Pani Ka Imtihan
پانی کا امتحان

بارش برستی ہے تو مردہ زمین میں جان پڑ جاتی ہے۔ خشک شاخوں پر ہریالی لوٹ آتی ہے، کھیت لہلہانے لگتے ہیں اور دریا خوشحالی کے گیت گاتے ہیں۔ مگر جب یہی بادل بے مہار ہو جائیں تو بستیاں ڈوب جاتی ہیں، فصلیں اجڑ جاتی ہیں اور انسان اپنے ہی ہاتھوں سے تعمیر کی گئی دنیا کو پانی میں بہتا دیکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ پاکستان آج ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں آسمان سے برسنے والا پانی بھی آزمائش ہے اور سرحد پار سے آنے والا پانی بھی قومی سلامتی، سفارت کاری اور مستقبل کا سوال بنتا جا رہا ہے۔ ایک طرف مون سون کی شدید بارشیں، دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی کی سنگینی اور تیسری جانب سندھ طاس معاہدے پر منڈلاتے خطرات اس حقیقت کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ آنے والے برس صرف موسموں کے نہیں بلکہ پانی کی سیاست کے بھی برس ہوں گے۔
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "وَجَعَلُنَا مِنَ الُمَاءِ?ُلَّ شَيُءٍ حَيٍّ"، یعنی "اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ " (الانبیاء: 30)۔ اس ایک آیت میں پانی کی پوری حقیقت پوشیدہ ہے۔ پانی زندگی ہے، تہذیب ہے، معیشت ہے اور ریاستوں کی بقا کا ضامن بھی۔ جب یہی نعمت سیاسی دباؤ اور سفارتی کشمکش کا ذریعہ بن جائے تو معاملہ صرف دریا کا نہیں رہتا بلکہ قوموں کے مستقبل کا بن جاتا ہے۔
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی آلودگی میں اس کا حصہ نہایت معمولی ہے۔ 2022ء کے تباہ کن سیلاب نے دنیا کو یہ دکھا دیا کہ قدرت کے سامنے انسانی بے بسی کتنی واضح ہو سکتی ہے۔ ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ زیر آب آیا، کروڑوں افراد متاثر ہوئے، ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ اس سانحے نے یہ سبق دیا کہ جدید آبی منصوبہ بندی، مضبوط بند، مؤثر ڈرینج سسٹم اور بروقت انتباہی نظام اب آسائش نہیں بلکہ قومی ضرورت ہیں۔ رواں مون سون میں بھی مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے اور کئی علاقوں میں سیلاب کے خدشات موجود ہیں۔ ایسے حالات میں دریا کے بہاؤ سے متعلق درست اور بروقت معلومات انتہائی اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر سرحد پار ہائیڈرولوجیکل معلومات بروقت دستیاب نہ ہوں تو سیلاب کی پیش گوئی اور حفاظتی اقدامات متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے انسانی جانوں اور املاک کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
برصغیر کی تقسیم صرف سرحدوں کی تقسیم نہیں تھی بلکہ دریاؤں کی تقسیم کا مسئلہ بھی اپنے ساتھ لے آئی تھی۔ قیامِ پاکستان کے چند ماہ بعد، اپریل 1948ء میں، بھارت نے فیروزپور ہیڈورکس سے نکلنے والی بعض نہروں کا پانی عارضی طور پر روک دیا تھا، جس سے مغربی پنجاب کی آبپاشی متاثر ہوئی۔ اگرچہ بعد میں عبوری انتظامات کے ذریعے پانی بحال ہوگیا، لیکن اس واقعے نے یہ واضح کر دیا کہ پانی مستقبل میں جنوبی ایشیا کی سیاست کا حساس ترین موضوع بن سکتا ہے۔ اسی تناظر میں عالمی بینک کی ثالثی سے 1960ء میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا، جسے دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کے حقوق تسلیم کیے گئے جبکہ راوی، بیاس اور ستلج کا بڑا حصہ بھارت کے حصے میں آیا۔ یہ معاہدہ کئی جنگوں اور شدید سیاسی کشیدگی کے باوجود برقرار رہا، جو اس کی مضبوط قانونی حیثیت کا ثبوت ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ بھارت نے 1960ء سے اب تک مکمل طور پر پاکستان کا پانی بند کر دیا یا سندھ طاس معاہدہ ختم کر دیا۔ البتہ بگلیہار، کشن گنگا، رتلے اور دیگر پن بجلی منصوبوں پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے۔ پاکستان نے ان منصوبوں کے بعض ڈیزائنوں پر اعتراضات اٹھائے اور کئی معاملات عالمی ثالثی اور معاہدے میں موجود قانونی طریقہ کار کے ذریعے زیرِ غور آئے۔
حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے معاہدے پر نظرثانی یا اسے معطل کرنے جیسے بیانات نے پاکستان میں تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ پانی کے بہاؤ یا معلومات کے تبادلے کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کرنا خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے اور ملک کی تقریباً اسی فیصد زرعی اراضی دریائے سندھ کے نظام سے سیراب ہوتی ہے۔ گندم، کپاس، چاول اور گنے جیسی بنیادی فصلیں اسی پانی سے وابستہ ہیں۔ اگر پانی کی فراہمی متاثر ہو یا غیر معمولی سیلاب معمول بن جائیں تو اس کے اثرات صرف کھیتوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ خوراک، صنعت، روزگار، برآمدات اور قومی معیشت تک پھیل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پانی کا ہر قطرہ آج قومی خودمختاری کی علامت بن چکا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ مستقبل کی جنگیں صرف اسلحے سے نہیں بلکہ پانی، خوراک اور توانائی پر بھی لڑی جا سکتی ہیں۔ اس لیے پاکستان کو ایک طرف اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی قوانین اور مؤثر سفارت کاری سے کام لینا ہوگا، جبکہ دوسری جانب اندرونِ ملک پانی کے بہتر انتظام، نئے ذخائر، مؤثر سیلابی حفاظتی نظام اور سائنسی منصوبہ بندی کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ آج پاکستان کے سامنے اصل چیلنج صرف پانی کی کمی نہیں بلکہ پانی کی دانشمندانہ حفاظت ہے۔ اگر ہم نے آج دور اندیشی، قومی اتحاد اور مؤثر منصوبہ بندی کا راستہ اختیار کر لیا تو بارش رحمت بنے گی، دریا خوشحالی لائیں گے اور آنے والی نسلیں ہمیں دعائیں دیں گی۔

