Tuesday, 28 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Chalak Kawa Aur Muhammad Sharif Ki Muhabbat Bhari Kahani

Chalak Kawa Aur Muhammad Sharif Ki Muhabbat Bhari Kahani

چالاک کوا اور محمد شریف کی محبت بھری کہانی

کوا دنیا کے ذہین ترین پرندوں میں شمار ہوتا ہے سائنس دانوں کے مطابق اس کی ذہانت بعض اوقات پانچ سے سات سال کے بچے کے برابر مسائل حل کرنے کی صلاحیت تک ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اسے صرف چالاک نہیں بلکہ انتہائی ذہین پرندہ بھی کہا جاتا ہے۔

کوا مشکل مسائل حل کر سکتا ہے اوزار (Tools) استعمال کرنا جانتا ہے اور بعض اوقات تار یا لکڑی کو موڑ کر اپنی ضرورت کے مطابق بنا لیتا ہے یہ انسانوں کے چہرے یاد رکھ سکتا ہے اگر کوئی اسے نقصان پہنچائے تو وہ برسوں بعد بھی اس شخص کو پہچان سکتا ہے کوے۔ عموماً جھنڈ کی صورت میں رہتے ہیں اور خطرہ محسوس ہونے پر ایک دوسرے کو آواز دے کر خبردار کرتے ان کی مختلف آوازوں کے الگ الگ مطلب ہوتے ہیں مثلاً خطرے کی اطلاع، خوراک کی موجودگی یا دوسرے کووں کو بلانا کوا کسی نئی چیز پر فوراً اعتماد نہیں کرتا۔ پہلے دور سے مشاہدہ کرتا ہے پھر قریب آتا ہے تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کوے نہ صرف چہرے یاد رکھتے ہیں بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی بتاتے ہیں کہ کون سا انسان خطرناک ہے اگر کسی کوے کی موت ہو جائے تو دوسرے کوے اس جگہ جمع ہو کر غیر معمولی رویہ اختیار کرتے ہیں جسے بعض محققین سماجی سیکھنے یا اجتماعی ردِعمل سے تعبیر کرتے ہیں۔

قرآنِ مجید میں بھی کوے کا ذکر آیا ہے حضرت آدمؑ کے دو بیٹوں، قابیل اور ہابیل، کے واقعے میں اللہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا جس نے زمین کھود کر دکھایا تاکہ قابیل اپنے بھائی کی تدفین کا طریقہ سیکھ سکے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوا ایک ایسا پرندہ ہے جس سے انسان بھی سبق حاصل کر سکتا ہے دنیا میں پہلی تدفین کا طریقہ اللہ نے کوے کے ذریعے دیا انسان کل بھی حاسد تھا آج بھی حاسد ہے مختصراً، کوا صرف ایک چالاک پرندہ نہیں بلکہ فطرت کا ایک حیرت انگیز شاہکار ہے جس کی ذہانت، یادداشت، احتیاط اور اجتماعی زندگی سائنس دانوں کے لیے بھی تحقیق کا اہم موضوع ہیں۔

کبھی کبھی فطرت انسان کو وہ سبق سکھاتی ہے جو کتابیں بھی نہیں سکھا پاتیں ہم نے اپنی زبان، محاوروں اور کہانیوں میں کوے کو ہمیشہ چالاکی، موقع پرستی اور عیاری کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ "کوا چلا ہنس کی چال" سے لے کر شاطر کوا تک ہماری اجتماعی سوچ نے اس پرندے کو وفاداری کے بجائے مفاد کی علامت بنا دیا ہے شاید اس کی تیز نگاہ، غیر معمولی ذہانت اور محتاط فطرت نے ہمیں یہی تاثر دیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی کوئی جاندار ایسا ہو سکتا ہے جو محبت کی زبان نہ سمجھتا ہو قدرت کا جواب ہمیشہ نفی میں آتا ہے۔

شنکر گڑھ (مرمئی) سے تعلق رکھنے والے ہمارے محترم محمد شریف آج کل چیلم کی پُرفضا وادیوں میں مقیم ہیں چند ماہ قبل انہیں ایک زخمی کوا ملا اس کے پر زخمی تھے جسم نڈھال تھا اور آنکھوں میں زندگی کی آخری رمق باقی تھی اکثر لوگ ایسے منظر کو معمول سمجھ کر گزر جاتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک وہ صرف ایک کوا ہوتا ہے مگر محمد شریف نے اسے صرف ایک کوا نہیں سمجھا بلکہ خدا کی ایک بے بس مخلوق سمجھا۔

انہوں نے اسے گھر لایا زخموں پر مرہم رکھا خوراک دی حفاظت کی اور اس وقت تک اس کی خدمت کرتے رہے جب تک وہ دوبارہ اڑنے کے قابل نہ ہوا پھر ایک دن انہوں نے اسے آزاد کر دیا محبت کبھی قید نہیں کرتی وہ آزادی عطا کرتی ہے یہیں سے ایک ایسی کہانی نے جنم لیا جس نے شاید انسانوں کو بھی آئینہ دکھا دیا۔

آزادی ملنے کے بعد وہ کوا جنگلوں میں گم نہیں ہوا آج بھی ہر صبح فجر کی خاموش ساعتوں میں دن کے کسی بھی لمحے میں جب چیلم کی وادی پر سورج کی پہلی کرن اترتی ہے وہ پرواز کرتا ہوا محمد شریف کے پاس آتا ہے ان کی ہتھیلی پر رکھی روٹی کھاتا ہے چند لمحے ان کے قریب بیٹھتا ہے جیسے خاموش زبان میں اظہارِ تشکر کر رہا ہو اور پھر کھلے آسمان کی وسعتوں میں لوٹ جاتا ہے۔ سوچیے ایک پرندہ جسے ہم بے وفائی کی علامت سمجھتے ہیں وہ اپنے محسن کو نہیں بھولا مگر انسان جسے اشرف المخلوقات کہا گیا وہ کتنی جلدی احسان رشتے، خلوص اور محبت سب کچھ فراموش کر دیتا ہے۔ شاید مسئلہ کوے میں نہیں ہماری سوچ میں ہے فطرت کا ہر ذرہ محبت کا جواب محبت سے دیتا ہے درخت کو پانی دو، وہ سایہ دیتا ہے زمین میں بیج بو دو وہ فصل بن کر لوٹتا ہے کسی جانور کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ دو وہ مانوس ہو جاتا ہے اور اگر ایک زخمی کوا بھی محبت کے قرض کو ہر صبح یاد رکھ سکتا ہے تو انسان کو کس چیز نے اتنا بے حس بنا دیا ہے؟

یہ واقعہ دراصل محمد شریف کی نہیں انسانیت کی کامیابی ہے انہوں نے ثابت کیا کہ خدمت صرف انسانوں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ہر وہ مخلوق جو خدا نے پیدا کی ہے ہماری توجہ اور شفقت کی مستحق ہے شاید اسی لیے رحم کرنے والوں پر آسمان بھی رحم کرتا ہے۔ آج کی دنیا میں نفرت سب سے سستا اور محبت سب سے مہنگا جذبہ بن چکی ہے لوگ دولت بانٹنے سے پہلے تصویر بنواتے ہیں لیکن محبت بانٹنے کے لیے کسی کیمرے کی ضرورت نہیں ہوتی خلوص خاموش ہوتا ہے مگر اس کی بازگشت بہت دور تک سنائی دیتی ہے۔ محمد شریف اور اس کوے کی یہ مختصر سی داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ محبت دنیا کی واحد زبان ہے جس کے لیے نہ الفاظ درکار ہوتے ہیں نہ مترجم اسے انسان بھی سمجھتا ہے پرندہ بھی درخت بھی اور پوری کائنات بھی شاید اسی لیے محبت کبھی رائیگاں نہیں جاتی وہ کسی نہ کسی صبح کسی نہ کسی پرواز کی صورت اپنے محسن کے دروازے پر ضرور لوٹ آتی ہے۔

ہم نے ترقی تو بہت کر لی مگر شاید محبت کی زبان بھولتے جا رہے ہیں حالانکہ قدرت ہمیں ہر روز یہ سبق دیتی ہے کہ خلوص کبھی ضائع نہیں جاتا وہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور لوٹ کر آتا ہے۔ محمد شریف نے صرف ایک زخمی کوا نہیں بچایا بلکہ ہمیں یہ بھی یاد دلایا کہ دنیا میں محبت اب بھی سب سے طاقتور جذبہ ہے یہ وہ زبان ہے جسے نہ صرف انسان بلکہ بے زبان مخلوق بھی سمجھتی ہے یہی وجہ ہے کہ محبت شاطر سے شاطر کوا بھی اپنا اسیر بنا لیتی ہے اور یہی محبت انسان کو انسان بناتی ہے کہانی ممکن ہوں معمولی لگے مگر اسمیں گہرائی بہت ہے اگر آپ ہم سمجھ سکیں اللہ ہم سبکو آسانیاں پیدا کرنے اور آسانیاں اور محبتیں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Check Also

Zahaar

By Muhammad Hanif