Masnoi Zahanat Se Khudkar Tajurba Gahon Tak
مصنوعی ذہانت سے خودکار تجربہ گاہوں تک
مصنوعی ذہانت اب صرف مستقبل کا تصور نہیں رہی بلکہ روزمرہ زندگی، صنعت اور سائنسی تحقیق کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے۔ چین نے اس تبدیلی کو بروقت اپناتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں عملی طور پر نافذ کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملک میں ایسے منصوبے سامنے آ رہے ہیں جو نہ صرف کام کو زیادہ محفوظ اور تیز بنا رہے ہیں بلکہ معیشت کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔
بیجنگ میں قائم ایک جدید تجربہ گاہ اس پیش رفت کی نمایاں مثال ہے۔ یہ چین کی پہلی مکمل خودکار اور بغیر عملے کے چلنے والی "ڈارک لیب" ہے، جہاں خطرناک کیمیائی مادوں کی جانچ انسانوں کے بجائے مصنوعی ذہانت اور روبوٹس انجام دیتے ہیں۔ چونکہ اس پورے عمل میں کسی فرد کو اندر موجود رہنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے یہ تجربہ گاہ روشنی کے بغیر بھی کام کر سکتی ہے۔ اس لیبارٹری میں خطرناک اور جلد بخارات بننے والے کیمیائی نمونوں کو وصول کرنے، ان کی جانچ، تجزیہ اور محفوظ طریقے سے تلف کرنے تک تمام مراحل خودکار نظام کے ذریعے مکمل کیے جاتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے 87 جدید آلات اور 56 روبوٹس ایک مربوط نظام کے تحت کام کرتے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی مرکزی نظام ہر نمونے کی نگرانی کرتے ہوئے اس کے لیے تیز ترین اور مؤثر راستہ طے کرتا ہے۔ اس جدید انتظام کی بدولت مکمل جانچ کا عمل صرف ساڑھے تین گھنٹے میں مکمل ہو جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ کارکنوں کی حفاظت ہے۔ پہلے ایسے تجربات کے دوران ماہرین کو حفاظتی لباس، ماسک، دستانے اور دیگر حفاظتی سامان پہننے کے باوجود خطرناک کیمیائی مادوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اب خودکار نظام نے اس خطرے کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نتائج کی درستگی میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اداروں کے اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
چین مصنوعی ذہانت کو صرف تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رکھ رہا بلکہ اسے ڈیجیٹل معیشت کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ بھی بنا رہا ہے۔ اسی مقصد کے تحت ملک میں کمپیوٹنگ بینک قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں کمپنیاں اپنی اضافی کمپیوٹنگ صلاحیت محفوظ رکھ سکتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ استعمال بھی کر سکتی ہیں۔ اس طریقہ کار سے وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہو رہا ہے اور مختلف اداروں کے لیے جدید کمپیوٹنگ سہولیات تک رسائی آسان بن رہی ہے۔
کمپیوٹنگ بینکوں کے قیام سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ متعدد اداروں نے ڈیٹا سینٹرز سے متعلق مالیاتی منصوبے متعارف کرائے ہیں، جن کے ذریعے سرمایہ حاصل کرکے مزید کمپیوٹنگ مراکز تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظام سے سرمایہ کی گردش میں تیزی آئے گی اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی توسیع کا عمل بھی مزید رفتار پکڑے گا۔ چین کی وزارت صنعت و اطلاعاتی ٹیکنالوجی نے رواں سال ایک منصوبہ جاری کیا ہے، جس کے تحت 2028 تک کم لاگت اور آسان رسائی والے کمپیوٹنگ بینکوں کا جامع نظام قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ ادارے مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں اور نئی صنعتوں کی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکے۔
یہ تمام اقدامات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ چین مصنوعی ذہانت کو صرف ایک نئی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اعلیٰ معیار کی ترقی، صنعتی جدت اور مستقبل کی معیشت کا اہم محرک سمجھتا ہے۔ خودکار تجربہ گاہوں سے لے کر کمپیوٹنگ بینکوں تک، ہر قدم اسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے سائنسی تحقیق کو زیادہ محفوظ، صنعت کو زیادہ مؤثر اور ڈیجیٹل معیشت کو زیادہ مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ یہی وہ سمت ہے جو آنے والے برسوں میں نہ صرف چین بلکہ عالمی ٹیکنالوجی کی ترقی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

