ کہ اینٹینگلڈ ذرات کا تعلق ہماری عام سوچ سے کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔
ابتدائی طور پر آئن اسٹائن کا یہ اعتراض صرف ایک نظریاتی بحث سمجھا جاتا تھا، لیکن 1964 میں جان اسٹیورٹ بیل کے "بیل تھیورم" نے اسے تجربہ گاہ میں پرکھنے کا راستہ دکھایا۔ بعد ازاں جان کلاؤزر، ایلن اسپیکٹ اور اینٹن زیلنگر جیسے معروف طبیعیات دانوں نے انتہائی باریک اور نقائص سے پاک تجربات کے ذریعے ثابت کیا کہ کوانٹم اینٹینگلمنٹ کوئی ظاہری دھوکا نہیں بلکہ کائنات کی ایک حقیقی حقیقت ہے۔ ان تجربات نے آئن اسٹائن کے "پوشیدہ قوانین" کے نظریے کو رد کرتے ہوئے کوانٹم فزکس کے اصولوں پر مہرِ تصدیق ثبت کی اور اسی تاریخی پیش رفت پر ان تینوں سائنس دانوں کو 2022 کا فزکس کا نوبل پرائز دیا گیا۔
آج یہی عجیب خصوصیت جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد بن رہی ہے۔ کوانٹم کمپیوٹرز، کوانٹم کرپٹوگرافی اور مستقبل کے کوانٹم انٹرنیٹ جیسے تصورات اسی اینٹینگلمنٹ پر انحصار کرتے ہیں۔ یعنی جو چیز کبھی صرف ایک فلسفیانہ معمہ سمجھی جاتی تھی، وہ اب آنے والی ٹیکنالوجی کی بنیاد بنتی جا رہی ہے۔

