Tuesday, 21 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Aamir Hussaini
  4. Project Ka Akhri Manzar

Project Ka Akhri Manzar

پروجیکٹ کا آخری منظر

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال کا سب سے بنیادی سوال یہ نہیں کہ عمران خان جیل سے کب باہر آئیں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ انھیں سیاسی میدان سے نکالنے کی کوشش میں ریاست نے ملک کی جمہوری سیاست، عدلیہ، ذرائع ابلاغ، وفاقی اکائیوں اور شہری آزادیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟ کیا ایک شخص کے سیاسی منصوبے کو ڈبے میں بند کرنے کے لیے پورے ملک کو ایسی تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے جہاں انتخابات تو ہوتے ہیں، مگر اقتدار کا فیصلہ عوام کے ووٹ سے پہلے غیر منتخب طاقت کے مراکز میں ہوچکا ہوتا ہے؟

یہ تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ جسے آج "عمران خان پروجیکٹ" کہا جاتا ہے، اس کی تعمیر بھی اسی سیاسی انجینئرنگ، عدالتی انتظام، ذرائع ابلاغ کے دباؤ اور انتخابی بندوبست کے ذریعے ہوئی تھی جس کا شکار بعد میں خود عمران خان اور ان کی جماعت بنے۔ تحریکِ انصاف کے دور میں حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کی گرفتاریاں، ذرائع ابلاغ پر دباؤ، سیاسی مخالفین کی کردار کشی اور مقتدر فوجی قیادت کے ساتھ یک جان دو قالب ہونے کا تاثر ہماری قریب کی تاریخ کا حصہ ہے۔ لیکن کسی سابق غیر جمہوری بندوبست کا جواب پورے سیاسی نظام کو مزید غیر جمہوری بنانا نہیں ہوسکتا۔ ایک تیار کردہ سیاسی منصوبے کو ختم کرنے کے لیے اگر آئین، پارلیمان، انتخابات اور بنیادی حقوق ہی کو بے معنی بنادیا جائے تو مسئلہ ایک رہنما کا نہیں رہتا، پورے ریاستی ڈھانچے کا بحران بن جاتا ہے۔

پاکستان کی فوجی افسر شاہی کا دیرینہ طریقۂ کار یہ رہا ہے کہ پہلے کسی سیاست دان کو قومی نجات دہندہ بنایا جاتا ہے، اسے ذرائع ابلاغ، عدالتوں اور انتظامی قوت کے ذریعے سیاسی برتری دلوائی جاتی ہے، پھر اختلاف پیدا ہونے پر وہی شخص بدعنوان، نااہل، غدار یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار پاتا ہے۔ عمران خان اس چکر کی آخری مثال ہوسکتے ہیں، پہلی نہیں۔ مسئلہ عمران خان کی شخصیت سے بڑا ہے۔ مسئلہ وہ کارخانہ ہے جہاں سیاسی رہنما بنائے، استعمال کیے اور پھر ناکارہ سمجھ کر ڈبے میں بند کردیے جاتے ہیں۔

عمران خان سے تصادم کے بعد ریاستی کارروائی صرف تحریکِ انصاف تک محدود نہیں رہی۔ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں، احتجاجی اجتماعات کی بندش، انتخابی نتائج پر سنگین سوالات، انٹرنیٹ اور سماجی ذرائع ابلاغ میں رکاوٹوں، ذرائع ابلاغ پر دباؤ اور پارلیمان کی بے اختیاری نے مل کر ایک ایسے نظام کو جنم دیا جس میں جمہوری ادارے موجود تو ہیں، مگر فیصلہ سازی کا حقیقی اختیار کہیں اور دکھائی دیتا ہے۔ عمران خان کی گرفتاری 5 اگست 2023ء کو ہوئی تھی اور اب تحریکِ انصاف نے ان کی قید کے تین سال مکمل ہونے پر 5 اگست 2026ء سے ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بحران اسلام آباد اور لاہور کی اقتدار گاہوں تک محدود نہیں۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت کارروائیوں، وسائل پر اختیار، سیاسی نمائندگی اور بلوچ عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلوں میں شریک کرنے کے مطالبات کو طویل عرصے سے سلامتی کے بیانیے میں دبایا جارہا ہے۔ خیبرپختون خوا کے پشتون علاقوں میں دہشت گردی، فوجی کارروائیوں، نقل مکانی، بارودی سرنگوں، چوکیوں اور شہری عدم تحفظ کے تجربے نے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں بھی نمائندگی، وسائل، بجلی، مہنگائی اور مقامی اختیار کے سوالات محض امن و امان کے مسئلے نہیں رہے۔ حالیہ مہینوں میں عوامی ایکشن کمیٹی اور ریاستی اداروں کے درمیان تصادم میں جانی نقصان نے ثابت کیا ہے کہ سیاسی مطالبات کو مسلسل طاقت کے ذریعے دبانے کا نتیجہ مزید انتشار ہوسکتا ہے۔

کسی علاقے میں دہشت گرد تنظیموں یا مسلح گروہوں کی موجودگی ریاست کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ پوری آبادی کے آئینی حقوق معطل کردے۔ دہشت گردی اور سیاسی اختلاف کے درمیان فرق ختم کرنا خود دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کرتا ہے۔ مسلح گروہوں کے ہاتھوں عام شہریوں، پولیس، فوج اور سرکاری اہلکاروں کا قتل ناقابلِ قبول ہے، لیکن اسی طرح پُرامن سیاسی کارکنوں، طلبہ، خواتین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے علم برداروں کو سلامتی کا خطرہ قرار دینا بھی ناقابلِ دفاع ہے۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سلامتی کا تصور اکثر شہری کی حفاظت کے بجائے ریاستی اداروں کی بالادستی کے تحفظ سے وابستہ کردیا جاتا ہے۔

اس ماحول میں مولانا فضل الرحمٰن کے حالیہ بیانات غیر معمولی اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔ مولانا نے فوجی قیادت کی سیاست میں مداخلت کو کھلے لفظوں میں چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنھیں اقتدار کا شوق ہے، وہ وردی اتار کر انتخابی میدان میں آئیں۔ انھوں نے خیبرپختون خوا اور بلوچستان کی بدامنی، ریاستی عمل داری کی کمزوری اور پشتون خطے میں خون ریزی پر فوجی اور حکومتی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے یہ سنگین الزام بھی عائد کیا ہے کہ انھیں خیبرپختون خوا اور بلوچستان میں سیاسی جوڑ توڑ اور ارکان کی خرید و فروخت کے ذریعے حکومتیں بنانے کی پیشکش کی گئی تھی، جسے انھوں نے مسترد کردیا۔ یہ الزام فی الحال کسی آزاد تحقیق سے ثابت نہیں، مگر اسے محض سیاسی بیان کہہ کر نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ایک بڑی پارلیمانی جماعت کا سربراہ دعویٰ کررہا ہے کہ غیر منتخب قوتیں صوبائی حکومتیں بنوانے کے لیے سیاسی خرید و فروخت کی پیشکش کرتی رہی ہیں تو پارلیمان، عدالت اور ذرائع ابلاغ کو غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ خاموشی اس الزام کو جھوٹا ثابت نہیں کرتی، بلکہ ریاستی نظام پر شکوک مزید گہرے کرتی ہے۔

مولانا نے "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے اس سرکاری بیانیے کو بھی چیلنج کیا ہے جس کی آڑ میں دو دہائیوں سے خیبرپختون خوا اور بلوچستان کو مسلسل فوجی کارروائیوں، نقل مکانی اور خون ریزی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معدنی وسائل اور کانوں پر کنٹرول کی خواہش کو سلامتی کی پالیسیوں سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ معدنی کانوں پر قبضے یا غیر شفاف معاہدوں سے متعلق ان کے دعوے تحقیق طلب ہیں، مگر ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: بلوچستان اور خیبرپختون خوا کے وسائل کے معاہدے، لیز، منافع، زمینوں کی منتقلی اور مقامی آبادی کے حصے کی مکمل تفصیلات عوام اور منتخب اسمبلیوں کے سامنے کیوں نہیں آتیں؟

مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان کے افغانستان، بھارت اور چین سے تعلقات میں خرابی کو بھی غلط ریاستی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اس دعوے کا ہر پہلو درست مان لینا ضروری نہیں، لیکن یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ پاکستان کی خارجہ اور سلامتی پالیسی طویل عرصے سے پارلیمانی نگرانی سے باہر رہی ہے۔ افغانستان کے ساتھ کشیدگی، بھارت کے ساتھ منجمد تعلقات اور چینی شہریوں اور منصوبوں کو درپیش سلامتی کے خدشات ظاہر کرتے ہیں کہ فیصلوں کا موجودہ بندوبست مطلوبہ نتائج نہیں دے رہا۔ ذمہ داری صرف فوجی قیادت پر نہیں، ان تمام سول حکومتوں اور سیاسی جماعتوں پر بھی عائد ہوتی ہے جنھوں نے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی پر اپنے آئینی اختیار سے دست برداری اختیار کیے رکھی۔

پنجاب کے شہر قصور میں مولانا فضل الرحمٰن کا بڑا جلسہ اس لیے بھی علامتی اہمیت رکھتا ہے کہ فوجی بالادستی کے خلاف تنقید اب صرف بلوچستان، خیبرپختون خوا یا تحریکِ انصاف کے حلقوں تک محدود نہیں رہی۔ یہ زبان پنجاب کے اندر بھی سیاسی سماعت حاصل کررہی ہے۔ یہ دعویٰ کہ ایک جلسے نے فوجی افسر شاہی کو پریشان کردیا، آزاد ذرائع سے ثابت نہیں، لیکن قصور کا اجتماع ضرور بتاتا ہے کہ مقتدرہ مخالف سیاست ایک نئے سماجی اور جغرافیائی دائرے میں داخل ہورہی ہے۔

دوسری جانب چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم کے ذریعے عدالتی ڈھانچے میں ہونے والی تبدیلیوں نے عدلیہ کی آزادی، آئینی مقدمات کی سماعت، ججوں کی تقرری اور انتظامیہ کے اثر سے متعلق بنیادی سوالات پیدا کیے ہیں۔ حکومت ستائیسویں ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام کو فوری اور بہتر انصاف کا ذریعہ قرار دیتی رہی، مگر وکلا اور ناقدین کا مؤقف ہے کہ عدالتی اداروں کی تشکیل نو سے طاقت کا توازن انتظامیہ اور مقتدر حلقوں کے حق میں جھک سکتا ہے۔ وکلا کی مزاحمت اسی وقت معتبر ہوگی جب وہ عدلیہ کی آزادی کو چند پسندیدہ ججوں یا کسی ایک جماعت کا مسئلہ بنانے کے بجائے ہر شہری اور ہر سیاسی قوت کا مساوی حق تسلیم کرے۔

تیسرا بڑا دباؤ تحریکِ انصاف کی مجوزہ احتجاجی تحریک ہے۔ لیکن اس تحریک کی اخلاقی طاقت صرف عمران خان کی رہائی کے مطالبے سے پیدا نہیں ہوگی۔ تحریکِ انصاف کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ صرف اپنے قیدیوں کے لیے آزادی مانگتی ہے یا بلوچ، پشتون، کشمیری، طلبہ، صحافیوں، جبری گمشدہ افراد اور تمام سیاسی قیدیوں کے لیے ایک ہی اصول اپنائے گی۔ کیا وہ صرف اپنے لیے وہ جمہوری گنجائش چاہتی ہے جو اس نے اقتدار میں اپنے مخالفین کو دینے سے انکار کیا تھا، یا اب وہ ماضی کا دیانت دارانہ احتساب کرتے ہوئے ایک وسیع آئینی جمہوری اتحاد کا حصہ بنے گی؟

مولانا فضل الرحمٰن، تحریکِ انصاف، وکلا، بلوچ، پشتون اور کشمیری عوامی تحریکوں کے درمیان تاریخی اور نظریاتی اختلافات بہت گہرے ہیں۔ محض ایک جرنیل، ایک حکومت یا ایک سیاسی مقدمے کی مخالفت ان قوتوں کو پائیدار اتحاد میں نہیں بدل سکتی۔ انھیں ایک کم از کم مشترکہ آئینی میثاق درکار ہے: فوج کی سیاست سے مکمل دست برداری، آزاد انتخابات، پارلیمان کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی، جبری گمشدگیوں کا خاتمہ، سیاسی قیدیوں کی رہائی، صوبائی خودمختاری، وسائل پر مقامی عوام کا حق، آزادیِ اظہار اور پُرامن اجتماع کی ضمانت۔

فوجی افسر شاہی کی موجودہ حکمتِ عملی ناکام ہوتی دکھائی دے سکتی ہے، لیکن اس ناکامی کا مطلب خودکار طور پر جمہوریت کی کامیابی نہیں۔ ایک مقتدرانہ منصوبے کی جگہ دوسرا منصوبہ بھی آسکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری سیاسی جماعتیں پھر کسی نئی مقتدر سرپرستی، نئے پسندیدہ چہرے اور نئے "قومی نجات دہندہ" کی تلاش کریں گی، یا پہلی مرتبہ ایسا اصولی جمہوری معاہدہ کریں گی جس میں کوئی جرنیل، سیاست دان، جج یا مذہبی رہنما آئین سے بالاتر نہ ہو؟

پاکستان کا موجودہ بحران صرف ایک قیدی رہنما، ایک ناراض مولانا، چند مزاحمت کرنے والے وکلا یا سڑکوں پر نکلے عوام کا بحران نہیں۔ یہ اس بنیادی حق کا بحران ہے کہ اس ملک میں اقتدار کا سرچشمہ حقیقتاً عوام ہوں۔ فیصلہ اب یہ ہونا ہے کہ ہم ایک اور تیار شدہ سیاسی "پروجیکٹ" کے منتظر رہیں گے، یا اس کارخانے کو بند کرنے کا مطالبہ کریں گے جہاں عوامی نمائندے بنائے، استعمال کیے اور پھر ڈبے میں بند کردیے جاتے ہیں؟

Check Also

Balochistan Ka Hal

By Javed Chaudhry