Friday, 24 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sarfraz Saeed Khan
  4. Har Safar Ki Aik Qeemat Hoti Hai

Har Safar Ki Aik Qeemat Hoti Hai

ہر سفر کی ایک قیمت ہوتی ہے

کم و بیش تین دہائیاں یعنی ایک عمر ہی گزر گئی جب اوماہا نبراسکا میں ریزیڈنسی کے سال اول کا اختتام قریب تھا جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ والدہ محترمہ کی طبیعت بگڑ رہی ہے۔ اُس وقت تک میں اُن کو یہاں بلانے کی ساری ممکنہ کوششیں کر چُکا تھا۔ Oncology یعنی کینسر کی صدر شعبہ سے ملاقات ہوئی جو کہنے لگیں کہ میں کوشش کرتی ہوں کہ دوا کا بندوبست ہو سکے لیکن بہت پُر امید نہیں تھیں۔ انشورنس کا نہ ہونا ایک مشکل مرحلہ تھا۔

اس دوران ہماری اوماہا کی مسجد میں ایک عالم دین آئے۔ اب یاد نہیں لیکن غالباََ جمعہ کا خطبہ دینے آئے تھے۔ اُن سے چند منٹوں کی ملاقات کی درخواست کی اور حال احوال کہا۔ بہت نرم دل اور سمجھدار آدمی تھے۔ کہنے لگے کہ اگر آپ امریکہ میں علاج نہیں کروا سکتے تو وہاں کروائیے جہاں ممکن ہو اور کسی بھی غیر شرعی راستے کو لینے سے سختی سے منع کیا۔

اتنی دیر میں میری والدہ صاحبہ سے گفتگو ہوئی جنہوں نے عندیہ دیا کہ اگر میں بھی آ جاؤں تو علاج پاکستان میں چلتا رہے گا۔ فیضان کی پیدائش میں ابھی چند ہی دن باقی تھے۔ اس دوران USMLE سٹیپ تھری کی تاریخ بھی لے چُکا تھا۔ غالباََ پانچ دسمبر کو امتحان دیا اور امتحان دیتے ہی کینیڈا کا رخت سفر باندھا۔ ویزے کی ضرورت تو تھی ہی لہذا اوماہا سے پہلی ٹکٹ سئیاٹل کی لی اور وہاں سویرے منہ اندھیرے ڈاؤن ٹاؤن جا پہنچے اور کینیڈا کی ایمبیسی تلاش کرکے وہاں جا کر ویزہ کے کاغذات جمع کروائے۔ موسم رمضان تھا اور سئیاٹل کا موسم تکلیف دہ سرد تو نہیں لیکن حالت صیام میں کچھ سردی بھی زیادہ ہی لگتی ہے۔

بعد دوپہر ویزہ ملا اور اگلے دن سئیاٹل امریکہ سے وینکوور کینیڈا کی پرواز تھی۔ اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ دونوں شہر کتنے قریب ہیں تو شاید میں ڈرائیو کرنے کا بھی سوچتا۔ وقت پرواز بمشکل تیس یا پینتیس منٹ کا تھا۔ وینکوور بہت سالوں سے رہنے کو دنیا کا بہترین شہر گنا جاتا ہے۔ اس کی خوبصورتی آپ کو مبہوت کرکے رکھ دیتی ہے۔ برف پوش چوٹیوں کے بیچ میں سمندر ہے اور شہر سمندر کے دونوں جانب پھیلا ہوا ہے۔ بیچ میں sea taxis چلتی ہیں جو شہر کے دونوں حصوں کو ملاتی تھیں۔ کینیڈا آنے سے پہلے ہی میں ایک B&B میں کمرہ لے چُکا تھا۔ ائیرپورٹ سے ٹیکسی لی جس کا نوجوان ڈرائیور ایک خوش مزاج مسلمان تھا۔ B&B نہ صرف بہت آرام دہ تھا بلکہ اُس کی مالک کو جب اندازہ ہوا کہ میں مسلمان ہوں اور میرا روزہ ہوگا تو وہ ناشتہ بمعنی سحری جلد دینے کا انتظام کر دیتی تھیں۔ پاس ہی ایک حلال کھانے کا بہت عمدہ عربی ریسٹورنٹ تھا جہاں افطار کیلئے بہت اچھا انتظام تھا۔ عربی بیبیاں افطار سے پہلے کم لباسی اختیار کئیے رکھتی تھیں لیکن مغرب سے عین پہلے با پردہ ہو کر حجاب اوڑھ لیتی تھیں۔

امریکن ایمبیسی کے ویزہ کی قطار میں پاکستانی یا بھارتی تو کم ہی تھے لیکن یورپین بہت سے تھے۔ ویزے کے انتظار میں چند ایک سے کچھ بات چیت ہوئی اور اُن سے پوچھا کہ کیا وہ امریکہ کو اپنا وطن بنانا پسند کریں گے تو یقین جانئیے کہ شاید ایک نے بھی اس خواہش کا اظہار نہیں کیا۔ ویزا لینے کیلئے نہ کوئی شیشہ لگا کاؤنٹر اور نہ کوئی سوال جواب۔ ویزا آفیسر کے سامنے عزت نفس کے ساتھ بیٹھنے کو ایک آرام دہ کرسی تھی۔ پوچھنے پر آئے تو دو ایک ہی جملے کہنے کی ضرورت پڑی کہ یہاں ایمبیسی اس لئیے ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کو تکلیف نہ ہو۔ نہ سوال جواب کا جھنجھٹ اور نہ بینک اسٹیٹمنٹ کا تکلف۔ کچھ دیر بعد آ کر ویزا لگا ہوا پاسپورٹ لینے کا کہا۔ سالوں پہلے جس چیز نے مطمئن کیا، آج عمر سے وابستہ دانائی نے یہ کہا کہ پاکستان میں شیشے کے پیچھے کھڑے ہو کر انٹرویو دینے اور شمالی امریکہ میں آرام دہ کرسی پر بیٹھ کر ویزہ لینے کا فاصلہ صرف جسم کی وضع کا فرق ہی نہیں بلکہ یہ دو براعظموں اور پھر شخصی اور قومی عزت کا فرق ہے۔۔

آہ! اس راز سے واقف ہے نہ مُلّا، نہ فقیہ
وحدت افکار کی بے وحدتِ کردار ہے خام

قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام!

غریب الوطنی کیسی ہی کیوں نہ ہو خواہ وہ اختیاری ہو یا جبری۔ معاشی ہو یا معاشرتی، عمر کے آغاز میں ہو یا نوجوانی کے موسم بہار میں۔ جواں عمری کے طاقتور سالوں میں ہو یا زندگی کی گہری ہوتی ہوئی شام میں، کیسے بھی حالات کا اضطرار ہو جو آپ کو اپنا آبائی گھر چھوڑنے پر مجبور اور جلاوطنی کی ذلت برداشت کرنے پر مجبور کردے۔ وہ گھر جہاں آپ نے بچپن گزارا ہو، کھلونوں کے گم جانے پر ہچکیاں لے کر روئے ہوں۔ لڑکپن کے روپہلے اور نوجوانی کے دمکتے ہوئے خواب دیکھے ہو۔ کسی دل آرا کا خواب دیکھا ہو۔ جن جوان اور طاقتور والدین کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھا ہو، ایک دن اُن کو کم زور اور بوڑھے ہوتے ہوئے دیکھا ہو اور پھر وہیں اُن کو قبر میں اتارا ہو۔ اپنے آنسوؤں سے بھیگتے ہوئے ہاتھوں سے مٹی دی ہو۔ اُس جلا وطنی کا دُکھ آپ کی نس نس میں اُتر جاتا ہے اور آپ کسی بھی گلی کوچے، کسی بھی شہر کو دل سے اپنانے کے قابل نہیں رہ جاتے۔ شہر خاص بھی عشق خاص کی طرح بس ایک ہی ہوتا ہے۔

والدین میں ہر ایک کے جانے کے بعد، اُن کو مٹی دینے کے بعد کی پہلی تاریک تر شام اور دنیاوی جُدائی کی پہلی اماوس کی رات جس گھر کے آنگن میں آنسو سنبھالتے ہوئے گزاری ہو، وہ گھر، محلہ شہر اور ملک کسی بھی بے اختیاری کے ہاتھوں کتنا ہی اجنبی کیوں نہ ہو جائے، ایک لحاظ سے آپ کا ہی رہتا ہے۔ وہ آنگن، وہ گلیاں، وہ چوبارہ، وہ بھیگتی ہوئے شام اور وہ تاریک رات یادوں میں ایسے بس جاتے ہیں کہ خوابوں میں بھی جب والدین کو دیکھیں تو بھی پس منظر وہی رہتا ہے۔ اُسی گھر کا پس منظر جہاں سر پر ہاتھ رکھنے والے وہی شفیق چہرے تھے۔ واپسی کے خواب کی شرطوں میں سے کوئی ایک بھی پوری نہیں ہوتی۔ پھر بھی ہم لوٹتے ہیں شاید یہی دیکھنے کو کہ کہیں

اس سے پہلے کہ وہاں جائیں تو یہ دکھ بھی نہ ہو

یہ نشانی کہ وہ دروازہ کھلا ہے اب بھی

اور اس صحن میں ہر سو یونہی پہلے کی طرح

فرش نومیدیٔ دیدار بچھا ہے اب بھی

ہر سفر خواہ وہ کامیابی کا سفر ہو یا پھر گزرتی زندگی کا۔ کچھ قیمت بھی ضرور ہوتی ہے اور کچھ ادا بھی کرنا پڑتا ہے۔ بعض قیمتیں مانوس فضا سے نامانوس اجنبی موسموں کے سفر، جانے پہچانے چہچہاتے پرندوں، سنہری صبحوں اور دمکتی شاموں سے بے مہر موسموں یا پھر انجانی راہوں اور نا آشنا گلی کُوچوں کی سفر کی صورت میں ادا ہوتی ہیں۔

بعض قیمتیں آشنا اور مانوس زبان سے دوری اور اجنبی زبان سے آشنائی کی صورت میں ادا ہوتی ہیں اور کبھی نا آشنا صورتیں اور کبھی ہمیشہ غیر ملکی کہلائے جانا ہی سکۂ رائج الوقت ٹھہرتا ہے۔ کاسے کو کھنگال لیں، قیمت دینے کی ہمت آسان نہیں۔

Check Also

Nai Nasal Ka Mustaqbil

By Najeeb ur Rehman