Wednesday, 01 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Sarfraz Saeed Khan
  4. Jahan Deeda, Sahib e Tadbeer Air Khirad Mand Insan

Jahan Deeda, Sahib e Tadbeer Air Khirad Mand Insan

جہاں دیدہ، صاحب تدبیر اور خردمند انسان

شکاگو موسم کی شدت کے باوجود ایک انتہائی خوبصورت شہر ہے۔ امریکہ کے شروع کے دنوں میں شکاگو جانا بہت اچھا لگتا تھا۔ یوں سمجھئیے کہ خواہش ہوئی کہ اگر شکاگو ہی چلے جائیں تو اچھا ہوگا۔ ایک بہت عمدہ ملازمت کا موقع ملا اور ہم انٹرویو کیلئے جا پہنچے۔ ہوفمن اسٹیٹ، شکاگو کا ایک بہت ذیلی حصہ اور رہنے کو ایک بہتر جگہ ہے جہاں مجھے انٹرویو کیلئے جانا ہوا۔ انٹرویو بہت اچھا ہوا اور وہاں ڈاکٹروں سے بھی ملاقات ہوئی جن میں ایک نوجوان خوشگوار اور خوش شکل سائیکائٹرسٹ سے بھی ملنا ہوا جس کے والد ہی میڈیکل ڈائرکٹر تھے۔ انٹرویو ختم کرکے آخری ملاقات انہی میڈیکل ڈائرکٹر کے ساتھ تھی اور اس عمر میں وہ کم و بیش میرے والد صاحب کی عمر کے تھے۔ کہنے لگے کہ آپ یہ ملازمت چاہتے ہیں اور میں آپ کو یہ ملازمت کی پیشکش کر رہا ہوں لیکن بہت متانت آمیز سنجیدگی سے کہنے لگے کہ آپ کیوں آنا چاہتے ہیں۔ شکاگو ایک بہت مہنگا شہر ہے اور اپنے نوجوان بیٹے کا ذکر کرتے ہوئے کہنے لگے کہ وہ ایک اپارٹمنٹ میں رہتا ہے اور گھر نہیں خرید پایا۔

بہت شفقت سے سمجھایا کہ میں آپ کو آپ کی خواہش پر ملازمت کی پیشکش کر رہا ہوں لیکن میری رائے میں انڈیاناپلس ایک بہتر شہر ہے اور مالی طور پر آپ زیادہ آسودہ رہیں گے۔ ہم نے ساری شام خریدنے کے لئیے گھر دیکھتے ہوئے گزاری اور بالآخر مجھے اور امبر کو یہی خیال ہوا کہ انڈیاناپلس ایک بہتر شہر ہے اور آج بیس سال گزر گئے اور ہم ابھی بھی یہیں رہتے ہیں اور اپنے فیصلے پر مطمئن ہیں۔ ایک سمجھ دار اور جہاں دیدہ سینئیر ڈاکٹر جن کو ایک کام کرنے والے نوجوان ڈاکٹر کی ضرورت تھی اور شاید اُن کے بیٹے پر سے کام کا بوجھ ہلکا ہو جاتا لیکن اُنہوں نے اخلاقی سچائی اور راست بازی سے ایک نوجوان کو بہتر فیصلہ کرنے کی مدد کی۔

اُن کو یاد کرتے ہوئے امریکہ کے بالکل ابتدائی دنوں میں ایک اسپتال سے وابستگی کے دوران ایک عمر رسیدہ خوشگوار ڈاکٹر کام کرتے تھے اور بعض دنوں میں مجھے اُن کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ہم نے کم و بیش تین ماہ اکٹھے کام کیا اور ایک دن میرے ساتھ بیٹھ گئے۔ کہنے لگے کہ آپ نے وہ سب کچھ حاصل کر لیا جو آپ کرنا چاہتے تھے لیکن اب یہ آپ کے نئی منزلیں تلاش کرنے کا وقت ہے۔ امریکی تعلیمی زندگی کا پس منظر سمجھایا اور قدرے سختی سے کہا کہ یہی وقت ہے کہ آپ نئے مواقع تلاش کریں۔ بہت شاندار تعارفی خط دیا اور مجھے زندگی میں آگے بڑھ جانے کا سجھایا۔

ان کی بات سُن کر میں نے ایک پیشہ ورانہ جریدے کو کھنگالنا شروع کیا اور Yale جیسی یونیورسٹی میں ایک ریسرچ فیلو نما ملازمت کی جگہ دکھائی دی۔ فون گھما ڈالا اور پاکستان کے انداز سے ایک سے زائد بار فون کیا۔ چند ہی گھنٹوں میں ایک خاتون کا جواب آیا کہ پروفیسر صاحب آپ سے بات کریں گے۔ دوسری جانب ایک متین اور سنجیدہ آواز کے مالک انسان دوست ڈاکٹر تھے جو میرے اتنی مرتبہ فون کرنے کا مقصد جاننا چاہتے تھے۔ بہت دھیان سے میری بات سُنی۔ نہ خفا ہوئے اور نہ بُرا بھلا کہا اور بہت رسان سے کہنے لگے کہ میرے پاس تو جگہ نہیں ہے لیکن آپ ڈاکٹر ڈینس چارنی کو فون کر لیجئے اور بغیر کسی جان پہچان کے مجھے اپنا حوالہ دینے کو کہا۔ ایک اجنبی غیر ملکی پر ایک ایسا احسان کر ڈالا جس کا میں آج چاہوں بھی تو شکریہ ادا نہیں کر سکتا۔

ڈاکٹر چارنی امریکہ کے چند سب سے مشہور ترین ڈاکٹروں میں رہے اور ماؤنٹ سائنائی جیسے مشہور ترین میڈیکل اسکول کے اٹھارہ سال تک ڈین رہے۔ شنید ہے کہ بعد میں امریکی صدر کے مشیر بھی مقرر ہوئے۔ مجھے امریکہ میں رہنے میں مدد کیلئیے پہلا موقع دینے میں یہ دونوں سب سے مددگار انسان رہے۔ مدد گار، مشفق اور انسان دوست۔ میں نے اپنا وہ ریسرچ آرٹیکل جس میں ڈپریشن میں دماغی ساخت میں تبدیلی کا لکھا تھا۔ اس میں ڈاکٹر چارنی ہی میرے شریک مطالعہ تھے۔ بہت سالوں بعد سین ڈیاگو میں ایک کانفرنس میں جانا ہوا تو اُن سے ملاقات ہوئی۔ بہت مسرور ہوئے اور دیر تک بات چیت کرتے رہے۔

آئیے دیکھیں کہ ایک عام انسان میں اور ان میں فرق کہاں آیا لیکن اس سے پہلے میں آپ کو ایک چھوٹا سا واقعہ بتانا چاہتا ہوں۔ پچیس چھبیس سال کی عمر میں ایک شخص کو بڑی تیزی سے کار چلاتے دیکھ کر میں کچھ جھؔلا گیا۔ میرے ساتھ موجود ایک دانش مند عزیز کہنے لگے کہ اس بات کو بھی ذہن میں رکھئیے کہ شاید کوئی ایمرجنسی ہو جس سے نمٹنے کیلئے ان کو تیز رفتاری سے جانا ہو۔ اس سمجھ اور فہم کی بات نے ساری زندگی کے لئیے انگریزی کے محاورے کے مطابق دوسرے کے جوتوں میں پاؤں ڈالنے کا یعنی دوسرے کے ممکنہ نقطۂ نظر کا سمجھایا۔ ایک ایسا بنیادی سبق سیکھ لیا جس نے ساری زندگی مدد کی

انسانی نفسیات پُکار پُکار کر کہتی ہیں کہ چالیس سال کی عمر تک اپنے آپ پر کام کر لیجئیے۔ دیکھئیے، محبت کے رشتے بنائیں اور اس دوران اپنی اخلاقیات بہتر بنائیے لیکن جب چالیس سال کی عمر کو جا پہنچیں تو کمر کس لیں اور معاشرے کو لوٹانا شروع کر لیجئیے۔ اب وہ وقت ہے جب آپ کی خرد مندی اور حکمت کو فراست کا روپ دھار لینا چاہییے اور آپ پر یہ ذمہ داری ہے کہ سمجھ بُوجھ کر معاشرے کو بنائیے۔

اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ تو ایک جدید نظریہ ہے تو حیران کُن طور پر قرآن کریم بھی بالکل یہی کہتا ہے کہ جب انسان اپنی پوری قوت کو پہنچے اور چالیس سال کا ہو جائے

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّه، وَ بَلَغَ اَرُبَعِیُنَ سَنَةًۙ-قَالَ رَبِّ اَوُزِعُنِیُۤ اَنُ اَشُكُرَ نِعُمَتَكَ الَّتِیُۤ اَنُعَمُتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنُ اَعُمَلَ صَالِحًا تَرُضٰىهُ وَ اَصُلِحُ لِیُ فِیُ ذُرِّیَّتِیُ ﱂاِنِّیُ تُبُتُ اِلَیُكَ وَ اِنِّیُ مِنَ الُمُسُلِمِیُنَ (15)

یہاں تک کہ جب اپنے زور کو پہنچا اور چالیس برس کا ہوا عرض کی اے میرے رب میرے دل میں ڈال کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی اور میں وہ کام کروں جو تجھے پسند آئے اور میرے لیے میری اولاد میں صلاح رکھ میں تیری طرف رجوع لایا اور میں مسلمان ہوں۔

یہ سوال آپ کو اور مجھے اپنے آپ سے کرنا چاہئیے کہ کیا ہم واپس لوٹانے کیلئے تیار ہیں۔ اوپر کی تینوں مثالوں میں چالیس سال سے زیادہ کے جہاں دیدہ، صاحب تدبیر اور خردمند انسان مدد لوٹاتے پائے گئے۔ یہاں انسانی فراست مدد کی تدبیر کرتی ہے۔ معاشرہ تیار کرتی ہے اور اپنے آپ سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ اگر یہ سمجھ بوجھ خاندانوں میں ہو تو خاندان سمجھ دار گنے جاتے ہیں، والدین دانش مند کہلاتے ہیں اور معاشرہ، صاحب تدبیر اور با بصیرت لوگوں کا معاشرہ کہلاتا ہے۔ اس سب کیلئے کتابیں پڑھی جاتی ہیں، خام مواقع استعمال ہوتے ہیں اور زرگر طلائی سانچے ڈھالتے ہیں۔

اگر معاشرہ علم اور احسان لوٹانے پر تیار نہ ہو اور جب ایسا نہ ہو سکے تو پورے معاشرے دریا بُرد ہو جاتے ہیں۔ اخلاقیات زمین بوس ہو جاتی ہیں اور ایک پوری تہذیب رزق خاک ہو جاتی ہے۔ ایک نسل بربادی کا نوحہ لکھتی ہے اور دوسری نسل خاک شدہ فصل کاٹتی ہے۔ بس دو ہی نسلیں آخری بربادی کی داستان لکھ ڈالتی ہیں۔ خزاں ہرے بھرے جنگلوں پر ہی اُترتی ہے۔

باقی رہے نام اللہ کا

Check Also

Angoor Meethay Hain

By Irfan Javed