Tuesday, 28 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Hanif
  4. Zahaar

Zahaar

ظہار

ظہار کے لفظی معنی پیٹھ یا پشت ہے یہ لفظ عربی کے لفظ ظہر سے نکلا ہے شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو کسی ایسی محرم عورت کی پشت (مثلاً ماں بہن وغیرہ) یا کسی اور حصے سے تشبیہ دے جو اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: بے شک اللہ تعالیٰ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملے میں آپ سے بحث کرتی ہےاور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کرتی ہے اوراللہ تعالیٰ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے بیشک اللہ تعالیٰ خوب سننے والا اورخوب دیکھنے والا ہے۔

تم میں سے وہ لوگ جو اپنی بیویوں کو اپنی ماں جیسی کہ بیٹھتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے اور وہ بیشک ضرور نا پسندیدہ اور بلکل جھوٹ بات کہتے ہیں اور بیشک اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا بہت بخشنے والا ہے۔

"تم میں سے جو لوگ اپنی بیبیوں سے ظہار کربیٹھے (مثلاً یوں کہہ دیتے ہیں کہ تو میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے مجھ پر) وہ ان کی مائیں نہیں ہیں۔ ان کی مائیں تو بس وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے اور وہ لوگ بلاشبہ ایک نامعقول اور جھوٹ بات کہتے ہیں اس لئے گناہ ضرور ہوگا اور یقیناً الله تعالیٰ معاف کرنے والے بخش دینے والے ہیں * اور جو لوگ اپنی بیبیوں سے ظہار کرتے ہیں پھر اپنی کہی ہوئی بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں تو ان کے ذمے ایک غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا ہے قبل اس کے کہ دونوں (میاں بی بی) باہم اختلاط کریں۔ اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور الله تعالیٰ کو تمہارے سب اعمال کی پوری خبر ہے * پھر جس کو (غلام، لونڈی) میسر نہ ہو تو اس کے ذمے لگاتار دو مہینے روزے ہیں قبل اس کے کہ دونوں باہم اختلاط کریں پھر جس سے یہ بھی نہ ہوسکے تو اس کے ذمہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یہ حکم اس کے لئے ہے جو الله اور اس کے رسولؑ پر ایمان لے لاتے ہیں اور یہ الله کی حدیں (باندھی ہوئی) ہیں اور کافروں کے لئے سخت دردناک عذاب ہوگا*" (المجادلۃ 1 تا4)

اصطلاحِ شرع میں ظہار کی تعریف یہ ہے کہ اپنی بیوی کواپنی محرمات ابدیہ، ماں، بہن بیٹی وغیرہ کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دینا جس کودیکھنا اس کے لئے جائز نہیں، ماں کی پشت بھی اس کی ایک مثال ہے۔ یہ زمانہ جاہلیت کی ایک رسم تھی، جس کی وجہ سے دائمی حرمت شمار کی جاتی تھی۔

شریعت اسلامیہ نے اس رسم کی اصلاح دو طرح فرمائی۔ اوّل تو خود اس رسمِ ظہار کو ناجائز و گناہ قرار دیا، کہ جس کو بیوی سے علیحدگی اختیار کرنا ہے اس کا طریقہ طلاق ہے، اس کوےاختیار کرے۔ ظہار کو اس کام کیلئے استعمال نہ کرے کیونکہ یہ ایک لغو اور جھوٹا کلام ہہ بیوی کو ماں کہہ دیا۔ یعنی ان کے اس بیہودہ کلام کی وجہ سے بیوی ماں نہیں بن جاتی، ماں تو وہی ہے جس وہ سے پیدا ہوا ہے۔۔

دوسری اصلاح یہ فرمائی کہ اگر کوئی ناواقف جاہل یا احکام دین سے غافل آدمی ایسا کربیٹھے تو اس لفظ سے حرمت ابدی شریعت اسلام میں نہیں ہوتی، لیکن اس کی کھلی چھٹی بھی نہیں دی جاتی کہ ایسا لفظ کہنے کے بعد پھر بیوی سے پہلے کی طرح اختلاط وانتفاع کرتا رہے، بلکہ اس پر ایک جرمانہ کفارہ لگایا گیا، کہ اگر پھر یہ اپنی بیوی سے رجوع کرنا چاہتا ہے اور سابق کی طرح بیوی سے انتفاع چاہتا ہے تو کفارہ ادا کرکے اپنے اس گناہ کی تلافی کرے۔ بغیر کفارہ ادا کئے بیوی حلال نہ ہوگی جیسا کہ باری تعالیٰ کے اس فرمان کفارہ کا وجوب بیوی کے ساتھ اختلاف حلال ہونے کی غرض سے ہے کہ اس کے بغیر حلال نہیں، خود ظہار اس کفارہ کی علت نہیں، بلکہ ظہار کرنا ایک گناہ ہے جس کا کفارہ توبہ واستغفار ہے جس کی طرف آیت کے آخر میں "وَإِنَّ اللهَ لَعَفُوٌّ غَفُوُرٌ" سے اشارہ کردیا گیا ہے، لہذا اگر کوئی شخص ظہار کربیٹھے اور اب بیوی سے اختلاط نہیں رکھنا چاہتا تو کوئی کفارہ لازم نہیں البتہ بیوی کی حق تلفی ناجائز ہے، اگر وہ مطالبہ کرے تو کفارہ ادا کرکے اختلاط کرنا یا پھرطلاق دے کر آزاد کرناہوگا۔

لہٰذا اگر کوئی اپنی بیوی کو ماں بہن یا محرمات ابدیہ میں سے کسی سے تشبیہ دے یعنی اپنی بیوی کو کہے تو میری ماں کی طرح ہے تو اس صورت میں نیت کا اعتبار کیاجائے گا۔ اگران الفاظ سے شوہر کا ارادہ ظہار کا تھا تو ظہار ہوگا اگر ان الفاظ سے طلاق کا ارادہ تھا تو طلاق بائنہ واقع ہوگی، اگر ان الفاظ سے نیت صرف عزت وتکریم کی تھی تو عزت وتکریم ہی مراد ہوگی اور اگر اس نے ان الفاظ سے کسی بھی قسم کی نیت نہیں کی تو اس کا یہ کلام لغو ہوجائے گا لیکن اگر زوجین کے درمیان بحث جھگڑایا طلاق دینے کی بات چل رہی ہو تو پھر تعظیم والی نیت کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ ظہار ہی ہوگا، نیز ظہار صرف اپنی بیوی سے ہی ہوسکتا ہے لہٰذا اگرکوئی اپنی محرمات سے ظہار کرے یا اجنبیات سے تو ظہار نہیں ہوگا۔

Check Also

Zahaar

By Muhammad Hanif