Russian Prize
رشین پرائز

ویکا نے گہری آواز میں اعلان کیا، ایوانووچ انٹیلیکچوئل پرائز میں خوش آمدید، پانچ افراد۔۔ ایک پرائز"۔
علی سہیل نے شرارت سے آنکھ ماری "پرائز کیا ہے؟"
ویکا نے اسے گھورتے ہوئے سمجھانا چاہا "یہ ایک فلسفیانہ سوال ہے، کیا ہماری دوستی بذات خود ایک پرائز نہیں ہے؟"
افتی نے میرے کان میں سرزنش کی "دھیان رکھنا، یہ لوگ صرف چائے نہیں، کچھ اور بھی پیتے ہیں"۔
خرم نے ویکا سے کچن کا پوچھا اور کسٹرڈ بنانے کی اجازت چاہی، الیسا اسے کچن دکھانے گئی اور واپس آگئی۔
ویکا ہم سب کو متنبہ کرتے بولی "جہاں بطخیں گنگناتی ہیں، وہاں چمکدار پَر کو تلاش کرو"۔
افتی فوراً بولا، "یہ تالاب کے پاس جانے کا اشارہ ہے، بطخیں اُدھر ہی ہوتی ہیں"۔ ہم سب ہنستے ہوئے تالاب کی طرف لپکے، ایک بطخ نے اس صراحا بدتمیزی پر ہمیں ناگواری سے گھورا، علی سہیل نے جھیل کنارے ایک جھاڑی میں ہاتھ ڈالا اور "واہ" ایک چمکتا ہوا پَر ملا جس پر "نمبر 2" لکھا تھا، افتی پَر کے نیچے جھانک کر بولا "اگلا نشان بھی دیکھ، ضرور کوئی نہ کوئی اشارہ ملے گا"۔
واقعی، ایک چھوٹا کاغذ نکلا، لکھا تھا۔
"جہاں علم سوتا ہے اور کہانیاں جاگتی ہیں
آڑھے ترچھے سانپ کے پاس کتاب تلاش کرو"
کتابوں کی الماری دوسرا سِرا تھا، ہم سب فارم ہاؤس کے اندر لائبریری کی طرف بھاگے، اندر داخل ہوتے ہی ایک عجیب سا نظارہ تھا، ہزاروں کتابیں، کئی پرانی، کچھ روسی زبان میں اور ایک کونے میں آڑھے ترچھے سانپ کی شبیہہ والی کتاب تھی، علی نے کتاب کھولی تو اندر ایک پزل ہمارا منتظر تھا
"وہ کیا ہے جو صبح کے وقت چار ٹانگوں پر چلتا ہے، بوقت دوپہر دو ٹانگوں پر اور بوقت شام تین ٹانگوں پر"
افتی سر کھجاتے بولا، "او بھائی، یہ تو کلاسک رِڈل ہے"۔ میرا سر چکرانے لگا ہے۔
ویکا اور الیسا تالیاں بجاتے لائبریری میں داخل ہوئیں، ویکا بولی "ویل ڈن، یہاں تک پہنچ گئے، تیسرا سِرا ٹوائلٹ میں ہے"
الیسا اپنی ٹھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر گنگنائی "واش روم میں حکمت"
رانا کاشف ناگواری سے بولا "یہ پہلی بار ہے کسی ٹریژر ہنٹ میں ہمیں بیت الخلاء جانا پڑ رہا ہے"۔
علی نے مدح سرائی کی "کم از کم یہ تجربہ بھی ہوگیا"۔
قصہ مختصر واش روم میں نصب شیشے کے پیچھے ایک کاغذ چپکا تھا۔
"آئینہ ہمیشہ سچ دکھاتا ہے، جسے دو نظر آتے ہیں، وہ بوتھ تلاش کرے"۔
رانا کاشف نے غور سے شیشے کو دیکھا اور پیچھے لکڑی کے ایک پرانے کمرے کی طرف اشارہ کیا "وہ سامنے ہے، جہاں پرانے فون بوتھ ہوتے تھے، شاید وہی"۔
"چوتھا سرا: بوڑھا فون اور راز"۔
بوتھ کے اندر ڈائل گھمانے والا ایک پرانا روسی ٹیلی فون پڑا تھا جس کے نیچے ایک خانہ کھلا اور اندر ایک نوٹ ملا۔
"دوستی ایک حقیقی خزانہ ہے، اب بون فائر کی طرف جائیں، جہاں آپ کا انتظار ہو رہا ہے"۔
ویکا اور الیسا باہر موجود تھیں، الیسا نے ہاتھ کے اشارے سے پیچھے لان کی طرف بلایا، جہاں پہلے سے ایک خوبصورت بون فائر روشن اور لکڑی کی کرسیاں سجی ہوئی تھیں، الیسا نے ایک چھوٹی سی "ٹرافی" سب کو تھمائی، جس پر لکھا تھا
"For surviving Russian madness with Pakistani laughter. "
ویکا نے تالیاں بجائیں "تم لوگ بہت ہوشیار ہو، ہم سمجھ رہی تھیں کہ ٹوائلٹ والے کلیو کے بعد تم لوگ مزید نہیں کھیلو گے"۔
اندر سے خرم نمودار ہوتے بولا "پاکستانی ہار نہیں مانتے حتیٰ کہ بیت الخلاء میں بھی نہیں، بائی دا وے تم سب لوگوں کیلئے بہت اچھا کسٹرڈ فریج میں ٹھنڈا ہونے کیلئے رکھ دیا ہے"۔ بون فائر کی روشنی میں ماحول کچھ زیادہ ہی جادوئی لگ رہا تھا، سرد ہوا، جلتی لکڑی کی خوشبو اور قہقہوں کی گونج، سب کچھ کسی پرانی فلم کا منظر لگ رہا تھا۔
جیسے ہی سورج نے فارم ہاؤس کی جھیل کے پانی میں آخری غوطہ لگایا، ویکا اور الیسا نے اعلان کیا، "ٹائم فار بون فائر اینڈ باربی کیو"۔ پاکستانی لڑکوں کے چہروں پر ایسی چمک آ گئی جیسے یونیورسٹی میں فری گریڈز کا اعلان سماعت فرمایا ہو، ویکا نے کوئلے سلگائے، الیسا نے سبزیاں تیار کیں اور پاکستانی لڑکے لکڑیاں یوں اکٹھی کرنے لگے جیسے لمبرجیک اولمپکس میں حصہ لے رہے ہوں، ایک خود کو آگ کا ماہر سمجھتے ہوئے بولا، "یہ کام میرے حوالے" اور اگلے ہی لمحے اس کی پتلون کا کونہ سلگ گیا، الیسا نے گھبرا کر پانی انڈیلا، ویکا ہنسنے لگی۔
باربی کیو پر جب کباب اور زوچینی رکھے گئے تو افتی نے آہ بھری، "دل تو چکن کڑاہی مانگ رہا ہے لیکن قسمت سبز مرچوں سے ہی بہلا رہے ہیں"۔
الیسا اندر سے گٹار اٹھا لائی، خرم نے "دل دل پاکستان" شروع کیا، ویکا اور الیسا نے تالیاں بجائیں اور ماحول ایسا ہوگیا جیسے روس اور پاکستان کی ثقافتی وزارتیں یہ شو سپانسر کر رہی ہوں، فارم ہاؤس کا ماحول اب تک کافی مست تھا، سب نے باربی کیو کے مزے لے لیے اور گانے بھی سنانے شروع کر دیے۔
گانے کی محفل میں اب رومانیٹک فضا بن چکی تھی اور میرے دل کی دھڑکنیں مضطرب تھیں، سب ہنسی مذاق میں مگن تھے، یہ رات کچھ اور ہی شکل میں رنگ گئی، رقص، ہنسی اور ہنر کا یہ مقابلہ فارم ہاؤس میں اتنا خوشگوار اور بے وقوفانہ تھا کہ یہ سب کبھی نہ بھول پائیں گے، ڈانس مقابلے کے بعد فارم ہاؤس کی فضاء کچھ عجیب سی ہوگئی، سب کی ہنسی رکی اور ایک نیا مسئلہ سامنے آیا، ویکا اور الیسا کی خوشبو سے بھری کامیابی کے بعد کسٹرڈ کھانے کا فیصلہ کیا جسے خرم نے خود بنایا تھا، لیکن اس کا جو حال ہوا، وہ اتنا دلچسپ تھا کہ کبھی نہیں بھولے گا۔
خرم نے بھرپور محنت سے پکایا تھا اور پھر اس اپنی محبت کا رنگ ڈالنے کی کوشش کی تھی، اُس کے بقول "کسٹرڈ میں اتنی محبت ڈالنی چاہیئے کہ ہر لقمہ یادگار بن جائے"۔ سب نے پلیٹس بھریں اور پہلے لقمے کا تجربہ کیا، الیسا نے جیسے ہی چکھا، فوراً اس کے منہ سے نکلا: اوہ! یہ کیا ہے؟ یہ تو برباد کر دیا ہے"۔ افتی نے چمچ کے ساتھ کھاتے ہوئے کہا، "یہ تو کچھ زیادہ ہی میٹھا ہے، آپ شائد کوئی تجربہ کر رہے تھے، کسٹرڈ میں ٹماٹو کیچپ ڈال دی ہے؟"
خرم نے وضاحت پیش کی، "صرف ایک چٹکی ڈالی تھی، تاکہ ذائقہ مختلف ہو"۔
ویکا فوراً پکاری، "یہ کسٹرڈ نہیں، یہ کھچڑی بن گئی ہے"۔
سب نے مذاق کیا، تو خرم غصے سے پھنکارا، "سب کچھ ٹھیک تھا، لیکن تم لوگوں کو کبھی بھی کچھ پسند نہیں آتا"۔
ویکا بولی، "کسٹرڈ کا بدلہ ہم تم سے لیں گے"۔ وہ فوراً فارم ہاؤس کے کچن میں گئی اور نئی ترکیب تیار کرنے لگی، الیسا کو کچھ نیا سوجھا، اُس نے کسٹرڈ میں چلی، لہسن اور خشک چٹنی ڈالی، وہ اتنی تیز تھی کہ جس نے چکھا، منہ میں آگ لگ گئی، رانا کاشف نے کسٹرڈ کا چمچ منہ میں ڈالا اور فوراً کہا، "یہ تو کمبخت جیلی کی فیکٹری بن چکا ہے"۔
میں نے مذاق کیا، "یہ خرم کے کسٹرڈ کا بدلہ ہے، روسیوں نے ہمیں جلا دیا"۔ آخرکار سب نے کسٹرڈ سے ہاتھ کھینچا اور گلاسوں میں پانی انڈیل لیا، لیکن ویکا اور الیسا کی مزاحیہ مسکراہٹیں اس پورے عمل کو ایک بے وقوفانہ لیکن دل چسپ لمحہ بنا گئیں، آخرکار، وہ پُرپیچ اور سنسنی خیز رات ختم ہونے کو آئی، فارم ہاؤس میں ایک نئی روشنی پھیل چکی تھی، سب نے ہنسی مذاق کے ساتھ ایک دوسرے کو وداع کیا اور کچھ پل ایسے تھے کہ لگ رہا تھا جیسے یہ کہانی ہمیشہ چلتی رہے گی۔
افتی نے کہا، "آج کی رات بے شک ایڈونچر سے بھرپور تھی لیکن ہم نے دوستی کی اصل طاقت کو محسوس کیا ہے"۔
ویکا گہرا سانس لیتے بولی، "تم سب کے ساتھ گزارا ہوا وقت میری زندگی کا سب سے بہترین لمحہ تھا"۔
الیسا نے کہا، "ہم روسیوں کا یقین تھا کہ ہم یہاں صرف خوشی کے لیے آئے ہیں، لیکن یہاں کی دوستی نے سب کچھ بدل دیا"۔
خرم نے آہ بھری اور کہا، "یاد رکھو، اس فارم ہاؤس کی رات میں ایک راز چھپا ہے اور ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا، چاہے دنیا کچھ بھی کرے"۔
سب نے آخری قہقہہ لگایا اور فارم ہاؤس کی رات کا اختتام ہوگیا، وہ لمحہ ایک ایسی یاد بن گیا، جسے سب کبھی نہ بھولیں گے، بیرونی دروازے پر الوداع کرتے وقت ویکا اور الیسا نے سب کو ایک ایک چھوٹا سا تحفہ دیا، سفید کپڑے میں لپٹا ایک لکڑی کا ڈبہ جس پر ہاتھ سے نام کندہ تھے، جب ڈبے کھولے گئے، تو اندر ایک چھوٹی چابی، ایک نوٹ اور نیچے لکھا تھا
Friendship is the door. Its just a key. Unlock the joy
Vika & Natasha
واپسی کے سفر میں ہم سب خاموش تھے، ڈرائیو کرتے علی سہیل بولا "یارو، میں اب بھی نہیں سمجھا کہ اس ایڈونچر سے ہم نے کیا حاصل کیا ہے؟" خرم اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے گویا ہوا "وہی جو اکثر دوستوں کے ساتھ ہوتا ہے، کچھ نہیں، مگر ہمیشہ یاد رہ جاتا ہے"۔ سب نے اثبات میں گردن ہلا کر تصدیق کی۔

