Monday, 13 July 2026
  1.  Home
  2. Haider Javed Syed
  3. Daman e Qatil Ki Hawa Aur Tarah Ki

Daman e Qatil Ki Hawa Aur Tarah Ki

دامنِ قاتل کی ہوا اور طرح کی

بلاول بھٹو کو پیپلز پارٹی میں بھرتی کروائے گئے بلوچستان امن لشکر (سابق) اور کالعدم لشکر جھنگوی والے شفیق مینگل (شفیق الرحمٰن مینگل) کی رہائش گاہ پر گزشتہ سے پیوستہ روز ہونے والے حملے پر افسوس ہوا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے جرات و بہادری کا خراج تحسین پیش کیا۔ شفیق مینگل جیسے داغدار ماضی کے حامل سفاک شخص کو چند ماہ قبل پیپلز پارٹی میں بھرتی کروایا گیا۔ افسوس کے اُس وقت متروک جیالوں کی نسل کے اِکا دُکا جیالوں نے اس پر شرمساری محسوس کی زیادہ تر یہ کہتے دیکھائی دیئے پیپلز پارٹی سیاسی جماعت ہے کوئی شخص ماضی کا کردار بُھلا کر قومی دھارے میں آنا چاہتا ہے تو بُرائی کیا ہے؟ ہم نے تب بھی یہ عرض کیا تھا کہ سابق امن لشکر کا رزق ہوئے بلوچوں کا خون شفیق مینگل کے دامن پر ہے لیکن اب یہ خون پیپلز پارٹی کے چہرے کی زینت بن گیا۔ ایک جماعت جو ماضی میں دہشتگردی کا شکار رہی آج ایک سکہ بند دہشتگرد کو سیاسی رہنما بننے کیلئے کاندھا فراہم کررہی ہے اس پر کیا کہیں سوائے اس کے کہ "بھاگ لگے رین اور توفیقات میں اضافہ ہو"۔

پاکستان کے زیرانتظام آزاد جموں کشمیر میں ریاست کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج جاری ہے۔ گزشتہ ماہ کے اوائل میں شروع ہوئے اس احتجاج کا آغاز ریاستی و پاکستانی حکومت سے ایکشن کمیٹی کے معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنوانے کے لئے ہوا تھا پھر اچانک راولاکوٹ دھرنے میں ہونے والی بعض تقاریر سے عیاں ہوا کہ ایکشن کمیٹی کی تحریک اصل میں خود مختار کشمیر کیلئے ہے۔ مقررین پاکستان سے مطالبہ کرتے دیکھائی دیئے کہ وہ اپنے زیرانتظام کشمیری ریاست کے حصے سے نکل جائے اس مطالبے اور راولاکوٹ دھرنے میں کی گئی تقاریر کو ریاستی باشندوں کے ایک طبقے کی حمایت حاصل تھی اور ہے بھی لیکن اس امر پر سوالیہ نشان ہے کہ کیا یہ ایکشن کمیٹی کے اجتماعی ضمیر کی آواز ہے یا اس میں شامل لبریشن فرنٹ کے ہمدردوں کی آواز؟ بہر طور تلخ حقیقت یہی ہے کہ آزاد کشمیر میں سب اچھا ہرگز نہیں ہے گو کہ ریاست کے بعض اضلاع میں ہڑتال اور دھرنوں کی وہ صورتحال نہیں جو ماہِ جون کا پورا مہینہ رہی لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ مکمل امن و امان ہے دھرنے ختم اور دکانوں کے شٹر سوفیصد کُھل گئے ہوں آزاد کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے عام انتخابات رواں ماہ کے آخری ہفتے کے دوران ہونے ہیں ایک جانب بعض علاقوں میں دھرنے اور احتجاج جاری ہے۔

دوسری جانب انتخابی مہم بھی شروع ہوچکی دستیاب اطلاعات کے مطابق انتخابی مہم پھیکی پھیکی ہے۔ تحریک انصاف عام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کرچکی لیکن اس کے نامزد کردہ امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس نہیں لئے۔ بعض ذرائع یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ کالعدم قرار دی گئی ایکشن کمیٹی نے انتخابی کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا تو معاملات سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔ اندریں حالات ہم تو یہی عرض کرسکتے ہیں کہ درمیانی راستہ نکالنے کیلئے زمینی حقائق سے رہنمائی لی جائے طرفین طاقت اور جذبات کی بجائے عصری شعور کا مظاہرہ کریں تاکہ بداعتمادی اور عدم برداشت کا خاتمہ ہو۔

خلیج کی بدلتی صورتحال کو جواز بنا کر گزشتہ سے پیوستہ شب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیئے گئے اضافے پر عام شہریوں کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں اتنی زیادہ نہیں بڑھتیں مگر حکمران ٹیکسز کی مد میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ بعض شہریوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم انتظار میں ہیں کہ حکومت کب سانس لینے پر ٹیکس کب لگائے گی۔ یاد رہےکہ گزشتہ سے پیوستہ شب حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 13 روپے 18 پیسے فی لٹر اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 310 روپے 71 پیسے فی لٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 13 روپے 80 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 323 روپے 30 پیسے فی لٹر ہوگئی ہے۔ نیز یہ کہ پٹرول پر لیوی میں 9 روپے 36 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پٹرول پر لیوی 80 روپے فی لٹر ہوگئی، اس سے قبل پٹرول پر لیوی 70 روپے 36 پیسے فی لٹر تھی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں ہر اضافے کے بعد مہنگائی کا جو طوفان اٹھتا ہے اس سے عام شہری کے فقط اوسان خطا نہیں ہوتے بلکہ جینے کی امید میں کمی ہوتی ہے۔ اس پر ستم یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے دعووں کے باوجود شہری اس وقت بدترین مہنگائی کے عذاب کو بھگت رہے ہیں۔ ٹماٹر ہی ساڑھے 3 سو روپے کلو تک فروخت ہورہے ہیں اسی سے مہنگائی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ شکر ہے اپنے حاجی محمد اسحٰق ڈار نے ابھی تک یہ مشورہ نہیں دیا کہ ٹماٹر مہنگے ہیں تو ہنڈیا میں دہی ڈال لیجے ماضی میں وہ ایسے مشورے دیا کرتے تھے۔

لیجے عوام الناس کو مبارک ہو کہ اسلامی جمہوریہ ایٹمی پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن گیا ہے نیز یہ کہ اگر آبادی میں اسی بے ہنگم انداز میں اضافہ جاری و ساری رہا تو اللہ کے فضل اور لوگوں کی کوششوں سے 2050 تک پاکستان کی آبادی 40 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ بتایا جارہا ہے کہ آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 25 فیصد کے لگ بھگ ہے آبادی میں اس تیز رفتار اضافے کی کئی وجوہات ہیں مگر اہم ترین وجہ یہ معروف متھ ہے کہ ہر آنے والا اپنے حصے کا رزق ساتھ لے کر آتا ہے۔ ویسے ہم نے آج تک دنیا میں تشریف لانے والے کسی بچے کے ہاتھ میں نقد رقم کا بیگ دیکھا نہ ہی کوئی کراس چیک بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے یہاں کبھی بھی اس حوالے سے لوگوں کی رہنمائی نہیں کی گئی کہ محض اللہ کے آسرے پر اولاد پیدا کرتے چلے جانا کوئی جہاد ہرگز نہیں بلکہ ہر جنم لینے والے بچے کی تعلیم تربیت اس کے عہد کی ضرورتوں کے مطابق کرنا والدین کا فرض ہے۔

حکومت وقت کو اس کے فرائض کی جانب متوجہ کرنے سے پہلے اپنے فرائض کی ادائیگی پر توجہ دینا لازمی ہے ہمارے ہاں اس طرح سوچنے والے بہت کم ہیں لیکن قدیم متھوں پہ ایمان رکھنے والے زیادہ بہرحال آبادی میں جس رفتار اضافہ ہورہا ہے اس کی بدولت تعلیم صحت روزگار اور دیگر بنیادی سہولتوں پر دباو بڑھ رہا ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس وقت ایک آدمی کے حصے پر تین افراد کا بوجھ ہے نتائج ہم سب کے سامنے ہیں اس لئے یہ عرض کرنا از بس ضروری ہے کہ آبادی میں اضافے کی خطرناک رفتار پر قابو پانے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے ہرشخص کو اپنے حصے کی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونا ہوگا۔

میدانی علاقوں میں برسات کا موسم ابھی باقاعدہ شروع نہیں ہوا حبس ہے جان لیوا حبس لوڈشیڈنگ ہی نہیں بجلی کے نرخوں اور ان پر اوپر تلے چھ سات اقسام کے ٹیکسوں نے بھی مت مار رکھی ہے۔ حکومت تو یوٹیلٹی بلوں میں شامل ٹیکسوں سے کمائی کرلیتی ہے جیسے پیٹرولیم لیوی والا جگا ٹیکس لیا جاتا ہے ایسے میں ٹال پلازہ کے بھتوں میں مسلسل اضافہ کُھلا ظلم ہے ایسا لگتا ہے کہ حکومت ایسے منشیوں کے ہاتھ چڑھی ہوئی ہے جو زیادہ تر اینٹوں کے بھٹوں اور خرکار کیمپوں میں پائے جاتے ہیں۔ عام آدمی کا کوئی پرسان حال نہیں شہری جبر و استحصال کی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پستے چلے جارہے ہیں۔ طبقاتی خلیج وسیع ہوتی جارہی ہے مزے میں اشرافیہ کے طبقات ہیں یا پھر پیر، ملا اور ذاکرین یہ سب عوام الناس کی کمائی پر پلتے ہیں۔ آج نہیں صدیوں سے پل رہے ہیں اصلاح احوال کی کوئی صورت بنتی دور تلک دیکھائی نہیں دے رہی ان حالات میں مصدق ملک اور علی پرویز ملک جیسے "نابغوں" کو کون سمجھائے کہ

دُکھ اور طرح کے ہیں دوا اور طرح کی
اور دامنِ قاتل کی ہوا اور طرح کی

Check Also

Baloch (2)

By Muhammad Haroon Altaf