Wednesday, 08 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Brazil, Kya Urooj Ka Daur Guzar Chuka?

Brazil, Kya Urooj Ka Daur Guzar Chuka?

برازیل، کیا عروج کا دور گزر چکا؟

ورلڈکپ 2026 میں برازیل کی مہم کا اختتام صرف ایک ٹیم کی شکست نہیں اس نے بلکہ فٹبال کی سب سے بڑی علامتوں میں سے ایک کے زوال پر سوال اٹھادیا ہے۔ ناروے کے ہاتھوں پری کوارٹر فائنل میں شکست کے بعد برازیل 1990 کے بعد پہلی بار اتنی جلدی ورلڈ کپ سے باہر ہوا ہے۔ پانچ بار کی چیمپین ٹیم 2002 کے بعد سے مسلسل چھٹی بار ورلڈکپ جیتنے میں ناکام رہی۔

ناروے کے خلاف میچ میں برازیل کو کئی مواقع ملے، لیکن فیصلہ کن لمحوں میں ناکامی اس کا مقدر بنی۔ پہلے ہاف میں برونو گیماریش پنالٹی ضائع کر بیٹھے، اینڈرک نے ایک سنہری موقع گنوادیا، جبکہ ونی جونیئر کی انفرادی مہارت بھی ٹیم کو بچا نہ سکی۔ دوسری طرف ایرلنگ ہالینڈ نے صرف دو واضح مواقع ملنے پر دونوں کو گول میں بدل دیا۔ پہلے انھوں نے شاندار ہیڈر کے ذریعے برتری دلائی اور پھر اختتامی لمحات میں ایک خوبصورت شاٹ سے نتیجہ اپنے حق میں کردیا۔ نیمار نے انجری ٹائم میں پنالٹی پر ایک گول ضرور کیا، لیکن اس سے شکست کو نہ ٹالا جاسکا۔

اس شکست کے بعد سب سے زیادہ تنقید کوچ کارلو اینچلوتی پر ہوئی۔ وہ گزشتہ سال ارجنٹینا کے ہاتھوں 4-1 کی تاریخی شکست کے بعد برازیل کے کوچ بنائے گئے تھے۔ امید کی جارہی تھی کہ وہ اپنی حکمت عملی اور تجربے سے ٹیم کو دوبارہ عالمی طاقت بنادیں گے۔ ٹیم نے ورلڈکپ میں کچھ اچھے نتائج حاصل کیے لیکن ناروے کے خلاف ان کی حکمت عملی ناکام رہی۔ ناقدین کے مطابق برازیل زیادہ تر جوابی حملوں پر انحصار کرتا رہا، جبکہ مڈفیلڈ پر ناروے نے مکمل کنٹرول قائم رکھا۔ میچ کے دوران برونو گیماریش کو باہر نکالنے کے فیصلے کو بھی کئی تجزیہ کاروں نے بڑی غلطی قرار دیا۔

اصل مسئلہ صرف ایک میچ نہیں بلکہ کئی برسوں سے جمع ہونے والی کمزوریاں ہیں۔ بی بی سی کے تجزیہ نگار ٹم وکری کے مطابق برازیل کو اب "معمولی مرمت" کی نہیں بلکہ "بڑی سرجری" کی ضرورت ہے۔ ایک زمانہ تھا جب برازیل کی پہچان تخلیقی مڈفیلڈ ہوتی تھی، لیکن اب وہی شعبہ اس کی سب سے بڑی کمزوری بن چکا ہے۔ ناروے کے خلاف برازیل مڈفیلڈ میں مسلسل دباؤ کا شکار رہا اور پاسنگ میں بھی واضح طور پر پیچھے رہ گیا۔ اینچلوتی نے خود بھی اعتراف کیا کہ ٹیم کو نوجوان اور اعلیٰ معیار کے مڈفیلڈرز کی اشد ضرورت ہے۔

حملوں میں بھی برازیل اپنی روایتی دھاک قائم نہ رکھ سکا۔ اینڈرک کو مستقبل کا بڑا اسٹار سمجھا جاتا ہے، لیکن صرف 19 سال کی عمر میں وہ اس بڑے اسٹیج کا دباؤ نہ سنبھال سکے۔ دوسری طرف نیمار کی واپسی بھی متنازع ثابت ہوئی۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انھیں عوامی دباؤ کی وجہ سے اسکواڈ میں رکھا گیا، حالانکہ وہ اپنی بہترین فارم سے بہت دور تھے۔ ناروے کے خلاف انھیں میدان میں اتارنے سے ٹیم کا توازن مزید بگڑ گیا، کیونکہ ونی جونئیر اور اینڈرک کو اپنی قدرتی پوزیشن سے ہٹنا پڑا۔ نیمار نے پنالٹی پر گول کیا، لیکن مجموعی کارکردگی نے ان کے سنہری دور کے خاتمے کا تاثر مزید مضبوط کردیا۔

یہ شکست ایک اور تشویش ناک حقیقت بھی سامنے لاتی ہے۔ 2006 سے اب تک برازیل ہر ورلڈ کپ میں ناک آؤٹ مرحلے میں یورپی ٹیم کے ہاتھوں باہر ہوا ہے۔ 2006 میں فرانس، 2010 میں نیدرلینڈز، 2014 میں جرمنی، 2018 میں بیلجیم، 2022 میں کروشیا اور اب 2026 میں ناروے نے اس کا سفر ختم کیا۔ اس تسلسل سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ محض قسمت کا نہیں بلکہ یورپی ٹیموں کے مقابلے میں برازیل کی حکمت عملی، کھلاڑیوں کی فٹنیس اور اجتماعی کھیل میں مسلسل کمی آرہی ہے۔

گارڈین نے اپنی رپورٹ میں دلچسپ سوال اٹھایا کہ کیا برازیل اب ایک ٹیم سے زیادہ ایک "برانڈ" بن چکا ہے؟ دنیا بھر میں برازیل کی زرد جرسی، سامبا فٹبال اور پانچ عالمی ٹائٹل اسے فٹبال کا سب سے بڑا نام بناتے ہیں، لیکن میدان میں وہ برتری نظر نہیں آتی جو کبھی اس کی شناخت تھی۔ 2019 کی کوپا امریکا کے علاوہ گزشتہ کئی برسوں میں برازیل کسی بڑے ٹورنامنٹ میں نمایاں کامیابی حاصل نہیں کرسکا، جبکہ مسلسل تین ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک بھی نہیں پہنچ سکا۔

اس کے باوجود اینچلوتی مایوس نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اختتام نہیں بلکہ ایک نئے دور کی ابتدا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ واقعی تنظیم نو کے لیے موزوں کوچ ہیں یا وہ صرف پہلے سے مضبوط ٹیموں کو کامیابی دلانے والے کوچ ثابت ہوتے ہیں؟ آنے والے برسوں میں برازیل کو نئی نسل کے مڈفیلڈرز، مؤثر اسٹرائیکر اور واضح حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو برازیل کی عظمت صرف تاریخ کی کتابوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔

Check Also

Brazil, Kya Urooj Ka Daur Guzar Chuka?

By Mubashir Ali Zaidi