Wednesday, 08 July 2026
  1.  Home
  2. Hameed Ullah Bhatti
  3. Pak Turkiye Sharakat Dari Ke Daway Aur Haqaiq

Pak Turkiye Sharakat Dari Ke Daway Aur Haqaiq

پاک ترکیہ شراکت داری کے دعوے اور حقائق

خلیجی جنگ کے بعد میاں شہباز شریف کا دورہ ترکیہ بہت اہم ہے اِس دورے کی بظاہر اہم وجہ دونوں ممالک کا عالمی امور پر ایک دوسرے کو اعتماد میں لینا اور تعاون کو مزید شعبوں تک وسیع کرنا ہے۔ پاک ترکیہ شراکت داری بظاہر روایتی دوستی تک محدود نہیں رہی بلکہ ایسی جامع تزویراتی ہے جس میں اقتصادی سے لیکر دفاعی تعاون شامل ہے مگر دونوں ممالک کے تجارتی حجم پر نگاہ دوڑائیں تو یہ حقیقی صلاحیت سے بہت کم نظر آتا ہے۔ اسی لیے جب دونوں ممالک کی قیادت قریبی تعاون کی بات کرتی ہے تو یقین نہیں آتا ایسا لگتا ہے کہ دونوں ممالک میں تعاون صرف باتوں تک تو محدود ہے۔ عملی طور پر آثار و قرائن سے نفی ہوتی ہے۔ قربت کے دعوے حقائق سے یکسر برعکس ہیں مگر یہ نہیں کہ تعاون کے امکانات ہی نہیں اگر دونوں ممالک کی قیادت شراکت داری کو وسیع کرنے کے لیے سنجیدہ فیصلے اور اقدامات کرے تو حقیقت میں بھی تعاون فروغ پا سکتا ہے جس سے نہ صرف دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ معاشی بہتری بھی یقینی ہے۔

پاک ترکیہ شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم کیا ہے جو اِس وقت ڈیڑھ ارب ڈالر تک محدود ہے۔ یہ نہیں کہ دونوں ممالک میں تجارتی حجم بڑھانے کی گنجائش نہیں بلکہ پانچ ارب ڈالر سے زائد کی نمو موجود ہے لیکن بڑی وجہ ترکیہ کا پاکستانی برآمدات سے دلچسپی نہ رکھنا ہے۔ موجودہ تجارتی توازن مکمل طور پر ترکیہ کے حق میں ہے اور اِس میں پاکستان کا حصہ تہائی سے بھی کم ہے۔ اسی بناپر پاکستان کو تجارت میں بھاری خسارے کا سامنا ہے۔ تجارتی حجم میں کمی کی وجوہات میں محدود ہوتے تجارتی روابط اور بعض اشیا پر بلند شرح محصولات جیسے مسائل ہیں بینکنگ سہولتوں کی کمی الگ بڑا مسئلہ ہے۔ حکومتی سطح کی قربت کے باوجود نجی شعبے میں تعاون کے اثرات محدود ہیں اسی لیے پاکستان کو برآمدات میں خسارے کا سامنا ہے جبکہ ترکیہ دوستی پر تجارت کو فوقیت دیتا ہے۔ اسرائیل سے تجارت و تعاون اِس کی دلیل ہے وہ ملکی مفاد کے تناظر میں فیصلے کرتا ہے لیکن پاکستان کی طرف سے ایسا نہیں ہوتا اسی لیے درآمدات کے مقابلے میں برآمدات کم ہیں دونوں ممالک میں حقیقی استعداد سے بہت کم تجارت ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر طیب اردوان نے رواں ماہ چار جولائی کو استنبول میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران قربت و تعان کی حسبِ روایت کافی باتیں کیں اِس دوران تجارتی حجم کو پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے اقتصادی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا گیا۔ ایسا اِس بنا پر ممکن ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذہبی، تاریخی اور گہرے ثقافتی رشتے ہیں جو تعاون کے لیے فضا سازگار کرنے کے لیے کافی ہیں مگر حقائق یہ ہیں کہ ترکیہ سے مضبوط تعلقات کے باوجود پاکستان کو معاشی فوائد حاصل نہیں ہو سکے حالانکہ ایسی صلاحیت دونوں طرف موجود ہے۔

مسئلہ کشمیر پر اگر پاکستان کی ترکیہ حمایت کرتا ہے تو پاکستان نے بھی قبرص مسئلہ پر ہمیشہ دوست ملک ترکیہ کا ساتھ دیا ہے۔ گزشتہ برس مئی کی پاک بھارت جھڑپ میں ترکیہ نے پاکستانی موقف کی تائید کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کی مذمت کی اسی طرح خلیج جنگ میں بھی دونوں ممالک یکساں پیج پر نظر آئے اور جنگ بندی کے لیے جاری کوششوں میں ایک دوسرے کو تقویت دیتے رہے جو عالمی سفارتکاری میں بہت اہم ہے۔ اِس کے باوجود تجارتی اور معاشی تعاون کی منزل سے دونوں کیوں دور ہیں؟ اِس کا جائزہ لیکر مسائل دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ترک قیادت حساب کتاب میں ماہر ہے وہ خلوص کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی بلکہ مفادکے تناظر میں فیصلے کرتی ہے اُسے پتہ ہے کہ پاکستان کے معاشی حالات درست نہیں اسی لیے سامان بیچتی تو ہے لیکن خریداری میں سُستی دکھاتی ہے۔

مسلم ممالک میں ترکیہ ایک ایسا ملک ہے جو دفاعی سامان کی تیاری میں غیر معمولی مقام کا حامل ہے اُس کی صنعتی مصنوعات بھی جدید اور عالمی معیارکے عین مطابق ہیں جس میں انجینئرنگ، مشینری، تعمیرات شامل ہیں جبکہ سیاحت و ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ افسوس کہ اِن شعبوں میں پاک ترکیہ تعاون بڑھنے کی بجائے زوال پذیر ہے۔ پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے زرعی پیداوار کے ساتھ دیگر نمایاں پیداواری شعبے ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان، آلاتِ جراحی، معدنیات اور آئی ٹی ہیں۔ چمڑے کی برآمدات بھی نمایاں ہیں گزشتہ دو عشروں سے پاکستان نے دفاعی سامان کی تیاری میں بھی دنیا میں اہم حثیت حاصل کرلی ہے۔ لڑاکا طیاروں سے لیکر جدید ترین ٹینک، توپیں، میزائل اور گولہ بارود تک برآمدات کا حصہ ہیں۔ باعثِ تعجب امر یہ ہے کہ ترکیہ کو پاکستان نے تو دفاعی ساز و سامان کی خرید میں ترجیحی مقام دے رکھا ہے لیکن جواب میں ترکیہ کی طرف سے ایسا کوئی اِشارہ نہیں ملتا کہ وہ پاکستان سے دفاعی مصنوعات خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ جب تک دونوں ممالک ممکنہ تعاون کے شعبوں کا جائزہ لیکر عملی اقدامات نہیں کریں گے تب تک پانچ ارب ڈالر کا تجارتی ہدف حقیقت پسندانہ ہونے کے باوجود قابل حصول نہیں ہوگا۔

پاکستان نے ترکیہ سے تعلقات میں ہمیشہ جذباتی وابستگی ظاہر کی ہے لیکن ترکیہ کی منافع خور خو نے تعلقات کو معیشت تک وسیع نہیں ہونے دیا اسی بنا پر بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود عملی طورپر تعاون کے آثار کم ہیں۔ اب تو علاقائی استحکام اور تزویراتی تعاون کی باتیں بھی مصنوعی لگنے لگی ہیں حالانکہ پاک ترکیہ شراکت داری باہمی تعاون اور خودانحصاری کی ایک کامیاب اور ایسی عمدہ مثال بن سکتی ہے جس سے نہ صرف دونوں ممالک کے تجارتی حجم میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ مسلم ممالک کے دفاع میں بھی دونوں ممالک قابلِ قدر کردار ادا کر سکتے ہیں مگر یہ تبھی ممکن ہے جب باتوں سے آگے بڑھ کر عملی طور پر شراکت داری ہو۔

موجودہ عالمی صورتحال میں مضبوط دفاع ایک بار پھر اہم حثیت اخیتار کر گیا ہے جس ملک کا دفاع مضبوط ہو اُسے عالمی قوانین بھی اپنے موقف سے ہٹا نہیں سکتے۔ اسرائیل کی صورت میں نظیر موجود ہے پاک ترکیہ دفاعی اشتراک سے نہ صرف دونوں ممالک اپنی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنا سکتے ہیں بلکہ معاشی و تجارتی فوائد بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ تحقیقی کام کے ساتھ مشترکہ پیدوار کے لیے ٹیکنالوجی کے تبادلہ میں حائل رکاوٹیں دورکی جائیں اور تجارت میں دونوں ایک دوسرے کو ترجیح دیں اگر ایسا نہیں ہوتا تو معاشی اور تجارتی اہداف حاصل ہونامشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔

Check Also

Brazil, Kya Urooj Ka Daur Guzar Chuka?

By Mubashir Ali Zaidi