Tuesday, 28 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Naojawan, Ehtejaj Aur Tabdeeli Ka Janoobi Asia Mein Bedari Ya Waqti Josh?

Naojawan, Ehtejaj Aur Tabdeeli Ka Janoobi Asia Mein Bedari Ya Waqti Josh?

نوجوان، احتجاج اور تبدیلی کا جنوبی ایشیا میں بیداری یا وقتی جوش؟

کیا جنوبی ایشیا کا نوجوان واقعی ایک نئی بیداری کی طرف بڑھ رہا ہے؟ کیا پاکستان کا نوجوان بھی بنگلہ دیش اور بھارت کی طرح سڑکوں پر نکل کر اپنے مسائل کا حل تلاش کرے، یا ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو حالیہ دنوں میں شدت سے زیرِ بحث ہیں۔

اگر پہلے بنگلہ دیش کا جائزہ لیا جائے تو وہاں نوجوانوں کی تحریک کی بنیاد سیاسی حالات تھے۔ جب حکومتی سختیوں اور جبر نے حد پار کی تو نوجوانوں نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔ اس تحریک کو سیاسی اور سماجی حلقوں کی حمایت بھی حاصل ہوئی، جس کے نتیجے میں حکومت شدید دباؤ کا شکار ہوئی۔ ابتدا میں ایسا محسوس ہوا کہ نوجوانوں نے بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے، لیکن جب سیاسی عمل انتخابات کے مرحلے میں داخل ہوا تو نتائج نے واضح کر دیا کہ احتجاج اور عوامی جوش ہمیشہ انتخابی کامیابی میں تبدیل نہیں ہوتے۔ نوجوانوں کی قربانیاں تاریخ کا حصہ بن گئیں، مگر اقتدار کا فیصلہ بالآخر ووٹر نے اپنی ترجیحات کے مطابق کیا۔

بھارت میں حالیہ طلبہ تحریک کی نوعیت اس سے مختلف رہی۔ وہاں احتجاج کا مرکز تعلیمی نظام، امتحانی بے ضابطگیاں اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق خدشات تھے۔ اس تحریک میں مختلف نظریات رکھنے والے لوگ شریک تھے، لیکن ان کے درمیان کوئی مشترکہ سیاسی ایجنڈا موجود نہیں تھا۔ جیسے ہی بنیادی مطالبات پر پیش رفت ہوئی، احتجاج کی شدت بھی کم ہوتی گئی۔ اسی وجہ سے بہت سے مبصرین اسے ایک وقتی ردِعمل قرار دیتے ہیں، نہ کہ کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا آغاز۔

عرب بہار کی تاریخ اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتی ہے کہ ہر عوامی تحریک دیرپا تبدیلی کی ضمانت نہیں بنتی۔ تیونس سے شروع ہونے والی اس لہر نے کئی حکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بیشتر ممالک دوبارہ سیاسی عدم استحکام یا سخت ریاستی نظام کی طرف لوٹ گئے۔ مصر اور تیونس اس کی واضح مثالیں ہیں، جہاں عوامی امنگیں مکمل طور پر حقیقت کا روپ نہ دھار سکیں۔

سماجی علوم میں ایسی بے ساختہ عوامی سرگرمیوں کو اکثر "نان موومنٹس" کہا جاتا ہے۔ یہ وہ تحریکیں ہوتی ہیں جو عوامی بے چینی کے نتیجے میں اچانک جنم لیتی ہیں، مگر ان کے پاس واضح قیادت، منظم حکمتِ عملی یا طویل المدتی منصوبہ نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ وقتی اثر تو چھوڑتی ہیں، مگر معاشرے کی ساخت میں گہری تبدیلی لانے میں اکثر ناکام رہتی ہیں۔

پاکستان میں بھی مختلف اوقات میں ایسی تحریکیں سامنے آئیں، مگر ان کے نتائج محدود رہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور ریاستی ڈھانچے سے بھی گہرے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں طاقت کے مراکز، ہائبرڈ نظام اور پیچیدہ سیاسی ماحول کسی بھی عوامی تحریک کے لیے الگ نوعیت کے چیلنج پیدا کرتے ہیں۔

یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا نوجوان پہلے سے زیادہ باشعور ہو چکا ہے۔ وہ اپنے مسائل کو پہچانتا ہے، لیکن ان کے حل کے طریقۂ کار پر ابھی مکمل اتفاق موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جذباتی ردعمل کے بجائے حالات کا گہرا ادراک حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو ایک مثبت رویہ ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہو۔ ایک مضبوط جمہوری معاشرے میں عوام بیانیہ تشکیل دیتے ہیں اور ریاست اس بیانیے کو پالیسی کی شکل دیتی ہے۔ اگر یہ توازن برقرار رہے تو احتجاج کی ضرورت کم پڑتی ہے، لیکن اگر عوامی مسائل مسلسل نظرانداز کیے جائیں تو بے چینی بڑھنا ایک فطری عمل ہے۔

جنوبی ایشیا کے نوجوان بلاشبہ اپنے حقوق، مستقبل اور بہتر نظام کے لیے پہلے سے زیادہ حساس ہو چکے ہیں، لیکن حقیقی اور پائیدار تبدیلی صرف احتجاج سے نہیں بلکہ شعور، تنظیم، جمہوری عمل اور مضبوط اداروں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہی راستہ مثبت تبدیلی کی حقیقی ضمانت بن سکتا ہے۔

Check Also

Pesha Warana Raqabatein (2)

By Ali Raza Ahmed