Jang Khatam, Magar Mehangai Kyun Nahi?
جنگ ختم، مگر مہنگائی کیوں نہیں؟

جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑیں جاتیں، ان کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں اور عام شہریوں کی زندگیوں تک پہنچتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا تو پاکستان میں بھی پٹرول، ڈیزل، ایل پی جی، ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔ عوام کو بتایا گیا کہ عالمی حالات کے باعث یہ اضافہ ناگزیر ہے۔ مگر آج جب جنگ ختم ہو چکی ہے، خام تیل سستا ہوگیا ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی آچکی ہے، تو ایک بنیادی سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے: آخر عوام کو حقیقی ریلیف کب ملے گا؟
بدقسمتی سے پاکستان میں قیمتوں کا نظام یکطرفہ معلوم ہوتا ہے۔ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھیں تو ان کا اثر فوراً عوام تک پہنچ جاتا ہے، لیکن جب وہی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو بازاروں میں اس کی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔ ٹرانسپورٹ کے کرایے جوں کے توں رہتے ہیں، سبزی، پھل، آٹا، چینی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں کم نہیں ہوتیں، جبکہ ایل پی جی بھی کئی علاقوں میں پرانے نرخوں پر فروخت ہوتی رہتی ہے۔
اس کی بنیادی وجہ صرف عالمی معاشی حالات نہیں بلکہ ہمارے اندرونی نظام کی کمزوریاں ہیں۔ مؤثر نگرانی کا فقدان، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، کارٹلائزیشن اور متعلقہ اداروں کی غیر مؤثر کارکردگی وہ عوامل ہیں جنہوں نے عام شہری کو ہمیشہ مہنگائی کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ اگر قانون پر سختی سے عمل درآمد ہو، بازاروں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو تو یقیناً عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔
حکومت کی ذمہ داری صرف پٹرول کی قیمت کم کرنے کا اعلان کرنا نہیں بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ اس کمی کا فائدہ ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری خدمات تک بھی منتقل ہو۔ جب تک قیمتوں کے پورے نظام کو شفاف، منصفانہ اور جوابدہ نہیں بنایا جاتا، تب تک عالمی منڈی میں کمی کی خبریں صرف اخبارات کی زینت بنی رہیں گی۔
ریاست کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہی ہے کہ وہ عوام کی زندگی میں آسانی پیدا کرے۔ اگر جنگ کے اثرات چند دنوں میں عوام تک پہنچ سکتے ہیں تو امن کے ثمرات بھی اسی رفتار سے پہنچنے چاہییں۔ مہنگائی سے نجات صرف معاشی ضرورت نہیں بلکہ عوام کا بنیادی حق بھی ہے۔ جب تک اس حق کو عملی شکل نہیں دی جاتی، ہر قیمت میں کمی کا اعلان عوام کے لیے صرف ایک خبر رہے گا، حقیقت نہیں۔

