Wednesday, 08 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sher Azam
  4. Hamari Faryad Kab Suni Jaye Gi?

Hamari Faryad Kab Suni Jaye Gi?

ہماری فریاد کب سنی جائیگی؟

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

شاعر مشرق، حکیم الامت، مصورِ پاکستان علامہ اقبالؒ کے اس شعر پہ زرا غور کیجئے اس میں جو پیغام ہے وہ اتنا ہی تازہ ہے جتنا ایک صدی پہلے تھا اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، ہمت اور اختیار عطا کیا ہے، لیکن جب تک کوئی قوم خود اپنی اصلاح، اتحاد اور اپنے مسائل کے حل کے لیے قدم نہیں اٹھاتی، اس وقت تک محض دعاؤں، شکایتوں اور دوسروں کے انتظار سے حالات نہیں بدلتے۔۔

جب یہ شعر ذہن میں آیا تو بے اختیار نگاہیں پڑی بنگلہ کے حالات پر ٹھہر گئی۔۔

آج اگر کسی نے پڑی بنگلہ کی کیفیت کو قریب سے دیکھا ہو تو وہ جان لے گا کہ اس علاقے کو ہر سمت سے مسائل نے ایسے گھیرے ہیں کہ جیسے پہلے زمانے میں لوگ دور دراز علاقوں سے آکر یہاں پڑاؤ ڈالتے تھے، اب مختلف قسم کے مسائل نے ایسے ہی پڑاؤ ڈالا ہے۔

بات کی جائے تو کس موضوع پر کی جائے۔

1۔ روزانہ کی بنیاد پر ہونیوالے حادثات، قیمتی جانوں کی ضیاع پر

2۔ پانی کی غیر فراہمی اور بجلی کی عدم دستیابی پر

3۔ مفلوج نظام تعلیم پر

نہ جانے کتنی ماؤں کی گودیں اجڑیں؟

کتنے باپوں کے سہارے چھن گئے؟

یہ ایک ایسا زخم ہے جو برسوں سے رس رہا ہے۔ کتنے ہی معصوم بچے، کتنے ہی نوجوان، کتنے ہی بزرگ ان سڑکوں پر ہونے والے حادثات کی نذر ہو چکے ہیں۔

جولائی کی تپتی سُلگتی دھوپ میں، جب سورج آگ برساتا ہے، ایک طرف نہر بار بار ٹوٹ جاتی ہے اور دوسری طرف بجلی کی طویل بندش اندھیروں کو اور گہرا کر دیتی ہے۔ پانی نہیں، بجلی نہیں۔

پڑی بنگلہ کی اکثریت کا رزق نرسریوں سے وابستہ ہے۔ یہاں کے لوگ محلات کے مالک نہیں، محنت کے مالک ہیں۔ انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کی لکیروں پر قسمت نہیں لکھی، بلکہ مٹی میں بیج بو کر اپنا مستقبل اگایا ہے۔ ان کے لیے ہر پودا بچوں کی کتاب، بیمار ماں کی دوا اور آنے والے کل کی امید ہے۔

مگر جب نہر کا پانی رک جاتا ہے تو نرسریوں میں صرف پودے نہیں سوکھتے، بلکہ گھروں کی معیشت بھی مرجھانے لگتی ہے۔

پڑی بنگلہ کے بہت سے لوگ اس علاقے میں باہر سے آئے۔ انہوں نے پتھریلی زمین کو آباد کیا، اپنے خون پسینے سے اس مٹی کو زرخیز بنایا اور برسوں بعد چند درخت اگائے تاکہ ان کے بچے سخت دھوپ میں ایک سایہ پا سکیں۔ لیکن پانی کی کمی نے وہ درخت بھی خشک کر دیے۔ آج وہ سوکھے ہوئے درخت اس بستی کے بیچ ایسے کھڑے ہیں جیسے وقت نے امید کے جنازے پر خاموش پہرہ بٹھا دیا ہو۔

اگر یہ نہر پوری بستی کی زندگی ہے تو اس کی فکر بھی پوری بستی کی کیوں نہیں؟

جو نہر ہمارے بچوں کا رزق ہے، اس کی حفاظت کی فکر بھی تو ہمارے دلوں میں سب سے پہلے ہونی چاہیے۔

سب سے زیادہ تکلیف نہ نہر کے ٹوٹنے سے ہوتی ہے، نہ بجلی کے نہ ہونے سے اور نہ حادثات پر، بلکہ اس خاموشی سے ہوتی ہے جو ہم نے اپنے اوپر اوڑھ لی ہے۔ ہم ایک دوسرے کا درد دیکھتے ہیں، مگر اسے اپنا درد نہیں سمجھتے۔ حالانکہ جب پانی رکتا ہے تو کسی ایک کے کھیت نہیں سوکھتے، پوری بستی متاثر ہوتی ہے۔ جب بجلی نہیں آتی تو گرمی کسی ایک گھر کو نہیں ستاتی، ہر دروازہ اس کی لپیٹ میں آتا ہے۔

اس لئے ہر ایک کوشش کرکے ایسے اجتماعی کاموں میں حصہ ڈالنے کی کوشش کریں، آواز بلند کریں، عملی میدان میں نکلیں اپنے حقوق کے خاطر۔

Check Also

Masnoi Zahanat Se Khudkar Tajurba Gahon Tak

By Muhammad Rizwan Arif