Friday, 24 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Babe Ka Raqs, Ya Qaum Ki Shikast?

Babe Ka Raqs, Ya Qaum Ki Shikast?

بابے کا رقص، یا قوم کی شکست؟

مظفرآباد کے جلسے کا ایک منظر دل میں عجیب سی کسک چھوڑ گیا۔ ایک ضعیف بابا، جو جلسہ شروع ہونے سے ایک روز پہلے ہی اسٹیج کے قریب آ کر بیٹھ گیا تھا۔ لوگوں نے پوچھا، "بابا! جلسہ تو کل ہے"۔ اس نے بے ساختہ جواب دیا، "کوئی بات نہیں، میں کل تک یہیں بیٹھا رہوں گا"۔

پھر جب مریم نواز کی نظر اس پر پڑی تو اسے اسٹیج پر بلا لیا گیا۔ بابا خوشی سے بے قابو ہوگیا، ناچنے لگا، جھومنے لگا، جیسے اس کی زندگی کی سب سے بڑی آرزو پوری ہوگئی ہو۔ شاید اس کے لیے یہ لمحہ کسی خزانے سے کم نہ تھا۔

لیکن اس منظر نے ایک سوال میرے دل میں چھوڑ دیا۔

کیا واقعی ہماری قوم کی خوشی کا معیار اتنا ہی رہ گیا ہے؟

کیا ایک جھلک، ایک ہاتھ مل جانا، ایک تصویر، ایک نظرِ التفات ہی ہماری تمام محرومیوں کا مداوا ہے؟

وہ بابا شاید نہیں جانتا کہ اس کے بچوں کو بہتر تعلیم کیوں نہیں ملی، اس کے دو بچے نشے پہ کیوں لگ گئے ہیں، اس کے گاؤں میں ہسپتال کیوں نہیں، سڑکیں کیوں ٹوٹی ہوئی ہیں، انصاف کیوں مہنگا ہے اور بنیادی حقوق آخر ہوتے کیا ہیں۔

اسے صرف یہ معلوم ہے کہ اس کا محبوب لیڈر سامنے کھڑا ہے اور اس کے سامنے جھوم لینا ہی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

یہ صرف ایک بابے کا رقص نہیں تھا، یہ ہماری اجتماعی نفسیات کا آئینہ تھا۔

ایسی کیفیت شاید بادشاہوں اور مغل شہنشاہوں کے درباروں میں ہوتی ہوگی، جہاں رعایا صرف بادشاہ کی ایک مسکراہٹ پر نثار ہو جاتی تھی۔ لیکن جدید جمہوریتوں میں شہری اپنے حکمرانوں کے سامنے رقص نہیں کرتے، بلکہ ان سے سوال کرتے ہیں، جواب مانگتے ہیں اور کارکردگی کا حساب لیتے ہیں۔

جمہوریت میں لیڈر عقیدت کا نہیں، جواب دہی کا مرکز ہوتا ہے۔

افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں دہائیوں کی سیاست نے ایسے ذہن پیدا کیے ہیں جنہیں اپنی عزتِ نفس سے زیادہ اپنے لیڈر کی قربت عزیز ہے۔ انہیں یہ احساس ہی نہیں ہونے دیا گیا کہ ریاست ان پر احسان نہیں کرتی، بلکہ ان کے ٹیکسوں سے چلتی ہے اور تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف ان کا حق ہیں، خیرات نہیں۔

جب قوموں کو شعور سے محروم رکھا جائے تو وہ شخصیت پرستی کو سیاست سمجھنے لگتی ہیں اور حقوق کی جدوجہد کے بجائے نعروں، جلوسوں اور رقص میں اپنی کامیابی تلاش کرنے لگتی ہیں۔

اس واقعے کے بعد Discover Pakistan کے مطابق اس بزرگ کارکن کو نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے مجموعی طور پر دو کروڑ روپے انعام دیے گئے۔ بابا جی نے اس رقم کی وصولی کی تصدیق بھی کر دی ہے۔ اب مزید سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ایک قوم کی تقدیر انعامات، شخصی عقیدت اور وقتی جذبات سے بدلتی ہے، یا تعلیم، شعور، انصاف، روزگار اور بنیادی حقوق کی فراہمی سے؟ اور ان لوگوں کا کیا قصور ہے جن پہ نواز شریف کی نظر نہیں پڑی؟

اصل المیہ اس بابے کا رقص یا پیسے کی وصولی نہیں، بلکہ وہ نظام ہے جس نے اسے اس مقام تک پہنچایا جہاں ایک لمحے کی توجہ اس کی پوری زندگی کی سب سے بڑی خوشی بن گئی۔

سوال یہ ہے کہ کیا آنے والی نسلیں بھی اسی طرح اپنے مسائل بھول کر چہروں کی پرستش کرتی رہیں گی؟ یا وہ دن بھی آئے گا جب اس ملک کا شہری اپنے حکمران سے یہ پوچھے گا کہ مجھے دو کروڑ نہیں میرے بچوں کا مستقبل چاہیے۔

جس دن یہ سوال عام ہوگیا، اس دن شاید اسٹیجوں پر رقص کم اور احتساب زیادہ نظر آئے گا اور یہی کسی بھی زندہ جمہوریت کی اصل علامت ہوگی۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Inqilabi Alamat

By Syed Mehdi Bukhari