Degree Attestation Ka Farsooda Nizam, Akhir Kab Tak?
ڈگری اٹیسٹیشن کا فرسودہ نظام، آخر کب تک؟

تعلیم کو کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے۔ والدین اپنی جمع پونجی بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں، طلبہ برسوں کی محنت، بے شمار امتحانات اور ذہنی دباؤ برداشت کرکے ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے اور وہ ہے اس کی اٹیسٹیشن۔ ایک ایسا مرحلہ جو بظاہر چند دستخطوں اور مہروں پر مشتمل نظر آتا ہے، مگر حقیقت میں ہزاروں نوجوانوں کے لیے ذہنی اذیت، وقت کے ضیاع اور غیر ضروری مشکلات کا سبب بن چکا ہے۔
ملک میں جب بھی کسی سرکاری یا نجی ملازمت، بیرونِ ملک تعلیم، اسکالرشپ یا امیگریشن کے لیے درخواست دی جاتی ہے تو اکثر ڈگری کی اٹیسٹیشن لازمی قرار دی جاتی ہے۔ اس عمل کے دوران ایک مرحلہ 18 یا اس سے اوپر کے گریڈ کے افسر سے دستاویزات کی تصدیق کروانا بھی ہوتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں عام شہری کی مشکلات شروع ہو جاتی ہیں۔
ایک عام آدمی دفتر پہنچتا ہے تو کبھی بتایا جاتا ہے کہ صاحب میٹنگ میں ہیں، کبھی کہا جاتا ہے کہ وہ آج دفتر نہیں آئے، کبھی انہیں کسی دورے پر بتایا جاتا ہے اور کبھی صرف ایک دستخط کے لیے اگلے دن آنے کا مشورہ دے دیا جاتا ہے۔ کئی افراد کو ایک ہی تصدیق کے لیے دو، تین بلکہ چار مرتبہ دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ اگر کوئی شخص دور دراز علاقے سے آیا ہو تو اس کے لیے یہ مشکل مزید بڑھ جاتی ہے۔ سفر کے اخراجات، وقت کا ضیاع، روزگار سے چھٹی اور ذہنی پریشانی الگ مسئلہ بن جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر اس اضافی مرحلے کی ضرورت کیوں ہے؟ جب نادرا کے پاس ہماری شناخت کا مکمل ریکارڈ موجود ہے، جامعات کے پاس ہمارے تعلیمی ریکارڈ کی تفصیلات موجود ہیں، HEC اور دیگر متعلقہ ادارے ڈگریوں کی تصدیق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تو پھر ایک 18 گریڈ کے افسر کے دستخط کیوں لازمی ہیں؟ اگر تمام معلومات پہلے ہی سرکاری ریکارڈ میں محفوظ ہیں تو پھر ایک ایسے شخص کی تصدیق کیوں ضروری ہے جس کا اس طالب علم کی تعلیم سے براہِ راست کوئی تعلق ہی نہیں؟
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکثر اوقات افسر صرف شناختی کارڈ اور اصل دستاویز دیکھ کر دستخط کر دیتے ہیں۔ نہ وہ تعلیمی ریکارڈ کی جانچ کر سکتے ہیں، نہ ہی یہ تصدیق کر سکتے ہیں کہ ڈگری اصلی ہے یا جعلی۔ اگر ایسا ہے تو پھر اس مرحلے کا اصل مقصد کیا رہ جاتا ہے؟ کیا یہ صرف ایک رسمی کارروائی نہیں بن چکی؟
بدقسمتی سے ہمارے ہاں کئی سرکاری نظام وقت کے ساتھ بدلنے کے بجائے ویسے ہی چل رہے ہیں جیسے دہائیوں پہلے تھے۔ دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل شناخت اور آن لائن ویریفکیشن کے دور میں داخل ہو چکی ہے، لیکن ہم آج بھی ایک دستخط کے لیے دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں ادارے چند لمحوں میں ایک دوسرے سے معلومات کی تصدیق کر لیتے ہیں، جبکہ ہمارے نوجوان اب بھی کاغذات کے پلندے اٹھائے ایک میز سے دوسری میز تک جانے پر مجبور ہیں۔
یہ مسئلہ صرف وقت کے ضیاع تک محدود نہیں بلکہ عزتِ نفس کا بھی ہے۔ جب ایک پڑھے لکھے نوجوان کو بار بار انتظار کروایا جائے، ایک معمولی دستخط کے لیے کئی دن تک دفاتر کے چکر لگانے پڑیں، تو اس کے دل میں نظام کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہونا فطری بات ہے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے، نہ کہ انہیں غیر ضروری پیچیدگیوں میں الجھائے۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ مسئلہ کسی ایک فرد یا کسی خاص افسر کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے۔ جب طریقۂ کار ہی غیر ضروری مراحل پر مشتمل ہو تو عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ اصل ضرورت اس نظام پر نظرِثانی کی ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ ڈگری اٹیسٹیشن کے عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنایا جائے۔ جامعات، HEC، نادرا اور دیگر متعلقہ اداروں کا ریکارڈ ایک دوسرے سے منسلک کیا جائے تاکہ تصدیق براہِ راست سرکاری نظام کے ذریعے ہو سکے۔ اگر کسی دستاویز کی اصلیت جانچنی ہے تو یہ کام ڈیٹا بیس کے ذریعے چند سیکنڈ میں ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں 18 گریڈ کے افسر کے دستخط کی لازمی شرط خود بخود غیر ضروری ہو جائے گی۔
پاکستان کے نوجوان پہلے ہی بے روزگاری، مہنگائی اور محدود مواقع جیسے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ ایسے میں ان کے لیے مزید دفتری رکاوٹیں پیدا کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔ اگر ہم واقعی نوجوانوں کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ان کے لیے سرکاری نظام کو آسان، شفاف اور جدید بنانا ہوگا۔
وقت آ گیا ہے کہ متعلقہ ادارے خود سے یہ سوال کریں کہ کیا ایک دستخط واقعی اتنا ضروری ہے جتنا اسے بنا دیا گیا ہے؟ اگر ریاست کے پاس ہماری شناخت موجود ہے، اگر تعلیمی اداروں کے پاس ہمارا مکمل ریکارڈ موجود ہے، اگر HEC ہر ڈگری کی تصدیق کر سکتا ہے، تو پھر ایک اضافی تصدیق کی شرط کیوں؟ کیا یہ عوام کی سہولت کے لیے ہے یا صرف ایک ایسا مرحلہ جو برسوں سے روایت کے نام پر چلا آ رہا ہے؟
ایک جدید ریاست کی پہچان اس کے بڑے بڑے منصوبے نہیں بلکہ وہ سہولتیں ہیں جو وہ اپنے شہریوں کو فراہم کرتی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ متعلقہ ادارے اس فرسودہ طریقۂ کار پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور ایسا نظام متعارف کرائیں گے جس میں نوجوانوں کو اپنی قابلیت ثابت کرنے کے لیے دفاتر کے چکر نہیں بلکہ صرف اپنی محنت اور صلاحیت پر اعتماد کرنا پڑے۔

