50 Baras Pehle
پچاس برس پہلے
زندگی کا ایک موڑ ایسا بھی آتا ہے جب انسان کے خواب خاموش جاتے ہیں اور یادیں بولنے لگتی ہیں۔ عمر کے اس پڑاؤ پر وقت کو میں کیلنڈر کے ورقوں سے نہیں ناپتا۔ وقت کا اندازہ مجھے اُن چہروں سے ہوتا ہے جو اب اس دنیا میں نہیں، اُن گلیوں سے ہوتا ہے جن کی پہچان مٹ چکی ہے اور اُن باتوں سے ہوتا ہے جو اب کبھی دوبارہ نہیں ہو سکتیں۔
پچاس برس کسی ملک کو بدل دینے کے لیے بہت ہوتے ہیں، مگر انسانوں کو بدل دینے کے لیے اس سے بھی زیادہ۔ آج سے پچاس برس پہلے ہمارے پاس بہت کچھ نہیں تھا۔ نہ بڑے بڑے گھر، نہ الماریوں میں کپڑوں کی بھرمار، نہ ہر آسائش انگلیوں کی جنبش پر میسر تھی۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہم خود کو کبھی غریب محسوس نہیں کرتے تھے۔
اس زمانے میں دولت کا پیمانہ کچھ اور تھا۔ ایک مخلص ہمسایہ کسی قیمتی گاڑی سے زیادہ قیمتی تھا اور ایک سچا دوست بینک کے بڑے سے بڑے کھاتے سے بڑھ کر سرمایہ۔ سب سے بڑی بات: ہم ایک دوسرے کو جانتے تھے۔
اس لیے نہیں کہ کسی اسکرین پر ایک دوسرے کی تصویریں دیکھ لی تھیں، بلکہ اس لیے کہ ایک دوسرے کے دکھ اور سکھ میں شریک رہے تھے۔
دروازے کھٹکھٹانے کے لیے پہلے وقت نہیں لیا جاتا تھا۔ چائے پہلے پیش کی جاتی تھی، باتیں بعد میں شروع ہوتیں۔ محلے کا ہر بچہ صرف اپنے ماں باپ کا نہیں، پورے محلے کا بچہ سمجھا جاتا تھا۔ اگر کسی بچے کو کوئی بزرگ ٹوک دیتا تو والدین اسے اپنی توہین نہیں بلکہ اپنائیت سمجھتے تھے۔
آج ہم دنیا بھر کے اجنبیوں سے جڑنے کا ہنر سیکھ چکے ہیں، مگر اپنے دروازے کے آس پاس رہنے والوں سے کٹتے جا رہے ہیں۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں، شاید ترقی نے بھی اپنا مطلب بدل لیا ہے۔ ہم رفتار پر فخر کرتے ہیں، مگر کبھی یہ نہیں پوچھتے کہ آخر دوڑ کس سمت میں رہے ہیں۔
ہم نے آسمان کو چھوتی عمارتیں تو کھڑی کر لیں، مگر اپنے بوڑھے والدین کے پاس بیٹھنے کی فرصت کھو دی۔ ہماری جیبوں میں ایسے فون ہیں جن میں ہزاروں نام محفوظ ہیں، مگر کتنے لوگ ایسے ہیں جنہیں آدھی رات بے جھجھک فون کیا جا سکے؟
ہم نے فاصلے ضرور سمیٹ لیے ہیں، مگر تنہائی کو نہیں۔ میں نئی نسل کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتا۔ ہر نسل وہی دنیا ورثے میں پاتی ہے جو اسے ملتی ہے۔ انہوں نے اس زمانے میں آنکھ کھولی ہے جہاں ہر لمحہ کوئی اطلاع دستک دیتی ہے، ہر شخص اپنی زندگی دوسروں سے تولتا ہے اور کامیابی کا مطلب زیادہ کمانا، زیادہ دکھانا اور زیادہ حاصل کرنا سمجھا جاتا ہے۔
شاید ہم بھی انہی راستوں پر چلتے، اگر یہ دنیا ہمیں جوانی میں ملی ہوتی۔ مگر اس کے باوجود کچھ چیزیں ہیں جن کی کمی آج بھی دل میں چبھتی ہے۔ مجھے وہ شامیں یاد آتی ہیں جن میں خاموشی بوجھ نہیں ہوتی تھی۔ وہ گفتگوئیں، وہ باتیں یاد آتی ہیں جو بیٹری ختم ہونے سے پہلے نہیں، دل بھر جانے کے بعد ختم ہوتی تھیں۔ وہ ہاتھ سے لکھے ہوئے خطوط یاد آتے ہیں جن کے کاغذ میں بھی لکھنے والے کی خوشبو بسی ہوتی تھی۔ وہ بچپن یاد آتا ہے جب ہم کھیل ایجاد کرتے تھے، ڈاؤن لوڈ نہیں کیا کرتے تھے اور وہ لوگ بھی، جو اختلاف کرتے تھے مگر دشمن نہیں بنتے تھے۔
سب سے بڑھ کر مجھے وقت یاد آتا ہے۔ گھڑیاں شاید تب بھی اتنی ہی رفتار سے چلتی تھیں، مگر انسان آہستہ چلتے تھے۔ کھانے کے بعد سب ایک جگہ بیٹھے رہتے تھے۔ رشتہ داروں کے گھر جانے کے لیے پہلے پیغام بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ ہم ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کرتے تھے، کیونکہ ہماری نظریں بھٹکانے کے لیے کوئی اسکرین درمیان میں نہیں ہوتی تھی۔
یہ بھی سچ ہے کہ ماضی ہرگز جنت کا ٹکڑہ نہیں تھا۔ تنگ دستی بھی تھی، مشقت بھی تھی، بیماریوں کا خوف بھی تھا اور مواقع بھی کم تھے۔ ہم غلطیاں بھی کرتے تھے، ہم بھی پریشان ہوتے تھے اور ہمیں بھی زندگی آسان نہیں ملی تھی۔ لیکن ایک دولت ایسی تھی جو آج بھی کسی بازار میں نہیں ملتی۔
لوگ ایک دوسرے کے لیے اپنے دلوں میں جگہ رکھتے تھے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سادگی سے آسائش تک کے اس سفر میں ہم نے موجودگی کو سہولت سے، گفتگو کو پیغام رسانی سے، پڑوسیوں کو نیٹ ورک سے اور قناعت کو خواہشات سے بدل دیا ہے۔
ہم نے زندگی گزارنے کے وسائل تو بہت بڑھا لیے، مگر شاید جینے کا سلیقہ کہیں پیچھے چھوڑ آئے۔ اصل غربت جیب کی نہیں، دل کی ہوتی ہے!
وہ غربت، جس میں انسان اپنے ہی لوگوں کے درمیان رہ کر بھی خود کو تنہا محسوس کرے۔ اب جب نصف صدی پر نگاہ ڈالتا ہوں تو مجھے ماضی میں واپس جانے کی خواہش نہیں ہوتی۔ وقت نے کبھی الٹے قدم چلنا نہیں سیکھا اور نہ ہی اسے سیکھنا چاہیے۔ ہر نسل کو اپنا مستقبل خود تعمیر کرنے کا حق ہے۔ بس ایک آرزو ہے۔۔
کہ آنے والے برسوں میں ہم نئی ایجادات کے ساتھ ساتھ اُن پرانی سچائیوں کو بھی سنبھال کر رکھ سکیں جنہوں نے زندگی کو خوبصورت بنایا تھا۔ بے غرض مہربانی۔۔ ایسی دوستی جسے کسی پاس ورڈ کی ضرورت نہ ہو۔۔ ایسا احترام جو عہدوں سے نہیں، کردار سے پیدا ہو اور ایسے گھر، جہاں کامیابی کا معیار دولت نہیں، بلکہ دسترخوان کے گرد بیٹھی ہوئی مطمئن مسکراہٹیں ہوں۔
اگر ہم یہ چند چراغ بھی آنے والی نسلوں تک پہنچا سکیں، تو شاید وہ ہم سے بہتر مشینیں ہی نہیں، بہتر انسان بھی ورثے میں پائیں گے۔
اور آخرکار۔۔
انسان کے پاس انسان ہی تو رہ جاتا ہے!

