Friday, 24 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zubair Hafeez
  4. Wadi e Kaghan Ka Husn

Wadi e Kaghan Ka Husn

وادی کاغان کا حسن

وادی کاغان ہفتہ بہ ہفتہ مجھے اپنا اسیر بنا رہی ہے۔۔ ایک ناران کاغان وہ تھا جسے بچپن میں اردو کی کتاب میں پڑھا کرتے تھے یا تصویروں میں دیکھا کرتے تھے۔۔ اس وقت صرف سیف الملوک جھیل ہی سارا ناران لگتی۔۔ پھر وقت تھوڑا بدلا سوشل میڈیا کا دور آیا تو پتہ چلا کہ بابو سر ٹاپ بھی کوئی جگہ ہے جو ناران میں آتی ہے۔۔

اب تو خیر سیاحوں کی فوج ظفر موج نے ان دو جگہوں پر وہ دھاوا بولا ہے کہ کئی دفعہ ناران سے گزرا مگر ایک دفعہ بھی جھیل سیف الملوک پر نہیں گیا۔۔ باں و سر ٹاپ پر گیا تو گاڑی وہاں رکنے نہیں دی کہ ایک دو منٹ سیاحوں کے کباڑ خانے میں گزاریں جائیں۔۔

مگر ایک وادی کاغان وہ ہے بھی جو کہ کتابوں میں پڑھی تھی نہ سوشل میڈیا پر دیکھی تھی۔۔ وہ کاغان ابھی جنگل اور پہاڑوں میں لمبی تان کر سو رہا ہے۔۔ اسے جگانے والے کوئی سڑک چھاپ چھپری سیاح اس کے متھے نہیں لگے۔۔ اسے بھنبھوڑ نے کے لیئے ابھی شکر ہے کوئی ٹمبر مافیا اسے نہیں ٹکری۔۔ صد ہا خیر ہے کہ اس پر کچرے کے ڈھیر الٹنے والے سیاحت کے یاجوج ماجوج اس پر نہیں آئے۔۔

اور وہ کاغان کے اس حسن تک پہنچ بھی نہیں سکتے۔۔

یہ حسن کڑی آزمائش لیتا ہے۔۔ سر سے لے گوڈوں اور پھر گٹوں تک کی کڑی تپسیا کرواتا ہے۔۔ گھنٹوں پر مشتمل کھڑی چڑھائیوں پر ٹریکنگ کرواتا ہے تب ہی اس کاغان کو آپ دیکھ سکتے ہیں۔۔

تب ہی آپ بیسری کی حسین چراگاہ دیکھ سکیں گے۔۔ تب ہی قادرر گلی کے حسین نظاروں کو دیکھ پائیں گے۔۔ تب ہی آپ جم گر جھیل کا نظارہ کر پائیں گے۔۔ تب ہی منور ویلی آپ پر اپنا حسن آشکار کرے گی۔۔

میری خواہش تھی کاغان کی جنت سہہ کنڈی میڈو کو دیکھ پاؤں۔۔ تو نکل کھڑے ہوئے کاغان کی طرف۔۔ رجوال میں رات گزاری اور صبح ساڑھے چار بجے ہزارہ ٹریکرز کلب کے دو اور جوان میں میرے ساتھ نکل کر کھڑے ہوئے۔۔

یہ ٹریک ہم نے بغیر مقامی گائیڈ کے کیا۔ ٹریک کا نہ پوچھیں گٹوں سے بھی پسینہ نکال کے رکھ دیتا ہے۔۔ ساڑھے پانچ گھنٹے کی مسلسل کھڑی چڑھائی کے بعد سہہ کنڈی آئی تو دل کی کنڈیاں کھل گئیں۔۔

وادی کاغان میں مجھے نہیں لگتا سہہ کنڈی سے بڑی اور حسین میڈو کوئی اور ہو۔۔ اس کا اصل حسن کے درمیان بہنے والے نالے اور آبشاریں ہیں۔۔

Check Also

The Jungle

By Asif Masood