Wednesday, 08 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zubair Hafeez
  4. Bidat

Bidat

بدعت

بدعت کا مذہب پر یہ احسان رہا ہے کہ اس کے بغیر مذہب تہذیبی طور پر کبھی سروائیو ہی نہیں کر سکتا تھا۔۔ جہاں پر مذہب نے خود کو تہذیبی طور پر تنہا پایا وہاں بدعت نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے عوام میں مقبول کیا۔۔ بدعت نے بنیادی طور پر اس پل کا کردار ادا کیا جس نے عجم کی اجنبی زمین اور ثقافت کو بیرونی مذہب کے ساتھ ملا دیا بلکہ عوام کے دلوں میں پیوست کردیا۔۔

تصور بدعت ہماری تاریخ میں سب سے زیادہ انڈر ریٹ کیا جانے والا تصور ہے اور اس کی اس طرح تفہیم کی ہی نہیں گئی جس طرح اس کا حق تھا۔۔ مگر بدعات میں ہر دور میں اتنا دم خم رہا کہ وہ ایک ڈی فیکٹو سچائی کی طرح مذہبی معاشرے پر چھائی رہیں۔۔

بے شک تمام بڑے ائمہ، فقہا، محدثین، متکلمین نے بدعات کے خلاف لکھ لکھ کر ورق سیاہ کر دیئے اپنے قلم لولے لنگڑے کردیے، واعظوں کو بے سرا کر دیا، خطیبوں کو گونگا بنا دیا، کتابوں کو بے اثر کر دیس اور بدعاتِ کا سیلاب ہر دور میں غیر بدعتی "اانٹیلکچوئل ایلیٹ" کو اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔۔ ایک طرف علما و فضلا کا علم تھا اور دلائل تھے وہ ہر رسم کو کل بدعتہ ضلالہ کے خانے میں فٹ کرنے پر مصر تھے اور ایک طرف تنہا وہ رسم تھی۔۔ عوام معقولیت سے زیادہ مقبولیت کو ترجیح دیتی ہے۔۔ بدعات ہر دور میں معقول نہیں بلکہ مقبول رہیں۔۔

علما کہتے رہے کہ ہر وہ چیز بدعت ہے جو حضور اکرم کے دور میں نہ ہوئی ہو اور ہم اسے ثواب کی نیت سے کریں یہ بدعت ہے۔۔ اگر علماء کی خود ساختہ بدعت کی اس تعریف کا ایک جائزہ لیا جائے تو بہت سے سوال کھڑے ہو جاتے ہیں۔

سب سے پہلے تو مولویت کا پیشہ ہی سب سے بڑی بدعت ہے۔۔ حضور اکرم کے دور میں کونسے مولوی ہوا کرتے تھے۔۔ کیا دور نبوی میں آٹھ سالہ درس نظامی ہوا کرتا تھا، جہاں ہدایہ، تفسیر جلالین، صحیح بخآری، تفسیر ابن کثیر کے رٹے طالبعلموں کو لگوائے جاتے تھے۔۔ پھر انھیں وفاق المدارس کی سند دے کر معاشرے کا جنازہ اور نکاح خواں بنایا جاتا ہر گز نہیں یہ سب تو حضور ﷺ کے دور کے بعد شروع ہوا کیا ہم اسے بھی بدعت کہیں کیونکہ ہر وہ کام جو حضور کے دور میں نہیں ہوا اور ہم اسے ثواب کی نیت سے کریں وہ تو بدعت ہے۔۔

اس سے تھوڑا اور پیچھے جائیے۔۔ حضور تو امت کو صرف قرآن دے کر گئے تھے نہ کہ فقہ کی کتابیں نہ ہی وہ ہدایہ دے کر گئے تھے، نہ فقہ حنفی، نہ مالکی نہ شافعی۔۔ کیا بدعت کی تعریف کو چست کرکے انھیں بھی بدعت کہیں گے۔۔ میں تو فقہہ کو بھی پھر بدعت حسنہ کہوں گا بلکہ میں تو کہوں گا فقہ کا ادارہ غیر عجمی مسلمانوں کے تہذیبی مسائل کو حل کرنے کے لیے وجود میں آیا۔

جب اسلام عرب سے نکل کر عجم میں پھیل گیا تو عجمی ثقافت کے لئے عربی مذھب ابتدا میں تھوڑا اجنبی تھا اس اجنبیت کو ہر علاقے میں مختلف انداز سے دور کرنے کی کوشش مسلم علماء نے کی۔۔ ہر وہ کوشش اس علاقے کی فقہہ بنتی گی یہی وجہ ہے فقہہ حنفی برصغیر اور سینٹرل ایشیاء میں زیادہ رائج ملے گی، شافعی مصر میں، حنبلی عرب میں۔۔ جس جغرافیے کو جو فقہ راس آئی اس نے اپنا لی اور کہیں اس اجنبیت کو دور کرنے کی کوشش میں تصوف نے بھی جنم لیا۔۔ برصغیر میں بے شک مسلمان بہت پہلے آ گئے تھے مگر اسلام کو مقبولیت صوفیاء کے آنے سے ملے۔۔ تصوف کا مزاج ہندو فلسفے کے بہت قریب تھا اس لیے برصغیر کے ہندوؤں کو اسلام کی تبلیغ تصوف کے پیرائے میں کی۔۔

مولانا عبید اللہ سندھی نے لکھا تھا "آریائی تہذیب کے دو پہلو تھے ایک کی بنیاد دلیل پر تھی اور دوسرے کی بنیاد وجدان پر، اسلام کے بعد دلیل کی شکل علم الکلام نے اختیار کر لی اور موخر الذکر تصوف کی شکل میں نمودار ہوا۔۔ "

اگر آج ڈیرھ انچ فرقے والے وہابی تصوف کو بدعت کی سولی پر لٹکائیں تو میں ان سے پوچھوں گا ان سے پہلے محمد بن قاسم سمیت بہت سے " وہابی" آئے تھے مگر عوام کی اکثریت مسلمان "بدعتی" صوفیاء کے ہاتھوں ہی ہوئی تھی اور وہابی آج بھی ڈیرھ انچ کی اقلیت میں ہیں اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے جدید اپروچ زیادہ مقبولیت پاتی ہے۔۔ پرانے کھونٹے کے ساتھ بندھے رہنے سے آپ زمانے کے حساب سے ایکسپائر ہو جاتے ہیں۔۔

ویسے بھی بدعت بدیع سے نکلا ہے۔۔ جس کا معنی ہے کسی نئی چیز کو وجود میں لانا قرآن میں اس لفظ کو بڑے مثبت الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔۔ جیسے اللہ بدیع السموات والارض۔۔ ترجمہ خدا ہی زمین و آسمان کو وجود میں لانے والا ہے۔۔

ہم تھوڑا آگے چلتے ہیں۔۔ فقہہ سے ہٹ کر احادیت کی کتب کیا حضور امت کو دے کر گئے تھے یا یہ کئی دہائیوں کے بعد لکھی گئیں تھیں۔۔ حضور ﷺ امت کو صرف قرآن دے کر گئے تھے یہ بعد میں بخاری شریف کو اصح کتاب بعد از کتاب اللہ کا لقب دینا یہ کیا بدعت میں شمار نہیں ہوا حضور نے تو قرآن کے بعد کسی کتاب کو ایسا کوئی لقب نہیں دیا تھا۔۔ انھوں نے قرآن لکھنے کے لیے کاتبین وحی بھی رکھے تھے مگر آپ ﷺ نے اپنی پوری حیات مبارکہ میں ایک بھی ایسا کاتب نہیں رکھا جو احادیث لکھتا۔۔ نہ انھوں نے ایسی کوئی تلقین کی۔۔ یہ سب تو صدیوں بعد لکھا گیا اور امت کو صحاح ستہ کے قلعے میں بند کر دیا۔۔

محدّثین نے احادیت کی کتابیں لکھ کر ہی ایک نئی چیز کی ابتدا کی تھی آپ کی تعریف کے مطابق پھر وہ بھی بدعت ہوگی۔۔

آپ کہیں گے صحیفہ ہمام بن منبہ تو دور صحابہ میں لکھا گیا تھا۔۔ صحیفہ ہمام بن منبہ کو پیرس کی لائبریری سے ڈاکٹر حمید اللہ نے دریافت کیا تھا۔۔ اس کی صحت کے حوالے سے کافی اشکالات ہیں۔۔ اس میں گنتی کی چند روایات تھیں سوال تو یہ بنتا ہے مبینہ حدیث کے صحیفے میں گنتی کی چند احادیث تھیں وہ محدثین کے دور تک پہنچتے پہنچتے لاکھوں میں کیسے بدل گئیں۔۔ مگر میں پھر بھی محدثین کی کاوشوں کو بدعت کے کھاتے نہیں ڈالوں گا بلکہ اس نئے کام یعنی تدوین احادیث کو اس وقت کی ضرورت سمجھوں گا۔۔

سب سے زیادہ بصیرت نئی اپروچ اپنانے کے حوالے سے کی جھلک ہمیں خلفائے راشدین کے عہد میں ملتی ہے جب تدوین قرآن کا معاملہ درپیش ہوا تو پہلے خلیفہ کی رائے تھی کہ ہم وہ کام کیوں کر کریں جو حضور اکرم ﷺ نے اپنے دور میں نہیں کیا۔۔ مگر دور عثمان رض کے دور میں جب اختلاف قرات بڑھ گیا تو تدوین قرآن کا کام بھی مکمل ہوگیا۔۔

ہر دور اور تہذیب کی نئی ضرورت ہوتی ہے۔۔ وہ ضرورت خود بخود نئی سے نئی رسوم ایجاد کرکے خود کو مذھب کے ساتھ ہم آہنگ کر لیتی ہے۔۔ پورے برصغیر میں اگر کوئی اس نقطے کو صحیح معنوں میں سمجھا تو امام احمد رضا خان بریلوی صاحب کی شخصیت تھی۔۔ کیا علم و فضل تھا۔۔ وہ ہندو ازم کے مسلمانوں پر اثرات کو سمجھ گئے تھے وہ سمجھ گئے تھے ہندو ذہن ہیرو ازم کا شکار ہے اس لئے انھوں نے میلاد، عرس سمیت بے شمار رسومات کو برقرار رکھا جو ہیرو ازم کی پیدوار تھیں۔۔

اس کے برعکس برصغیر کے زیادہ تر سکالرز نجد والے غزنوی بن گئے اور ہر رسم کو بدعتہ ضلالہ کے خانے میں فٹ کر دیا اور سب سے مایوس اس حوالے سے غامدی صاحب نے کیا۔۔ اپنی کتاب میزان کے صفحہ 639 پر رسوم و آداب کے عنوان سے باب باندھا ہے۔۔ غامدی لکھتے ہیں۔۔

"رسوم زیادہ تر حضور کی بعثت کے وقت دین ابراہیمی کی روایت کے طور پر رائج تھیں۔۔ یہ قرآن سے پہلے ہیں اور ان کی حثیت سنت کی ہے جو حضور کی تقریر و تصویب کے بعد صحابہ کے اجماع اور تواتر عملی سے امت کو منتقل ہوئیں۔۔ "

اس سے ہی اندازہ لگا لیں کہ تہذیب اور مذھب کے تعلق کو بلکل سرسری انداز میں سمجھنے کا کیا حال باقی مکاتب کے ہاں ہوگا۔۔

قدرت اللہ شہاب نے اپنی کتاب شہاب نامہ میں کشمیر کے ایک پیر کا واقعہ لکھا تھا جب ٹارچ نئی نئی ایجاد ہوئی تو اس پیر کے ہتھے چڑھ گئی۔۔ اس نے علاقے میں دعوی کر دیا کہ وہ اپنے مریدین کو تجلی حق کا مشاہدہ کروائے گا اور وہ مشاھدہ یوں ہوتا کہ وہ بغل میں ٹارچ رکھ دیتا اور پورے کمرے میں اندھیرا کرکے مرید کو اندر بلا لیتا اور ہلکا سا ہاتھ ٹارچ کے بٹن پر رکھ دیتا مریدین واقعی اسے تجلی سمجھ کر تاب نہ لا کر بے ہوش ہو جاتے جیسے ہماری وہابی احباب بدعات کو دیکھ کر ہو جاتے ہیں۔۔

Check Also

Aam Aadmi Khofzada Hai

By Syed Imran Ali Shah