Wednesday, 08 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Saif Wallahray
  4. Urdu: Shanakht Ki Zuban Ya Nisab Ki Majboori

Urdu: Shanakht Ki Zuban Ya Nisab Ki Majboori

اردو: شناخت کی زبان یا نصاب کی مجبوری

زبان کسی قوم کے منہ میں رکھا ہوا محض لفظوں کا مجموعہ نہیں ہوتی، وہ اس کے حافظے کی لو، اس کے باطن کی آواز اور اس کی تہذیبی قامت کا پیمانہ بھی ہوتی ہے۔ قومیں جب اپنے ماضی کو یاد کرتی ہیں، اپنے حال کو سمجھتی ہیں اور اپنے مستقبل کا خواب بنتی ہیں تو دراصل یہ سب کچھ زبان ہی کے آئینے میں دیکھ رہی ہوتی ہیں۔ اسی لیے زبان کا مسئلہ کبھی صرف تلفظ، قواعد اور لغت کا مسئلہ نہیں ہوتا، یہ شناخت، اقتدار، تعلیم، سماجی مرتبے اور تہذیبی بقا کا مسئلہ بھی ہوتا ہے۔ پاکستان میں اردو کے باب میں یہی بنیادی سوال پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ کیا اردو واقعی ہماری شناخت کی زبان ہے یا ہم نے اسے صرف نصاب کی ایک لازمی مشق بنا کر چھوڑ دیا ہے؟ یہ سوال محض ادبی نہیں، قومی اور تعلیمی سوال بھی ہے اور اس کا جواب ہماری ریاستی ترجیحات، طبقاتی ساخت، تعلیمی پالیسی اور تہذیبی خوداعتمادی کے اندر پوشیدہ ہے۔

اردو کی تاریخی حیثیت کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ زبان برصغیر میں کسی ایک خطے یا نسل کی میراث کے طور پر نہیں ابھری بلکہ مختلف تہذیبوں، بولیوں، لسانی میل جول اور سماجی تعامل کے بطن سے پیدا ہوئی۔ اس کے مزاج میں دہلی کی تہذیب بھی شامل ہے، لکھنؤ کی شائستگی بھی، دکن کی وسعت بھی، پنجاب کی حرارت بھی اور عوامی زندگی کا وہ لہجہ بھی جو بازار، دربار، مدرسہ، خانقاہ اور فوجی چھاؤنی تک پھیلا ہوا تھا۔ اردو کی اصل قوت ہی یہ تھی کہ اس نے مختلف لسانی دھاروں کو باہم جوڑ کر ایک ایسا اظہار پیدا کیا جو عام فہم بھی تھا اور تہذیبی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ اردو محض ایک ادبی زبان نہیں بنی بلکہ اجتماعی احساس، مذہبی شعور، سیاسی بیداری اور سماجی ربط کی زبان بنتی چلی گئی۔ تحریکِ پاکستان کے دوران یہی زبان ایک وسیع تر مسلم شناخت کی علامت کے طور پر سامنے آئی۔ مختلف علاقوں، نسلوں اور لہجوں میں منقسم آبادی کے لیے اردو نے ایک مشترک لسانی حوالہ فراہم کیا۔ اس میں مذہبی ادب بھی تھا، صحافت بھی، شاعری بھی، سیاسی خطابت بھی اور وہ جذباتی و فکری توانائی بھی جس نے جداگانہ قومی شعور کو لفظ عطا کیے۔ یہی تاریخی پس منظر تھا جس کی بنیاد پر قیامِ پاکستان کے بعد اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا۔

پاکستان میں اردو کا مسئلہ اعلان اور عمل کے درمیان اسی فاصلے کا شکار ہوگیا جو ہمارے ہاں اکثر نظریات اور پالیسیوں کے درمیان دکھائی دیتا ہے۔ دستور میں اردو قومی زبان ہے، تقریروں میں اردو قومی وقار کی علامت ہے، نصاب میں اردو لازمی مضمون ہے، ذرائع ابلاغ میں اردو سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے، مگر اقتدار کے ایوانوں، عدالتوں، بیوروکریسی، اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق اور کارپوریٹ دنیا میں اردو کا مقام ثانوی ہے۔ یوں صورت حال یہ بنی کہ زبان عوام کی ہے مگر اختیار کسی اور زبان کے پاس ہے، نعرہ اردو کا ہے مگر نظام کسی اور زبان میں چلتا ہے، جذبات اردو میں بھڑکتے ہیں مگر فیصلے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں۔ اس تضاد نے اردو کو ایک عجیب دو رُخی صورت حال سے دوچار کر دیا ہے: وہ قومی شناخت کی علامت بھی ہے اور عملی بے اختیاری کی مثال بھی۔

یہی تضاد تعلیمی نظام میں سب سے نمایاں شکل میں سامنے آتا ہے۔ پاکستان کے بیشتر طلبہ اردو سے محبت کرنا نہیں سیکھتے، اردو کا پرچہ پاس کرنا سیکھتے ہیں۔ ان کے لیے اردو ایک زندہ فکری تجربہ، تہذیبی تربیت اور تخلیقی اظہار کا دروازہ کم اور امتحانی مشقت زیادہ بن جاتی ہے۔ کلاس روم میں زبان کو اس کی جمالیات، فکری وسعت اور تہذیبی معنویت کے ساتھ پڑھانے کے بجائے اکثر اسے قواعد، تشریح، سوال جواب، اقتباسات، مشکل الفاظ اور یاد کردہ مضامین کی سطح تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طالب علم اردو پڑھتے ہیں مگر اردو میں سوچنے کی تربیت نہیں پاتے، اردو کا نصاب پڑھتے ہیں مگر اردو کے ذریعے دنیا کو سمجھنے کا ذوق پیدا نہیں ہوتا، اردو کا امتحان دیتے ہیں مگر اردو کو اپنے فکری وجود کا حصہ نہیں بناتے۔ جب زبان کی تدریس رٹّا، رسمیّت اور امتحانی ضرورت تک محدود ہو جائے تو زبان شناخت کے بجائے بوجھ بن جاتی ہے۔ پھر طالب علم کے ذہن میں اردو ایک ایسی شے بن کر رہ جاتی ہے جس سے نمبر تو لیے جا سکتے ہیں، مگر دنیا نہیں سمجھی جا سکتی۔

اس بحران کی ایک بڑی وجہ وہ طبقاتی لسانی ڈھانچا ہے جس نے پاکستان کے تعلیمی اور سماجی نظام کو اندر سے تقسیم کر رکھا ہے۔ یہاں زبان صرف اظہار کا وسیلہ نہیں، سماجی حیثیت کا کوڈ بھی ہے۔ انگریزی میڈیم اور اردو میڈیم کی تقسیم دراصل دو تعلیمی نظاموں، دو سماجی دنیاؤں اور دو مستقبلوں کی تقسیم ہے۔ ایک طبقہ وہ ہے جس کے لیے انگریزی ترقی، نوکری، عالمی رسائی، اعتماد اور اشرافی وقار کی زبان ہے، دوسرا طبقہ وہ ہے جس کے لیے اردو یا علاقائی زبانیں فطری اظہار کا ذریعہ تو ہیں مگر انہیں سماجی ترقی کی مرکزی شاہراہ تک رسائی حاصل نہیں۔ یوں زبان ایک ثقافتی مسئلہ رہنے کے بجائے طبقاتی مسئلہ بن جاتی ہے۔ بچے کو شروع ہی سے یہ پیغام ملتا ہے کہ گھر کی زبان محبت کے لیے ہے، بازار کی زبان ضرورت کے لیے ہے اور طاقت کی زبان انگریزی ہے۔ اس نفسیاتی تقسیم کے بعد اردو سے فکری وابستگی کیسے پیدا ہو؟ جب کسی معاشرے میں ایک زبان دل کی، دوسری زبان دماغ کی اور تیسری زبان اقتدار کی علامت بن جائے تو وہاں لسانی بحران محض تعلیمی نہیں رہتا، تہذیبی بحران بن جاتا ہے۔

اردو کے ساتھ ریاستی رویّے کی منافقت بھی اس صورت حال کو مزید پیچیدہ کرتی ہے۔ ہر سال یومِ اردو منایا جاتا ہے، تقریبات میں اردو کی عظمت کے قصیدے پڑھے جاتے ہیں، قومی یکجہتی کے بیانیے میں اردو کو مرکزیت دی جاتی ہے، مگر جب سرکاری دفاتر، عدالتی فیصلوں، پالیسی دستاویزات، جامعاتی تحقیق اور اعلیٰ سطح کے امتحانات کی باری آتی ہے تو اردو کا دامن خالی دکھائی دیتا ہے۔ اس سے بڑھ کر لسانی تضاد کیا ہوگا کہ ایک زبان کو قومی شناخت کا نشان بھی قرار دیا جائے اور ریاستی کارکردگی کے اصل میدان سے الگ بھی رکھا جائے؟ گویا اردو کو قومی جذبے کے لیے تو قبول کیا گیا، قومی نظام کے لیے نہیں۔ اسے تقریر کے اسٹیج پر جگہ ملی، فیصلے کی میز پر نہیں، اسے نصابی کتاب میں رکھا گیا، سائنسی تجربہ گاہ میں نہیں، اسے حب الوطنی کے نعرے میں سجا دیا گیا، مگر معاشی طاقت کے ڈھانچے میں شریک نہ کیا گیا۔

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اردو کے مسئلے کو انگریزی دشمنی کے جذباتی فریم میں دیکھنا نہ علمی دیانت ہے نہ عملی حکمت۔ انگریزی آج عالمی علم، سائنس، ٹیکنالوجی، تجارت اور سفارت کی ایک بڑی زبان ہے اور اسے سیکھنا پاکستان جیسے ملک کے لیے ضرورت بھی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ انگریزی سیکھی جائے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا انگریزی سیکھنے کے نام پر اپنی قومی زبان کو فکری اور ادارہ جاتی کمزوری کے حوالے کر دینا بھی ناگزیر ہے؟ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے یہی تو نہیں کیا۔ جاپان، چین، جرمنی، فرانس، ترکی، ایران، روس اور کوریا نے بین الاقوامی زبانوں سے فائدہ اٹھایا، مگر اپنی قومی زبانوں کو علم، تحقیق، انتظام، قانون اور قومی خوداعتمادی کے مرکز سے بے دخل نہیں ہونے دیا۔ وہاں انگریزی یا دوسری زبانیں اضافی طاقت ہیں، اپنی زبان کا نعم البدل نہیں۔ پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ انگریزی مضبوط ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اردو کو جان بوجھ کر یا لاشعوری طور پر کمزور رکھا گیا ہے، یہاں تک کہ وہ قومی شناخت کی علامت تو ہے مگر علمی خودمختاری کی زبان نہیں بن سکی۔

اس صورت حال کی ایک وجہ پالیسی سازی کی کمزوری بھی ہے۔ اگر کسی ریاست کو اپنی قومی زبان کو واقعی مضبوط بنانا ہو تو اسے محض آئینی شق یا نصابی مضمون بنا دینا کافی نہیں ہوتا۔ اس کے لیے سائنسی، فنی، قانونی اور سماجی علوم کی معیاری اصطلاح سازی کرنی پڑتی ہے، جدید نصابی مواد تیار کرنا پڑتا ہے، عالمی علمی ذخیرے کے تراجم کا وسیع منصوبہ بنانا پڑتا ہے، اساتذہ کی تربیت کرنی پڑتی ہے، جامعات میں تحقیق اور تدریس کے لیے زبان کو کارآمد بنانا پڑتا ہے، ڈیجیٹل دنیا میں اس کے لیے سوفٹ ویئر، ڈیٹا، لغات اور علمی وسائل پیدا کرنے پڑتے ہیں۔ پاکستان میں اردو کے لیے ایسی مربوط اور دیرپا حکمت عملی نہ ہونے کے برابر رہی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اردو جذباتی طور پر عظیم اور عملی طور پر محدود ہوتی چلی گئی۔ ہم نے زبان کے نام پر تقریریں زیادہ کیں، ادارے کم بنائے، محبت کے دعوے زیادہ کیے، سرمایہ کاری کم کی اور پھر حیران ہوئے کہ اردو نوجوان کے لیے خواب کی زبان کیوں نہیں بن سکی۔

یہ مسئلہ صرف اردو کے حق یا انگریزی کے غلبے تک محدود نہیں، بلکہ پاکستان کے کثیراللسانی وجود سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یہاں پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، براہوی اور دیگر علاقائی زبانیں بھی کروڑوں لوگوں کی تہذیبی شناخت اور فطری اظہار کا سرچشمہ ہیں۔ اگر اردو کو قومی ربط کی زبان کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ علاقائی زبانوں کی نفی کر دی جائے۔ درحقیقت ایک متوازن لسانی پالیسی وہی ہو سکتی ہے جس میں ابتدائی تعلیم بچے کی مادری یا قریب ترین فہمی زبان میں ہو، اردو قومی سطح کے رابطے اور تہذیبی وحدت کی زبان کے طور پر مضبوط ہو اور انگریزی بین الاقوامی علم و ہنر کی زبان کے طور پر سکھائی جائے۔ مگر ہمارے ہاں اس توازن کی بجائے کشمکش پیدا کی گئی: کبھی اردو کو علاقائی زبانوں کے مقابل کھڑا کر دیا گیا، کبھی انگریزی کو ترقی کی واحد کنجی بنا دیا گیا اور کبھی مادری زبان کے سوال کو محض جذباتی مطالبہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا۔ یوں لسانی پالیسی قومی ضرورت کے بجائے انتظامی سہولت، سیاسی مصلحت اور طبقاتی مفاد کی تابع بنتی گئی۔

اردو کے نصاب کا بحران بھی کم سنگین نہیں۔ ہمارے ہاں اردو کی کتابیں اکثر یا تو ماضی کے تقدس میں منجمد نظر آتی ہیں یا پھر اس قدر رسمی ہیں کہ ان میں آج کے طالب علم کی ذہنی دنیا، سماجی سوالات اور فکری اضطراب کی بازگشت کم سنائی دیتی ہے۔ زبان کی تدریس اگر زندگی سے کٹ جائے تو طالب علم کے لیے زبان بھی کٹ جاتی ہے۔ اردو کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے صرف غالب، اقبال، سرسید، شبلی اور فیض کے احترام تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ موجودہ عہد کے سماجی، سائنسی، اخلاقی، سیاسی اور ڈیجیٹل سوالات کے ساتھ بھی جوڑا جائے۔ طالب علم کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اردو صرف ماضی کی یادگار نہیں، حال کی زبان بھی ہے، صرف غزل کی لطافت نہیں، دلیل کی قوت بھی رکھتی ہے، صرف جذبات کا اظہار نہیں، جدید دنیا کی تفہیم کا وسیلہ بھی بن سکتی ہے۔ مگر جب نصاب میں زبان کی زندہ روح کے بجائے محض امتحانی سانچہ بچ جائے تو اردو آہستہ آہستہ کلاس روم کی دیواروں میں قید ہو جاتی ہے۔

پاکستانی ادب اور پاکستان کے ذرائع ابلاغ، ٹیلی وژن، ڈرامے، فلم، عوامی خطابت، صحافت، مذہبی بیانیے، سوشل میڈیا اور روزمرہ معاشرت میں اردو آج بھی سب سے زیادہ اثر انگیز زبان ہے۔ نوجوان نسل رومن اردو میں سہی، مگر اردو ہی کے مزاج میں اظہار کر رہی ہے۔ یوٹیوب، فیس بک، پوڈکاسٹس، آن لائن صحافت اور ڈیجیٹل مواد نے اردو کو نئی زندگی بھی دی ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ اس سماجی توانائی کو تعلیمی، علمی اور ادارہ جاتی طاقت میں تبدیل نہیں کیا گیا۔ ہم نے اردو کو بولنے دیا، مگر بڑھنے نہیں دیا، اسے استعمال کیا، مگر منظم نہیں کیا، اس سے محبت کا دعویٰ کیا، مگر اسے ریاستی اور علمی سطح پر بااختیار نہ بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو عوام میں زندہ ہے مگر پالیسی میں کمزور، احساس میں طاقتور ہے مگر نظام میں بے اثر۔

اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنے شہری کی فکری تشکیل کس زبان میں کرنا چاہتا ہے۔ کیا ہم ایسا فرد چاہتے ہیں جو اپنی زبان میں جذبات تو محسوس کرے مگر علم کسی اور زبان میں مانگے؟ کیا ہم ایسا طالب علم پیدا کرنا چاہتے ہیں جو اردو میں تقریر تو کر سکے مگر سائنسی تصور، قانونی استدلال یا تحقیقی سوال کے لیے لازماً دوسری زبان کا سہارا لے؟ اگر ہاں، تو پھر ہمیں صاف لفظوں میں مان لینا چاہیے کہ اردو ہمارے ہاں شناخت کی مکمل زبان نہیں، صرف ثقافتی نمائندگی کی زبان ہے۔ لیکن اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ زبان قومی خودی، فکری آزادی اور تعلیمی انصاف کا بنیادی ستون ہے، تو پھر اردو کو نصاب کی مجبوری سے نکال کر قومی منصوبہ بنانا ہوگا۔ اسے صرف "لازمی مضمون" کے درجے سے اوپر اٹھا کر "لازمی فکری وسیلہ" بنانا ہوگا۔

اس کے لیے چند بنیادی اصول ناگزیر ہیں۔ ابتدائی تعلیم میں مادری اور قریب ترین فہمی زبان کو بنیاد بنایا جائے تاکہ بچہ سیکھنے کے عمل سے فطری طور پر جڑ سکے۔ اردو کو ثانوی اور اعلیٰ سطح پر صرف ادب کے مضمون کے طور پر نہیں، علم کے وسیلے کے طور پر مضبوط کیا جائے۔ سائنسی اور سماجی علوم کے معیاری اردو تراجم، اصطلاحات اور نصابی مواد تیار کیے جائیں۔ جامعات میں اردو ذریعۂ اظہار اور تحقیق کے طور پر قابلِ اعتماد بنائی جائے۔ سرکاری اداروں اور عدالتوں میں اردو کے استعمال کے لیے محض علامتی اعلانات نہیں بلکہ قابلِ عمل نظام وضع کیا جائے۔ اساتذہ کی تربیت اس انداز میں ہو کہ وہ اردو کو زندہ زبان کے طور پر پڑھائیں، نہ کہ محض سوال جواب کے ذخیرے کے طور پر اور سب سے بڑھ کر، معاشرے میں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ اپنی زبان میں سوچنا پسماندگی نہیں، ذہنی خودمختاری کی پہلی شرط ہے۔

اردو کا مقدمہ دراصل محض ایک زبان کا مقدمہ نہیں، تعلیمی انصاف، تہذیبی خوداعتمادی اور قومی سمت کا مقدمہ ہے۔ جو قوم اپنی زبان کو صرف جذبات کے لیے رکھتی ہے اور علم و اختیار کسی دوسری زبان کے حوالے کر دیتی ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنے ذہن کی کنجی بھی دوسروں کے ہاتھ میں دے دیتی ہے۔ زبان کی غلامی ہمیشہ سیاسی غلامی کی طرح دکھائی نہیں دیتی، مگر اس کے اثرات کم خطرناک نہیں ہوتے۔ یہ سوچنے کے زاویے بدل دیتی ہے، طبقاتی فاصلے بڑھا دیتی ہے، تعلیمی مواقع کو غیر مساوی بنا دیتی ہے اور قومی خودی کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔

اس لیے اردو کے بارے میں حتمی سوال یہی ہے کہ ہم اسے کس مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں: دیوار پر آویزاں ایک خوبصورت تہذیبی فریم کے طور پر، یا قومی زندگی کے متحرک آلے کے طور پر؟ اگر اردو صرف تقریروں کی زبان، یومِ اردو کے بینروں کی زینت اور امتحانی پرچے کا بوجھ بنی رہے گی تو پھر اسے شناخت کی زبان کہنا محض رسمی تسلی ہوگی۔ شناخت کی زبان وہ ہوتی ہے جو دل میں بھی بولی جائے، دفتر میں بھی، جو نظم میں بھی زندہ ہو اور قانون میں بھی، جو محبت کا وسیلہ بھی ہو اور علم کا بھی، جو ماضی کی امین بھی ہو اور مستقبل کی معمار بھی۔

پاکستان میں اردو کا اصل بحران یہی ہے کہ ہم نے اسے عزت تو دی، اختیار نہیں، محبت تو دی، موقع نہیں، نصاب میں جگہ دی، نظام میں نہیں اور جب کوئی قوم اپنی زبان کو صرف کتاب کے صفحے تک محدود کر دے تو پھر زبان بھی آہستہ آہستہ زندہ روایت سے زیادہ امتحانی شق بن جاتی ہے۔ اردو کا المیہ یہی ہے کہ اسے قومی شناخت کا تاج تو پہنایا گیا، مگر قومی نظام کی کرسی نہ دی گئی۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اسے واقعی اپنی شناخت بنانا چاہتے ہیں یا آئندہ نسلوں کے لیے محض ایک لازمی مضمون چھوڑ دینا چاہتے ہیں۔

Check Also

Tareekh Ke Qehqahe

By Muhammad Mohsin Khan