Wednesday, 08 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Kharidari Karna Bhi Aik Fan Hai

Kharidari Karna Bhi Aik Fan Hai

خریداری کرنا بھی ایک فن ہے

ارضِ پاک میں اشیائے خورد و نوش بالخصوص پھل سبزی کی خریداری کرنا بھی ایک فن ہے۔ جیسے ہی بڑی سی گاڑی سے کوئی باؤ ٹائپ بندہ اُترتا ہے پھل سبزی فروش اپنا ریٹ اس کے سٹیٹس مطابق چڑھا دیتے ہیں۔ بڑے سٹورز کا مسئلہ یہ ہوتا ہے وہاں ریٹس تو یکساں اور مناسب لگے ہوتے ہیں مگر آپ صبح کے وقت جب فریش مال آتا ہے تب جائیں تو اچھا مل جائے گا ورنہ شام تک لوگ چھانٹی کرکے لے جا چکے ہوتے ہیں اور پیچھے باسی یا داغی سامان ہی بچا ہوتا ہے۔ آفس آتے جاتے میں پھل وغیرہ نہیں لیتا۔ اس وقت میرا حلیہ اور گاڑی میری جیب پر بھاری پڑتی ہے۔

میں نے گھر آنا۔ ایک پرانی ٹی شرٹ، کھلے گلے والی اور جس پر ایک آدھ ٹک لگے ہوتے وہ پہننی، نیچے پرانا ٹراؤزر اور رف چپل۔ بیگم بچے ہنستے کہ پاپا پھل لینے جانے کو تیار ہو رہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا کہ گاڑی دور لگا کر میں پیدل چلتا دکان یا ریڑھی پر پہنچتا۔ اگلا بھی حال حلیہ دیکھ کر جان لیتا کہ ماڑا بندہ آ گیا ہے۔ ریٹ مزید مناسب کرا لیتا۔ خدا بڑا مسبب الاسباب ہے۔ اس نے مجھے صورت بھی ایسی دی کہ اگر سیٹ ویٹ نہ ہوں تو غربت کی بھی تھرڈ فارم نظر آتا ہوں۔ شکل ساؤتھ انڈین لوگوں سی، رنگ گندمی اور داڑھی تھوڑی بڑھی ہو تو یقین مانیں راہ چلتا اجنبی بھی ترس کھا سکتا ہے کہ کیسا مسکین اور محنت کش انسان ہے۔ اوپر سے لڑکپن غربت میں گزرا ہوا مجھے ویسے ہی اس جیسی مسکینی طاری کرنا آتی۔ خیر، اب تو ایک چاچا جی مستقل رکھے ہوئے۔ وہ جانتے ہیں اور ریٹ مناسب لگاتے ہیں۔ اب یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔

لیکن ایسا بھی نہیں کہ یہ فارمولہ ہر جگہ کامیاب ہو۔ مجھے ایک پرانا قصہ یاد آ گیا جو تحریر کر چکا مگر پھر لکھ رہا ہوں۔ سردیوں کے ایام تھے، گھر میں رنگ وغیرہ کا کام چل رہا تھا۔ آفس سے چھٹیاں تھیں۔ میری داڑھی بڑھی ہوئی، ٹی شرٹ پر رنگ کے چھینٹے، ٹراوزر کام والا پہنا ہوا اور نیچے رف چپل۔ یونہی شام کو میں مزدوروں سے کام ختم کرا کے باہر نکلا۔ چلتا چلتا ڈرائی فروٹ والے کے پاس پہنچا۔ اس سے پوچھا "چاچا چلغوزہ کس طرح؟"۔ اس چاچے نے نظر اُٹھا کے دیکھا اور بیزاری سے بولا "نئیں ہے گا منڈیا"۔ حالانکہ چلغوزے تو سامنے نظر آ رہے تھے۔ میں نے حیران ہو کے کہا وہ سامنے تو پڑے ہیں۔ چاچے نے بیزاری سے کہا "بوہت مہنگے نیں منڈیا، توں مونگ پھلی لے لے"۔

یہ سُن کر میرا پارہ چڑھ گیا۔ میں فوراً گھر آیا۔ نہا دھو کر وارڈ روب سے بہترین ڈریس نکالا۔ بیگم پوچھنے آئی کہاں جا رہے ہیں؟ میں نے کہا ایک چلغوزے والے کو اپنی اوقات دکھانے، وہ ماجرا سن کر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئی۔ گاڑی نکالی۔ دکان سے بہت دور کھڑی کی۔ ڈپر مارا، ہارن دیا۔ اس نے دیکھا اور دوڑتا دوڑتا گاڑی کے پاس آیا "جی باؤ جی؟"۔ میں نے شیشہ ڈاؤن کیا "چلغوزے کس طرح؟"۔ بولا "باؤ جی، پالش والے گولڈن بارہ ہزار روپے، دوسرے دس ہزار روپے"۔ میں نے کہا "اگر دس کلو لینے ہوں کیا ریٹ ہوگا؟"۔ چاچے کے چہرے پر ایکسائٹمنٹ کے آثار واضح ہوئے۔ جذباتی ہوتے بولا "فیر باؤ جی گولڈن چلغوزہ تہانوں گیارہ ہزار روپے کلو لا دیاں گاں"۔

میں نے بھی سوچا چاچے کے جذبات سے کھلواڑ کروں۔ میں نے پندرہ کلو چلغوزے کا ریٹ مانگا۔ اس نے مزید جذباتی ہوتے ریٹ لگایا۔ جب اس کے منہ میں گاہکی اور منافع کا ذائقہ اچھی طرح آ گیا تو پھر میں نے پوچھا "چاچا مینوں پہچانیا ای؟"۔ بولا "نئیں جی، تُسی حکم کرو"۔ میں نے یہ سُن کر شیشہ آپ کرتے کہا "نئیں چاہیدا کُش" اور گاڑی چلا دی۔ وہ ہکا بکا دیکھتا رہ گیا۔

اگر آپ کو لگے میں کیا ہانک رہا تو بیشک آپ تجربہ کرکے دیکھ لیں۔ یہاں خریداری کرنا بھی ایک فن ہے۔

Check Also

Urdu: Shanakht Ki Zuban Ya Nisab Ki Majboori

By Dr. Saif Wallahray