Baap Jis Ki Qadr Dair Se Hoti Hai
باپ جس کی قدر دیر سے ہوتی ہے

زندگی ایک ایسا سفر ہے جس میں انسان ہر عمر کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ اس کی سوچ بدلتی ہے، ترجیحات بدلتی ہیں اور تجربات اسے وہ سبق سکھاتے ہیں جو کتابیں بھی نہیں سکھا سکتیں۔ مگر اس سفر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان جن ہستیوں کی سب سے زیادہ قدر کرنی چاہیے، ان کی عظمت کا احساس اکثر اس وقت ہوتا ہے جب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ انہی عظیم ہستیوں میں سب سے نمایاں مقام والد کا ہے۔ باپ وہ سایہ ہے جو اپنی خواہشات قربان کرکے اولاد کے خوابوں کو حقیقت بنانے کی کوشش کرتا ہے، مگر افسوس کہ اولاد کو اس قربانی کی قیمت بہت دیر سے سمجھ آتی ہے۔
پانچ سال کا بچہ اپنے والد کو دنیا کا سب سے طاقتور انسان سمجھتا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کے ابو ہر مشکل حل کر سکتے ہیں، ہر سوال کا جواب جانتے ہیں اور ہر خوف سے بچا سکتے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، ویسے ویسے انا بھی جوان ہونے لگتی ہے۔ دس سال کی عمر میں بچہ سمجھنے لگتا ہے کہ شاید ابو کو ہر بات معلوم نہیں۔ بارہ سال کی عمر میں اسے لگتا ہے کہ ابو اسے سمجھتے ہی نہیں۔ چودہ سال میں والد کی نصیحت سختی محسوس ہونے لگتی ہے، سولہ سال میں ان سے دل کی بات کرنا مشکل لگتا ہے، اٹھارہ سال میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے والد نئی نسل کے حالات سے بالکل بے خبر ہیں اور بائیس سال کی عمر میں اکثر نوجوان یہ فیصلہ بھی سنا دیتے ہیں کہ "ابو کے خیالات پرانے ہو چکے ہیں"۔
یہ وہ عمر ہوتی ہے جب جذبات عقل پر غالب ہوتے ہیں۔ نوجوان آزادی کو کامیابی سمجھتا ہے اور نصیحت کو اپنی آزادی میں رکاوٹ۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ والد ہر بات میں روک ٹوک کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ والد پابندیاں اپنی خواہش کے لیے نہیں لگاتا بلکہ اولاد کو ان راستوں سے بچانے کی کوشش کرتا ہے جن پر چل کر وہ خود ٹھوکریں کھا چکا ہوتا ہے۔ باپ کا تجربہ اولاد کے جذبات سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتا ہے، مگر افسوس یہ دولت اس وقت تک بے قیمت محسوس ہوتی ہے جب تک زندگی خود سبق نہ سکھا دے۔
پھر وقت کا پہیہ گھومتا ہے۔ پچیس سال کی عمر میں انسان کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ ابو کی بہت سی باتیں درست تھیں۔ تیس سال کی عمر میں اہم فیصلوں کے لیے وہ انہی سے مشورہ لینے لگتا ہے۔ پینتیس سال میں اسے احساس ہوتا ہے کہ ابو ہر نصیحت کے پیچھے محبت چھپا کر رکھتے تھے اور چالیس سال کی عمر میں وہ حیران ہوتا ہے کہ آخر اس کے والد نے اتنی مشکلات، معاشی پریشانیوں، گھریلو ذمہ داریوں اور زندگی کے بے شمار امتحانات کا اتنے صبر اور حوصلے سے سامنا کیسے کیا۔ جب خود کندھوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ آتا ہے تو باپ کی خاموشی بھی سمجھ آنے لگتی ہے اور اس کی سختی بھی محبت معلوم ہونے لگتی ہے۔
لیکن زندگی کا سب سے دردناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب انسان پچاس سال یا اس سے آگے پہنچ کر دل سے یہ کہتا ہے: "کاش! ایک بار پھر ابو میرے سامنے بیٹھے ہوتے، میں ان کے ساتھ چند لمحے گزار لیتا، ان کے ہاتھ چوم لیتا، ان سے معافی مانگ لیتا اور انہیں بتا دیتا کہ وہ واقعی ہر بات میں درست تھے"۔ مگر افسوس، اس وقت اکثر والد دنیا سے جا چکے ہوتے ہیں۔ انسان ان کی قبر پر کھڑا ہو کر آنسو بہاتا ہے، مگر وقت واپس نہیں آتا۔
والد کی سختی دراصل سختی نہیں، بلکہ زندگی کی سختیوں سے بچانے کی تربیت ہوتی ہے۔ وہ صرف آج کی خوشی نہیں دیکھتے بلکہ آنے والے کل کی کامیابی، عزت اور تحفظ کی فکر کرتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ کے والد حیات ہیں تو ان کی قدر کیجیے، ان کے ساتھ وقت گزاریے، ان کی باتیں توجہ سے سنیے اور ان کے لیے آسانی پیدا کیجیے۔ کیونکہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے پاس آج ہر نعمت موجود ہے، مگر "ابو" کہہ کر پکارنے والا کوئی نہیں۔ والد ایک ایسی نعمت ہیں جن کا نعم البدل دنیا کی کوئی دولت نہیں ہو سکتی۔

