Tuesday, 28 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zafar Iqbal Wattoo
  4. Ye Baba Dam Hai Bhai

Ye Baba Dam Hai Bhai

یہ بابا ڈیم ہے بھائی

چُونے اور پتھر سے سنہ 1913 میں تعمیر ہونے والا یہ ڈیم کسی اور مُلک میں ہوتا تو اسے قومی ورثہ قرار دیا جا چُکا ہوتا لیکن پاکستان کے سب سے پُرانے نمل ڈیم کی جھیل اب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔

سردار لہنہ سنگھ کی انجینیئرنگ کے شاہکار میانوالی اور تلہ گنگ کی سرحد پر تنگ پہاڑی درے پر بنے اس 91 فُٹ بلند ڈیم کا افتتاح گورنر پنجاب مائیکل اوڈائر نے 1913 میں کیا۔ نمل جھیل میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 2743 ایکڑ فُٹ تھی۔ اس سے 12 کلومیٹر طویل نہر نکلا کر 8 ہزار ایکڑ سے زیادہ رقبہ سیراب کیا گیا۔ جھیل کے مشرقی طرف ایک ڈاک بنگلہ بھی بنایا گیا جو افسرانِ بالا کے لیے ریسٹ ہاوس بھی تھا۔

تاہم اس علاقے میں کی سالوں سے بارشوں میں مسلسل کمی، معاون نالوں پر بغیر منصوبہ بندی کے تعمیر ہونے والے چھوٹے ڈیموں اور سپل وے کے دروازوں کے جام ہونے کی وجہ سے مٹی بھرنے کے بعد ڈیم کی جھیل مرچُکی ہے۔

نمل جھیل خُشک ہونے سے نہ صرف علاقے میں زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے جانا شروع ہوگئی ہے بلکہ آبی حیات کا بھی صفایا ہوگیا ہے۔ سوسال قدیم یہ ویٹ لینڈ اس وقت تباہی سے دوچار ہے۔

ہجرتی پرندوں کی پناہ گاہ خُشک پڑی ہے اور چراگاہیں بنجر ہوچکی ہیں۔ جہاں چار نسلیں پانی سے بھرے ایکڑوں پر پھیلے پانی کے ذخیرے کو دیکھتے گزریں وہاں یہ جھیل اب کیچڑ سے بھرے جوہڑ سے زیادہ کچھ زیادہ نہیں بچی۔

اس تاریخی، سیاحتی اور ماحولیاتی اہمیت کی جھیل کی بحالی ایک قومی فریضہ ہے۔

1- سب سے ضروری کام ڈیم کے سپل وے پر لگے بند دروازوں کی مرمت اور بحالی ہے تاکہ جھیل کے تین ہزار کنال رقبے کے اوپر پانی کی ایک کم سے کم مقدار کو ہر وقت برقرار رکھا جاسکے۔ اس سے نہ صرف زیرِ زمین پانی کی سطح بُلند ہوگی بلکہ جھیل کے اطراف کی چراگاہیں بھی آباد ہوں گی جہاں کسی زمانے میں لوگ مویشی چراتے تھے۔ مچھلیوں، آبی جانداروں اور پرندوں کے مساکن بحال ہوں گے۔

2- دوسرا اہم کام جھیل سے مٹی کی صفائی کرکے اس کی بحالی ہے جس کے لئے اربن یونٹ پنجاب نے تین چار سال سے پراجیکٹ بناکر رکھا ہوا ہے جو کہ فنڈز ملنے کا انتظار کررہا ہے۔ تاہم ساری جھیل سے مٹی نکالنا اور پھر اس کو سنبھالنا ایک بہت مشکل اور مہنگا کام ہے۔ اربن یونٹ کے نمل جھیل بحالی منصوبے کی لاگت 317.72 ملیئن روپے تھی۔

3- تیسرا کام ڈیم کی موجودہ جگہ سے تقریباً تین میل نیچے انہی پہاڑوں میں مناسب جگہ پر ایک نئے ڈیم کی تعمیر ہے جو کہ سب سے بہترین آپشن ہوسکتی ہے۔ اس پر محکمہ آب پاشی پنجاب کچھ ابتدائی کام اور سٹڈی کر بھی چُکا ہے لیکن ابھی تک عملی طور پر اس جانب مزید کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی۔

4- ایک متبادل حل گھبیر نالا پر زیر تعمیر ڈیم کی جھیل کی سائیڈ سے پانی لڑھکا کرکے ترپی نالے میں ڈالنا ہے جو کہ آگے جاکر نمل جھیل میں گرتا ہے۔ اس جھیل میں دو بڑے نالے آکر گرتے ہیں۔ ایک گولڑ نالا ہے جو 50 میل دور احمد ندیم قاسمی کے گاؤں انگہ سے آتا ہے اور دوسرا ترپی نالا ہے جو لاوہ سے آتا ہے۔ اس منصوبے سے تلہ گنگ کی تحصیل لاوہ کو پینے کا پانی بھی ملے گا۔

پنجاب حکومت سے اس تاریخی ویٹ لینڈ کی بحالی کے لیے خصوصی توجہ کی درخواست ہے۔ ماحولیات سے متعلقہ غیر سرکاری تنظموں کو بھی متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ رہے مقامی افراد تو وہ اس سلسلے میں ایک بھرپور تحریک چلا رہے ہیں کیونکہ اس جھیل کی بحالی سے ان کی روزی روٹی وابستہ ہے۔

اگر کُچھ نہیں ہوسکتا تو کم ازکم اس ڈیم کو بابا ڈیم ہی قرار دے دیا جائے اور اس کے اوپر چادر چڑھا کر بطورِ عبرت اس کا مزار ہی بنا دیا جائے۔ ہر نئے ڈیم کا کام شروع ہونے سے پہلے یہاں ایک عُرس کا بندوبست ہونا چاہیے تاکہ کام میں برکت پڑے۔ یہ دُنیا کا پہلا بابا ڈیم بن سکتا ہے۔

Check Also

Mashoori Ki Bhook, Bikti Hui Khalwat Aur Toot Te Rishton Ki Nafsiyat

By Umar Farooq