Tuesday, 28 July 2026
  1.  Home
  2. Ali Raza Ahmed
  3. Pesha Warana Raqabatein (2)

Pesha Warana Raqabatein (2)

پیشہ ورانہ رقابتیں (2)

ایک دن یہ دلاور دوبارہ آ کر کہنے لگا بھائی تھوڑا بہت تو میرے کانوں کو دیکھو اور ان کی جنرل سروس کرو۔ میں نے اس کے کانوں کو خوب صاف کرکے بالکل اس کے سر کے ساتھ میچ کرکے چمکا دیا اور کہا لو مبارک ہو تمہارا کام ہوگیا ہے اتنے میں یہ کان دباکر یہاں سے بھاگنے والا ہی تھا کہ اسے یک دم چھینک آ گئی اور میری سلائی اس کے کان میں آگے پیچھے ہوگئی اور اس کا "کام" تقریباََ ہوگیا۔

آپ ہی بتائیں اس میں میرا کیا قصور ہے حالانکہ یہ ایک لمحہ کیلئے اپنی چھینک کو دانتوں تلے دباسکتا تھا لیکن کیا کیا جائے اس کے کانوں میں میرے بارے میں ویسے ہی کوئی زہر گھول گیا ہے شاید اسے نہیں معلوم "جو کان سے سنے وہ غیبت جو آنکھ سے دیکھے وہ گناہ" یہ تو کچھ بھی نہیں میں نے (تاجے راجے کی طرف دیکھتے ہوئے) بڑی بڑی مونچھوں والوں کے کان سیدھے کر دیے ہیں۔ یہ دلاور تو ویسے ہی ادھر ادھر کی ہانک کر اگلے پر الزام لگانے میں ماہرہے اسے کیا پتہ تحقیق کیا ہوتی ہے میرے والد صاحب کانوں میں ڈالنے کیلئے ایک دوائی تیار کرتے تھے جس کا ذائقہ ذرا ترش تھا۔

میں نے اس کے نسخے میں تبدیلی کرکے اب اسے مکمل میٹھا کر دیا ہے۔ اب میرے پرانے گاہک آ کر کہتے ہیں بھائی میرے کانوں میں وہ والے قطرے ڈال دو ہم نے کھانا کھانے کے بعد وجود ذرا میٹھا کرنا ہے۔ کوئی بھی مریض ENT اسپیشلسٹ کے پاس جانے سے پہلے وقت لیتا ہے اور فیس کی مد میں بڑی رقم جمع کرواتا ہے مگر میری سروس کا عالم یہ ہے کہ مریض ابھی تاجے راجے کے اڈے کے پاس ہوتا ہے اور میری سلائی اس کے کانوں کے پار ہوتی ہے۔ مجھے لگتا ہے اس کے بھی کسی نے کان بھرے ہیں "جو کان سنے وہ غیبت جو آنکھ دیکھے وہ گناہ"۔

یہ دلاور اپنے گاہکوں کو یہاں تک کہہ دیتا ہے کہ آپ کے دانت کو کیڑا لگا ہے اب اس کی filling ہوگی۔ میں نے آج تک کسی کے کان کی فلنگ نہیں کی اور نہ ہی کبھی کسی کے کانوں میں سے کیڑے نکالے ہیں حالانکہ میرے لئے یہ کون سا مشکل ہے کہ میں تمام شادی شدہ لوگوں کے کانوں کی "فلنگ" کرکے ان کے اختلافات ہمیشہ کیلئے ختم کرسکتا ہوں۔ دلاور نے دانتوں کی scaling کیلئے سلائی مشین والی ہلکی مشین لگا رکھی ہے جس کے اپنے دندانے خراب ہیں اور آوازیں نکالتے ہیں حالانکہ میں اپنا کام اپنے اس اوزار سے (کان پر لگی سلائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) بغیر کسی آواز کے کر دیتا ہوں ہاں اگر مریض ہی کوئی ایسی ویسی آواز نکالے تو اس کی اپنی مرضی ہے۔

میرے پاس جیسے ہی کوئی نیا گاہک آتا ہے تو دلاور کے کان خامخواہ کھڑے ہو جاتے ہیں میرے گاہک کے کان بجنا تو بند مگر اس کے دانت بجنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس جیسا ہر دانت ساز اپنے دانت بھی ساز کے ساتھ بجاتاہے اور پھر ساتھ والے راجے کو مفت میں پورا آکسٹرا سنائی دینے لگ جاتا ہے چنانچہ وہ اپنے الگ سے دانت پیسنے لگ جاتا ہے۔ ایک دن یہ کہہ رہا تھا بوڑھوں کی جب بتیسی لگ جاتی ہے تو پھر یہ آنکھ مارنے کی بجائے دانت مار کر گزارا کرلیتے ہیں۔ میں نے اپنے گاہک کو کبھی نہیں کہا کہ تمہارے کان ہلنا شروع ہو گئے ہیں ان کا علاج کرواؤ۔ پچھلے دنوں مجھے دل کی تکلیف ہوئی میں نے دل جما کرہسپتال سے علاج کرانا شروع کیا مگر مجھے ذرا افاقہ نہیں ہوا یقین کریں میراویسے ہی ہر ہسپتال سے دل ہی اٹھ گیا ہے۔

"بہتر ہوتا تو دنیا سے اٹھ جاتا" دلاور گویا ہوا۔ وقار صاحب اس نے تو مجھے ایک کان سے مکمل کانا کرنے کی پوری کوشش کی تھی وہ تو قدرت نے کرم کیا۔ ابھی کل ہی یہ کیدو اپنے ایک گاہک کو کہہ رہا تھا اب درد تمہارے کان کے قریب سے نہیں گزرے گی مگر کان کا دھیان رکھنا کہیں یہ بھی اس کے قریب سے نہ گزرے۔ یہ جان بوجھ کر مجھے سنانے کیلئے earbudکو کانوں کی دانتن کہتا ہے اس نے ہر شئے کے اپنے ہی نام رکھ رکھے ہیں۔ اسکے پاس ایک مرزا صاحب آتے ہیں اس کو یہ مریضہ صاحب کہتا ہے اور ظاہر خاں کو صاف ظاہر خاں۔ چھوٹی داڑھ کو یہ داڑھی کہتا ہے ایک دن یہ گاہک کو کہہ رہا تھا تمہارے چار دانت رہ گئے ہیں ان کو بھی نکلوا دو تاکہ میں اس کیلئے نئی بتیسی تیار کر دوں۔

گاہک پوچھے! بئی نئی سے کیا مراد ہے کیا یہ سیکنڈ ہینڈ بھی ملتی ہے؟ اس کو قائل کرنے کے بعد جب اس نے دانت نکال کر اس کے سامنے رکھے تو وہ لگ بھک سات یا آٹھ تھے گاہک نے شور مچانا شروع کیا تو آگے سے کہنے لگا میں نے تو محاوراً چار کہا تھا۔ ویسے بھی اس کو دانت نکالنے کا بڑا شوق ہے اپنے بھی اور دوسروں کے بھی اور وہ بھی محاوراً۔ مریضوں کے دانت نکال نکال کر سامنے رکھتا جاتا ہے اور پھر شام کو بتاتا ہے کہ آج میں نے اتنے دانت مارگرائے ہیں جیسے یہ کوئی شکاریوں کا نائب صدر ہو۔ ایک دوسرے گاہک کو کہہ رہا تھا اگر میرا منجن استعمال نہ کیا تو تمہارے مسوڑھے دانتوں پر گر جائیں گے۔ یہ دانتوں والا جسم کے ہر اعضاکو دانت ہی سمجھ لیتا ہے اور ہر تکلیف کا علاج اپنے "منجن" سے کرنا چاہتا ہے۔ یہ نئے گاہک کو پھنسانے کے لئے نئی اصطلاحیں اور محاوروں کی بتیسی چھتیسی کرتا ہے۔

اتنے میں بات بدلتے ہوئے کیدو کہنے لگا ہم ساتھ والے تاجہ کو راجہ اسلئے کہتے ہیں کہ وہ ارگرد کے جھگڑوں کی صلح کروانے میں پیش پیش ہوتا ہے بس یوں سمجھ لیں راجہ یہاں باغیچے ناظم ہے ہمارے آئے روز کے جھگڑوں کا حل بھی راجے کے پاس ہے وہی ہماری صلح کا اہتمام کرتا ہے مگر راجہ کے کانوں کا بھی کوئی سر پیر نہیں ہے جو الف کچے ہیں ہمارے گاہکوں کا مغز براستہ کان چاٹنے کی وجہ سے ہی اب یہاں پاؤں دھرنے سے کتراتاہے۔ اس کے اپنے گاہک بھی اب بھاگ چکے ہیں کیونکہ یہ منہ پر ہاتھ رکھ کر چھینکتا ہے اور ہاتھ بھی ایسے رکھتا ہے جیسے۔

Check Also

Pani Ka Imtihan

By Rao Ghulam Mustafa