Monday, 20 July 2026
  1.  Home
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  3. Behri Iqtidar Ka Naya Ehad

Behri Iqtidar Ka Naya Ehad

بحری اقتدار کا نیا عہد

اِنَّ سُنَنَ التَّارِیخِ لَا تَجُمُدُ عَلٰی صُوَرِہَا، وَلٰکِنَّهَا تَتَجَدَّدُ فِی أَثُوَابٍ مُخُتَلِفَۃٍ۔ تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ تمدنوں کی قسمت کا فیصلہ ہمیشہ میدانِ جنگ کے غبار میں نہیں ہوتا، بلکہ اکثر اوقات سمندروں کی خاموش لہروں، تجارتی گزرگاہوں اور جغرافیائی محلِ وقوع کی پوشیدہ معنویت میں رقم ہوتا ہے۔ اکیسویں صدی کے سیاسی افق پر ابھرتا ہوا منظرنامہ اسی ازلی قانون کی نئی تعبیر ہے۔ بحرِ اوقیانوس، جو تین صدیوں تک عالمی اقتدار، سامراجی وسعت اور سرمایہ دارانہ غلبے کی علامت رہا، اب بتدریج اپنی مرکزیت کھوتا جا رہا ہے، جبکہ بحرِ ہند اور بحرالکاہل پر مشتمل وسیع بحری خطہ عالمی سیاست، معیشت اور عسکری حکمتِ عملی کا نیا محور بنتا دکھائی دیتا ہے۔ گویا تاریخ نے اپنے جغرافیے کا قبلہ تبدیل کر دیا ہے اور اقتدار کا قافلہ ایک ساحل سے دوسرے ساحل کی طرف کوچ کر رہا ہے۔

یہ خطہ محض سمندری وسعتوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ عالمی تجارت کی شہ رگ، توانائی کی مرکزی شاہراہ، معدنی وسائل کا عظیم مخزن اور انسانی آبادی کے سب سے بڑے ارتکاز کا امین ہے۔ افریقہ کے مشرقی ساحلوں سے لے کر بحرالکاہل کے دور افتادہ جزائر تک پھیلا ہوا یہ آبی دائرہ آج اس شطرنج کی بساط بن چکا ہے جس پر عظیم طاقتیں اپنے سیاسی وجود، معاشی مفادات اور عسکری برتری کے آخری مہرے حرکت دے رہی ہیں۔ اگر گزشتہ صدیوں کی تاریخ خشکی کے قلعوں میں لکھی گئی تھی تو آنے والے زمانے کی تاریخ غالباً بندرگاہوں، آبناؤں اور بحری راہداریوں میں مرتب ہوگی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ معرکۂ اقتدار توپ و تفنگ سے زیادہ بحری رسائی، تکنیکی مہارت اور اقتصادی گزرگاہوں کے تصرف پر منحصر ہوگا۔

یونانی مفکر تھیوسیڈائڈیز نے صدیوں قبل جس اصول کی نشاندہی کی تھی کہ ابھرتی ہوئی طاقت اور قائم شدہ قوت کا تصادم تقریباً ناگزیر ہو جاتا ہے، وہ آج نئی معنویت کے ساتھ مشرقی ایشیا کے پانیوں میں جلوہ گر ہے۔ ایک جانب امریکہ اپنی تاریخی برتری، عالمی اتحادوں اور سلامتی کے ڈھانچے کو برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے، جبکہ دوسری جانب چین اپنی صنعتی قوت، اقتصادی وسعت، تکنیکی خود اعتمادی اور بحری رسائی کے ذریعے بین الاقوامی نظام میں نئی مرکزیت حاصل کرنے کی سمت گامزن ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے حقیقت پسندانہ مکتبِ فکر کی رو سے جب عالمی نظام میں کوئی مقتدر ثالث موجود نہ ہو تو ہر ریاست اپنی بقا کے لیے طاقت کے توازن، عسکری استعداد اور معاشی خود کفالت کو ناگزیر سمجھتی ہے۔ یہی وہ نفسیاتی اور تزویراتی ماحول ہے جس نے اتحادوں، عسکری معاہدوں اور بحری اشتراک کے ایک نئے سلسلے کو جنم دیا ہے۔

اسی پس منظر میں کواڈ، آکس اور دیگر دفاعی انتظامات کو محض سفارتی سرگرمیاں قرار دینا حقیقت سے صرفِ نظر ہوگا۔ یہ دراصل اس وسیع تزویراتی نقشے کے اجزا ہیں جس میں بحرالکاہل کی آبی گزرگاہیں عالمی طاقتوں کے درمیان توازنِ قوت کا مرکز بن چکی ہیں۔ اس کے بالمقابل چین نے بیلٹ اینڈ روڈ، میری ٹائم سلک روڈ اور بندرگاہی تعاون کے ذریعے اقتصادی جغرافیہ کو اپنی خارجہ حکمتِ عملی کا بنیادی ستون بنایا ہے۔ اس نے یہ تصور مستحکم کیا ہے کہ جدید دنیا میں شاہراہیں صرف خشکی پر نہیں بنتیں، بلکہ سمندر بھی قوموں کی تقدیر کے راستے متعین کرتے ہیں۔

اس عظیم الشان تزویراتی تغیر میں بھارت بھی اپنے آپ کو بحرِ ہند کی مرکزی قوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کی بحری حکمتِ عملی، خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں اور مختلف دفاعی شراکت داریاں اسی وسیع تر تصور کا حصہ ہیں۔ دوسری طرف جاپان، آسٹریلیا اور دیگر علاقائی ریاستیں بھی اپنے معاشی مفادات اور سلامتی کے تقاضوں کے درمیان ایک نازک توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ تمام تغیرات اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ یک قطبی عالمی نظم اب تدریجاً ایک ایسے کثیر قطبی نظام میں تبدیل ہو رہا ہے جہاں طاقت کی تعریف، اتحادوں کی نوعیت اور قومی مفادات کی تعبیر مسلسل بدل رہی ہے۔

ایسے ماحول میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک ریاست کی نہیں بلکہ ایک تزویراتی پل کی ہے، جو وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور بحرِ عرب کو ایک دوسرے سے مربوط کرتا ہے۔ گوادر اور پاک۔ چین اقتصادی راہداری اسی محلِ وقوع کو عملی معنویت عطا کرتے ہیں۔ اگر ان منصوبوں کو مؤثر اقتصادی، صنعتی اور بحری حکمتِ عملی سے جوڑا جائے تو پاکستان صرف راہداری نہیں بلکہ علاقائی تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری کا ایک فعال مرکز بن سکتا ہے۔ تاہم یہ امکان اسی وقت حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے جب داخلی استحکام، ادارہ جاتی تسلسل، اقتصادی اصلاحات اور سمندری حکمتِ عملی کو قومی ترجیحات میں مستقل مقام حاصل ہو۔

آنے والا زمانہ اس حقیقت کا متقاضی ہے کہ قومی سلامتی کو صرف عسکری زاویے سے نہ دیکھا جائے بلکہ جغرافیائی معیشت، بلیو اکانومی، بحری تحقیق، بندرگاہی ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور سفارتی توازن کو بھی اسی کا ناگزیر جزو سمجھا جائے۔ وہ ریاستیں جو اپنے جغرافیے کو معیشت میں اور اپنی معیشت کو تزویراتی قوت میں تبدیل کر لیتی ہیں، تاریخ انہی کو دوام بخشتی ہے۔ بصورتِ دیگر بہترین محلِ وقوع بھی محض ایک غیر استعمال شدہ نعمت بن کر رہ جاتا ہے۔

وَتِلُكَ الُأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيُنَ النَّاسِ۔ ایام کی گردش کبھی جامد نہیں رہتی۔ اقتدار کے مراکز بدلتے ہیں، سمندری راستے نئی معنویت اختیار کرتے ہیں اور اقوام کا عروج و زوال بھی انہی تغیرات کے ساتھ وابستہ ہو جاتا ہے۔ پاکستان اگر اس نئے عالمی منظرنامے کو بصیرت، اعتدال اور دور اندیشی کے ساتھ سمجھ کر اپنی قومی حکمتِ عملی کو جغرافیائی معیشت، علمی ارتقا اور بحری طاقت کے اصولوں پر استوار کرے تو بعید نہیں کہ آنے والے کثیر قطبی نظام میں وہ محض ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک مؤثر، باوقار اور فیصلہ کن کردار کا حامل ملک بن کر ابھرے۔

Check Also

Project Ka Akhri Manzar

By Muhammad Aamir Hussaini