امریکہ ایران مفاہمت نامہ کا مستقبل

امریکی ائر پورٹس پر کیمرہ کی آنکھ میں وہ مناظر بھی محفوظ ہوں گے، جب امریکی انتظامیہ کی ہدایت پر ہمارے زعماء کی جامہ تلاشی ہوتی تھی، باوجود اس کے قریباً ہر عہد میں ہم اتحادی رہے ہیں، مگر دہشت گردی کی نام نہاد جنگ نے بد اعتمادی کی ایسی فضا قائم کر دی، کہ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا، حالانکہ انکل سام کی خوشنودی کے لئے باہم دوڑ کا ساماں ہوتا، ایوب خاں سے لے کر مشرف تک سب نے سہولت کار کا فریضہ انجام دیا، سویلین حکومتیں بھی ایک دوسرے پر سبقت لیتی رہیں، یہ معاملہ اسلام آبادتک محدود نہ تھا، عرب ممالک کے شاہی خاندانوں نے تو حد ہی کردی امیر، قطر نے قیمتی جہاز صدر ٹرمپ کو تحفہ کے طور پر دیا، یو اے ای میں نوجوان لڑکیوں نے بال کھول کر جس طرح امریکی صد ٹرمپ کا استقبال کیا، جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود کا مصرع صادق آتا ہے۔
صدر ٹرمپ امت مسلمہ کی قیادت کو گھیرنے کے لئے عرب ممالک کے دورے کر رہے تھے کہ کسی طرح "ابراہیم اکارڈ" پر انہیں راضی کرتے ہوئے اسرائیلی کو تسلیم کروانے کی راہ ہموار کی جائے، معرکہ حق کی کامیابی کے بعد ہمارے ہاں بھی امریکی صدر کو نوبل انعام دینے کی باز گشت سنائی دی، مگر اللہ تعالی کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
امریکہ، ایران کے مابین براہ راست فوجی کشیدگی کاآغاز 28 فروری 2026 کو ہوا، بعد ازاں کشیدگی جنگ میں بدل گئی، عارضی جنگ میں سب کچھ مسٹر ٹرمپ کے اندازوں کے برعکس ہوا، ایران نے بھاری بھر نقصان کے باوجود بھر پور ردعمل دیا، امریکہ اور نیٹو کے مابین اختلافات کھل کر سامنے آئے، ٹرمپ نے انہیں کاغذی شیر کہا، ایک ماہ جنگ جاری رہنے کے باوجود ایرانی عوام کی طرف سے کوئی منفی رد عمل سامنے نہ آیا، اسرائیل، امریکہ کا رجیم چینج کا خواب ادھورا رہا، سیکورٹی، گارنٹی کے حوالہ سے خلیجی ممالک کا امریکہ پر اعتماد کم ہوا، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے پوری دنیا میں تیل کا سنگین بحران پیدا کر دیا، چند ممالک نے فوجی کاروائیوں کے لئے اپنے اڈے دینے سے انکار کر دیا، مسٹر ٹرمپ جنگ میں پھنسا دیئے گئے۔
ایران کے پرائمری سکول پر امریکی حملوں کے نتیجہ میں بچیوں کی ہلاکت پر یورپی ممالک بشمول اٹلی، جرمنی، برطانیہ، چین میں جنگ کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں۔ ابراہیمی معاہدہ کا دائرہ سیع کر تے ہوئے، اسرائیلی سنٹرک سیکورٹی نیٹ ورک بنا کر ایران کو سیاسی، معاشی اور فوجی لحاظ سے تنہا کرنے کا امریکی، اسرائیلی منصوبہ چکنا چور ہوگیا۔
عالمی دباؤ اور زمینی حقائق نے مسٹر ٹرمپ کو ایک مفاہمتی معاہدہ کرنے پر مجبور کر دیا، 60 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہوا، اس مفاہمت نامہ کو "اسلام آباد ایکارڈ" کانام دیا گیا، تو تہران کی فضاؤں میں سائرن کی خوشی کی صدائیں گونجنے لگیں، مہینوں کے خوف اور معاشی جمود کے بعد ایرانی پرچم تھامے نوجوان گاڑیوں پر نکل پڑے، تہران کے ایک بوڑھے تاجر نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ معاہدہ مستقل امن نہیں، امریکہ پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ کچھ کم ہے، ایک سپر پاور کو معاہدہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا، ایران پابندیوں کے باوجود اپنے پاؤں پر کھڑا ہے۔
مذکورہ معاہدہ کی بابت تل ابیب اور ہمارے ہمسایہ میں سوگ کا ساماں تھا، اسرائیلی فوجی اپنے وزیر اعظم کو کوس رہے تھے، کہ ہمیں بتایا گیا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام ہمیشہ کے لئے ختم کردیا جائے گا، ایرانی قیادت گھٹنے ٹیک دے گی یہ فوجی مسٹر ٹرمپ کو الزام دے رہے تھے کہ انکے تحفظات کو پس پشت ڈال کر ایران سے تیل کی ڈیل کر لی گئی۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے لئے یہ معاہدہ ڈراونا خواب تھا، کیونکہ ایران نے بڑی سمجھ داری سے سفارتی عمل کے دوران آبنائے ہرمز کو بطور تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، دنیا کی سب سے اہم معاشی شاہ رگ پر ہاتھ رکھ دیا، دنیا بھر کے تیل کی کل سپلائی 20 سے 30 فیصد اس سمندری راستہ سے گزرتا ہے۔
مشیروں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز اگر مزید بند رہتی ہے، تو امریکا میں تیل کی قیمتیں دو گنا ہو جائیں گیں، اس کے اثرات نومبر کے مڈٹرم الیکشن میں ری پبلکن پارٹی پر مرتب ہوں گے، مفاہمت کرنا پڑی مگر یہ معاہدہ عارضی نہ تھا، بلکہ طے شدہ اسٹرے ٹیجک فریم ورک ہے، جس نے مشرق وسطی میں طاقت کے توازن کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
مفاہمتی قرار داد کے وقت اور بعد ازاں امریکی صدر کا رویہ انتہائی غیر سنجیدہ رہا، آیت اللہ خامنائی کے جنازے کے موقع پر ٹرمپ کا بیان کہ "ہم سب کو ختم کر سکتے ہی پھر مذاکرات کے لئے کوئی نہیں بچے گا" یہ غیر اخلاقی ہی نہیں سفارتی آداب کے بھی خلاف تھا، سارے سفارتی عمل میں البتہ امریکی نائب صدر کا کردار پیشہ وارانہ اور قابل تقلید رہا۔
مفاہمت نامہ پھر حالت نزاع میں ہے، دس روزہ جنگ بندی کی باز گشت سنائی دے رہی ہے، عالمی برادری کا بھلا اسی میں ہے کہ متحارب گروپ مستقل جنگ بندی کا معاہدہ کرلیں، انکل سام کو بہر حال تسلیم کرنا پڑے گا، کہ بھاری بھر پا بندیوں کے باوجود ایران سے اپنی شرائط پر منوانے میں وہ ناکام رہا، باقی دنیا کی طرح ایران کو علاقائی ممالک سے تجارت کی آزادی ہواس کے منجمد اثاثے بحال کئے جائیں۔
یہ عہد علاقائی سیاست کا ہے خطہ میں روس اور چین کی موجودگی میں امریکہ کو ایران پر پابندیاں عائد کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، فی زمانہ علاقائی طاقتیں اب ان تنازعات کے نتائج کو وضع کر رہی ہیں، جن کے فیصلے ماضی میں سپر پاور کیا کرتی تھیں، وہ قیادت جس کی کبھی جامہ تلاشی لی جاتی آج وہ نہ صرف عالمی سطح پر ثالثی کا کردار ادا کر رہی ہے بلکہ Libnan de confliction سیل میں اسلام آباد کی شمولیت ثابت کرتی ہے، کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے، اس کا سفارتی کردار مشرق وسطیٰ کے لئے کتنا اہم ہے، جس کو ایران نے بھی تسلیم کیا۔
معاشی پابندیوں کے عارضی خاتمے، تیل کی فروخت کی اجازت سے تہران کی گلیوں میں خوشی کا سماں یہ تقاضا کرتا ہے، ایران کی قیادت مفاہمت نامہ کے روشن مستقبل اور اپنی عوام کی خوشی کی خاطر تمام تر علاقائی، خلیجی، گروہی مفادات، تحفظات سے بالا تر ہو کر خطہ کی ترقی کے لئے مثبت رویہ اختیار کرے، اس جنگ سے اسرائیلی قیادت پربھی واضع ہو چکا ہے کہ فوجی طاقت سے عمارتیں تو گرائی جا سکتی ہیں، نسل کشی بھی ممکن ہے مگر Strategic نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے۔

