Surkh Lakeer Aur Ummat Ka Mustaqbil
سرخ لکیر اور امت کا مستقبل

امریکہ اور ایران کے مابین دہکتی ہوئی دشمنی کی راکھ سے اگر دوبارہ لمبی جنگ کے شعلے بھڑک اُٹھے تو اس کا سب سے ہولناک خمیازہ ایران کی سرزمین اور اس کے معصوم عوام کو بھگتنا پڑے گا ماضی میں امریکی حملوں اور سخت ترین پابندیوں نے ایرانی معیشت کی کمر پہلے ہی توڑ دی ہے۔ اگر ایران نے بین الاقوامی قوانین کو پسِ پشت ڈال کر آبنائے ہرمز سے زبردستی ٹول ٹیکس وصول کرنے کی ضد نہ چھوڑی تو یہ خطہ ایک ایسی خوفناک تباہی کا گہوارہ بن جائے گا جس کا تصور بھی محال ہے آبنائے ہرمز جیسے عالمی تجارتی راستے پر کسی ایک ملک کا حقِ ملکیت تسلیم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اگر ہر ملک اپنے ساحلوں سے گزرنے والے جہازوں سے بھتہ لینے لگے تو عالمی تجارت کا دھارا ہی رک جائے گا۔ اس ممکنہ جنگ کے نتیجے میں ایران کے بجلی گھر، ہسپتال، سڑکیں اور گیس کے ذخائر خاکستر ہو جائیں گے۔
موجودہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور عرب ساحلوں و سمندری حدود میں ایرانی جارحیت نے پورے خطے کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک معمولی سی چنگاری بھی عالمگیر تباہی کا سبب بن سکتی ہے اگر یہ سلسلہ یونہی دراز رہا اور سفارتی کوششیں ناکام ہوگئیں تو اس کا انجام نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے ایک بھیانک خواب کی صورت میں نکلے گا عرب ممالک کی طویل المیعاد خاموشی کو ان کی کمزوری سمجھنا ایک سٹریٹجک بھول ہوگی کیونکہ اگر یہ برادر ممالک اپنی بقا کے لیے محاذوں پر نکل آئے تو ایک ایسی ہمہ گیر علاقائی جنگ چھڑ جائے گی جو صدیوں کے بنیادی ڈھانچے، اقتصادی ترقی اور تیل کی عالمی سپلائی چین کو یکسر مفلوج کر دے گی خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری تجارتی راستوں کی بندش سے عالمی منڈیوں میں توانائی کا بحران پیدا ہوگا جس سے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دونوں بلاک معاشی تنزلی کا شکار ہو جائیں گے اس صورتحال میں امریکی مداخلت محض علامتی نہیں ہوگی بلکہ واشنگٹن ایران کے نیوکلیئر پلانٹس، اہم فوجی بیرکوں، فضائی دفاعی نظام اور ساحلی میزائل تنصیبات کو چن چن کر نشانہ بنائے گا جس کے نتیجے میں ایران تکنیکی اور معاشی لحاظ سے کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دیا جائے گا۔ جنگ کے وہ بھیانک پہلو جو عام نظروں سے اوجھل ہیں ان میں بڑے پیمانے پر انسانی ہجرت، ماحولیاتی آلودگی، سمندری حیات کی تباہی اور خطے میں ایسے نئے عسکری گروہوں کا ابھار شامل ہے جو طویل عرصے تک فرقہ وارانہ اور جغرافیائی انتشار کو ہوا دیتے رہیں گے، جس کا حتمی انجام صرف اور صرف پچھتاوا اور بربادی ہوگا۔
مشرقِ وسطیٰ کے اس ہولناک بحران کا سب سے زیادہ حساس اور بھیانک رخ وہ ممکنہ منظرنامہ ہے جہاں ایران کی پشت پناہی سے یمنی حوثی اپنے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی سنگین غلطی کر بیٹھیں یہ ایک ایسی سرخ لکیر ہے جس کے پار جاتے ہی جنگ کا پورا رخ بدل جائے گا کیونکہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پاکستانی فوج اپنے سٹریٹیجک معاہدوں اور ایمانی جذبوں کے تحت ڈھال بن کر سامنے کھڑی ہوگی۔ اس کے نتیجے میں برادر ملک ایران کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تعلقات شدید ترین دباو کا شکار ہو جائیں گے۔ اگر تہران کے ان ہتھکنڈوں کے باعث پاکستان جیسا مضبوط ترین ہمسایہ بھی اس کی اخلاقی اور سفارتی حمایت سے دستبردار ہوگیا تو ایران خطے میں مکمل طور پر تنہا اور بے یارومددگار ہو جائے گا جس کا انجام اس کی اپنی بقا کے لیے ہلاکت خیز ثابت ہو سکتا ہے پاکستان ہمیشہ یہی چاہے گا کہ یہ جنگ کسی بڑے سانحے کے بغیر رک جائے کیونکہ ایران کی ممکنہ شکست پورے خطے کے توازن کو ملیا میٹ کر دے گی اور اس جغرافیائی مرکز پر ایسی استعماری قوتیں قابض ہو جائیں گی جو پورے اسلامی بلاک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
اگر یہ جنگ بند نہ ہوئی تو عالمی تجارتی شریانیں اس طرح خشک ہو جائیں گی کہ پوری دنیا کا معاشی نظام سکتہ میں آ جائے گا خصوصاً آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستے پر اگر ایران نے ٹیکس یا ٹول ٹیکس وصول کرنے کی بدعت شروع کی تو یہ بین الاقوامی سمندری قوانین کی موت ہوگی جس کی دیکھا دیکھی ہر ملک اپنے سمندروں میں من مانی قیمت وصول کرنے لگے گا اور یوں عالمی ایکسپورٹس مکمل طور پر تباہ و برباد ہو کر رہ جائیں گی اس ہولناک معاشی جمود اور نسلوں کو نگل جانے والی جنگ کو روکنے کے لیے چین، روس، برطانیہ اور یورپی یونین جیسی بڑی طاقتوں کو فوری اور مخلصانہ سفارتی کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ تاریخ ان کی مجرمانہ خاموشی کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔

