Friday, 24 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohsin Khalid Mohsin
  4. Maa Ki Khamosh Dua

Maa Ki Khamosh Dua

ماں کی خاموش دُعا

شام ڈھل رہی تھی۔ سورج یوں لگ رہا تھا جیسے آگ کا سُرخ چراغ آہستہ آہستہ پہاڑوں کے پیچھے اُتر رہا ہو۔ ایک بیوہ عورت جس کا نام زینب تھا لکڑیاں چُن کر اپنے گاؤں واپس جا رہی تھی۔ اس کی زندگی ایک سوکھے درخت کی مانند تھی۔ شوہر برسوں پہلے دُنیا سے جا چکا تھا۔ نہ کوئی اولاد تھی نہ کوئی سہارا، مگر اس کے دل میں محبت کا ایک ایسا چشمہ بہتا تھا جو کبھی خشک نہ ہوتا تھا۔

جنگلی راستے کے کنارے جھاڑیوں میں سے اچانک کسی ننھے بچے کے رونے کی آواز آئی۔ زینب چونک اٹھی۔ وہ آواز کی طرف بڑھی۔ جھاڑیوں میں ایک نومولود بچہ کپڑے میں لِپٹا پڑا تھا۔ اس کے ننھے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھے ہوئے تھے جیسے وہ دنیا سے زندگی کی بھیک مانگ رہا ہو۔

زینب کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

"بیٹا۔ اب تو اکیلا نہیں رہے گا"۔

اس نے بچے کو سینے سے لگا لیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے اس کا خالی آنگن بہار سے بھر گیا ہو۔

گاؤں پہنچی تو لوگوں کی نظریں اس پر جم گئیں۔

"یہ بچہ کہاں سے آیا؟"

کسی نے طنزیہ کہا۔

"کہیں اپنا گناہ تو نہیں چھپا رہی؟"

دوسرا بولا:

ایک بدزبان عورت نے زور سے کہا:

"یہ تو حرام زادہ ہے"۔

یہ لفظ زینب کے دل پر ایسے لگا جیسے کسی نے تازہ زخم پر نمک چھڑک دیا ہو۔ مگر اس نے جواب نہ دیا۔ وہ جانتی تھی کہ خالی برتن زیادہ بجتے ہیں۔

اس نے بچے کا نام احسان رکھا۔

دن گزرتے گئے۔

زینب دن بھر محنت کرتی۔ کبھی لوگوں کے کپڑے سیتی۔ کبھی کھیتوں میں کام کرتی۔ کبھی لکڑیاں بیچتی۔ رات کو جب تھک کر لوٹتی تو احسان کو گود میں لے کر لوری سناتی۔

وہ کہتی:

"بیٹا۔ انسان کا اصل نسب اس کے کردار سے پہچانا جاتا ہے"۔

احسان مسکرا دیتا۔

گاؤں والے پھر بھی نہ بدلے۔

کوئی کہتا:

"یہ بچہ معلوم نہیں کس کا ہے"۔

کوئی کہتا:

"ایسے بچوں سے دور رہو"۔

زینب ہر طعنہ خاموشی سے سہہ لیتی۔ صبر کا گھونٹ پینا اس کی عادت بن چکی تھی۔ اس کا دل سمندر جیسا وسیع تھا۔ پتھر پڑتے رہے مگر اس کی گہرائی کم نہ ہوئی۔

احسان بڑا ہونے لگا۔

وہ ذہین تھا۔ پڑھائی میں اچھا تھا۔ زینب نے اپنی ایک ایک جمع پونجی اس کی تعلیم پر لگا دی۔ کئی راتیں وہ خود بھوکی سو جاتی مگر بیٹے کو دودھ اور کتاب ضرور خرید کر دیتی۔

جب احسان کالج جانے لگا تو اس کی دوستی کچھ ایسے لڑکوں سے ہوگئی جن کے دل حسد سے بھرے ہوئے تھے۔

ایک دن ایک لڑکے نے کہا:

"تمہیں معلوم بھی ہے تم کون ہو؟"

احسان چونکا۔

"کیا مطلب؟"

وہ ہنس کر بولا:

"پورا گاؤں جانتا ہے تمہاری ماں نے تمہیں کہاں سے اٹھایا تھا۔ اصل بات تو کوئی اور ہی ہے"۔

دوسرے نے آگ میں گھی ڈالا۔

"لوگ کہتے ہیں وہ خود بدکار تھی۔ تم اسی کی نشانی ہو"۔

یہ الفاظ زہر کی طرح احسان کے دل میں اتر گئے۔

وہ کئی دن خاموش رہا۔ آخر ایک شام اس نے زینب سے پوچھا۔

"میرا باپ کون تھا؟"

زینب کا چہرہ زرد پڑ گیا۔

اس نے نرمی سے کہا:

"بیٹا۔ وقت آئے گا تو سب بتاؤں گی"۔

احسان غصے میں آگیا۔

"سچ یہ ہے کہ تم بدکار تھیں۔ تم نے مجھے لوگوں سے چھپایا"۔

یہ سُن کر زینب کے قدم ڈگمگا گئے۔

اس نے روتے ہوئے کہا:

"خدا کے لیے ایسی بات نہ کہو"۔

مگر احسان کے کانوں پر جُوں تک نہ رینگی۔

اس نے کہا:

"آج کے بعد میرا تم سے کوئی تعلق نہیں"۔

یہ کہہ کر وہ گھر چھوڑ گیا۔

زینب دیر تک دروازے پر کھڑی رہی۔ اس کی آنکھیں راستے کو تکتی رہیں۔ اس کا دل ٹوٹے ہوئے آئینے کی طرح بکھر چکا تھا۔

وقت گزرتا گیا۔

زینب بڑھاپے کا شکار ہوگئی۔ اب نہ اس میں پہلے جیسی طاقت تھی نہ کمانے کی ہمت۔

وہ کبھی کسی کے دروازے پر روٹی مانگتی۔ کبھی مسجد کے صحن میں بیٹھ جاتی۔ لوگ اسے دھتکار دیتے۔

"ہٹو یہاں سے"۔

"کام کیوں نہیں کرتی؟"

وہ خاموش رہتی۔

ایک سرد رات بارش برس رہی تھی۔ زینب ایک ویران سڑک کے کنارے بیٹھی تھی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔

"اے میرے رب۔ میرے بیٹے کو خوش رکھنا۔ اگر اس نے مجھے ٹھکرایا بھی ہے تو اسے معاف کر دینا"۔

یہ اس کے آخری الفاظ تھے۔

صبح لوگوں نے دیکھا کہ زینب دنیا سے جا چکی تھی۔

اسے خاموشی سے دفنا دیا گیا۔

اِدھر کئی برس بعد احسان ایک سرکاری دفتر میں ملازم بن گیا۔

ایک دن وہ کسی کام سے پرانے گاؤں آیا۔

وہاں ایک بوڑھا چرواہا ملا۔

اس نے پوچھا:

"بیٹا۔ کیا تم زینب کے بیٹے ہو؟"

احسان نے سرد لہجے میں کہا:

"ہاں"۔

بوڑھے کی آنکھیں بھر آئیں۔

"تم نے اپنی ماں پر بہت بڑا ظلم کیا"۔

احسان حیران رہ گیا:

بوڑھے نے پوری کہانی سنائی۔

"ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ تم جھاڑیوں میں پڑے تھے۔ تمہاری ماں نے تمہیں خدا کی امانت سمجھ کر اٹھایا تھا۔ اس نے کبھی شادی نہیں کی۔ ساری زندگی تمہارے لیے گزار دی۔ لوگوں کے طعنے سہے۔ بھوک برداشت کی۔ سردی برداشت کی۔ مگر تمہیں کبھی احساس نہ ہونے دیا کہ تم اس کے سگے بیٹے نہیں تھے"۔

احسان کے ہاتھ کانپنے لگے۔

اسے یوں لگا جیسے آسمان اس کے سر پر آ گرا ہو۔

وہ دوڑتا ہوا قبرستان پہنچا۔

ماں کی قبر پر گر پڑا۔

"اماں۔ مجھے معاف کر دو"۔

اس کے آنسو مٹی میں جذب ہوتے رہے۔

وہ دیر تک روتا رہا۔

اس دن کے بعد احسان کی زندگی بدل گئی۔

اس نے فیصلہ کیا کہ اپنی ماں کے گناہ نہیں بلکہ اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرے گا۔

ہر صبح سورج نکلنے سے پہلے وہ سڑکوں پر نکل جاتا۔ شہر کے گلی کوچوں میں پھرتا۔ ریلوے اسٹیشن جاتا۔ بس اڈوں پر جاتا۔ اسپتالوں کے باہر جاتا۔

وہ ہر اس جگہ دیکھتا جہاں کوئی لاوارث بچہ مل سکتا تھا۔

وہ سوچتا:

"اگر ایک بھی بچہ مل گیا تو میں اسے اپنی ماں کی طرح پالوں گا"۔

مگر اسے کبھی کوئی بچہ نہ ملا۔

مہینے سالوں میں بدل گئے۔

پھر بھی وہ تلاش کرتا رہا۔

لوگ حیران ہوتے۔

"تم روز کیا ڈھونڈتے ہو؟"

وہ مسکرا کر کہتا۔

"اپنی ماں کی دعا"۔

ایک دن ایک بوڑھے فقیر نے اس سے کہا:

"بیٹا۔ لاوارث بچے صرف سڑکوں پر نہیں ہوتے۔ بہت سے بچے زندہ والدین کے ہوتے ہوئے بھی محبت سے محروم ہوتے ہیں"۔

یہ بات احسان کے دل میں اُتر گئی۔

اس نے ایک یتیم خانے کا رُخ کیا۔

وہاں درجنوں بچے تھے۔ کوئی ماں کو یاد کرکے رو رہا تھا۔ کوئی باپ کی تصویر سینے سے لگائے بیٹھا تھا۔

احسان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

اس نے یتیم خانے کی خدمت شروع کر دی۔ بچوں کے لیے کتابیں لاتا۔ کپڑے خریدتا۔ ان کے ساتھ کھیلتا۔ انہیں پڑھاتا۔ ہر بچے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے اپنی ماں یاد آتی۔

یتیم خانے کے دروازے پر اس نے ایک تختی لگوائی۔

"ماں کا دل آسمان سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ اس پر شک نہ کرنا"۔

گاؤں والے جب یہ تختی پڑھتے تو خاموش ہو جاتے۔

احسان جان گیا تھا کہ زبان کا ایک زخم تلوار کے زخم سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ وہ یہ بھی سمجھ چکا تھا کہ سچ سورج کی طرح ہے۔ بادل اسے کچھ دیر چھپا سکتے ہیں مگر ہمیشہ نہیں۔

اس نے زندگی بھر کسی لاوارث بچے کو تلاش کرنا نہ چھوڑا کیونکہ اسے یقین تھا کہ شاید کسی دن وہ کسی ایسے بچے کو سینے سے لگا سکے جس طرح اس کی ماں نے کبھی اسے لگایا تھا۔

اور جب بھی وہ کسی بچے کو محبت سے ہنستے ہوئے دیکھتا تو آہستہ سے کہتا۔

"اماں۔ آج بھی میں آپ سے معافی مانگ رہا ہوں۔ شاید میری باقی زندگی بھی اس ایک غلطی کا کفارہ ادا نہ کر سکے"۔

Check Also

Haqeeqaten (6)

By Babar Ali