Mashoori Ki Bhook, Bikti Hui Khalwat Aur Toot Te Rishton Ki Nafsiyat
مشہوری کی بھوک، بکتی ہوئی خلوت، اور ٹوٹتے رشتوں کی نفسیات

چھ کروڑ اُنہتر لاکھ۔ یہ کسی ملک کی آبادی نہیں۔ یہ صرف پاکستان میں ٹک ٹاک چلانے والوں کی تعداد ہے۔ دنیا کا پانچواں بڑا ہجوم اور اسی ہجوم کے سامنے کہیں ناجائز تعلقات کا رونا پیٹا جارہا ہے۔ کہیں کسی کی ویڈیوز لیک ہورہی ہیں۔ کہیں ایک جوڑا اپنی طلاق فلما رہا ہے۔ کیمرے آن ہیں۔ میڈیا پر دن رات تماشہ چل رہا ہے۔ جس معاشرے میں کبھی غیروں کے سامنے بیوی کا نام لینا معیوب سمجھا جاتا تھا، جہاں گھر کی بات گھر کی چار دیواری میں رہتی تھی، جہاں لفظِ "طلاق" بھی دبی زبان میں کہا جاتا تھا اسی معاشرے میں آج میاں بیوی اپنی سب سے نجی لمحات کو کیمرے کے سامنے کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ لاکھوں اجنبیوں کے سامنے کہ اس سے ازدواجی ذمہ داریاں پوری نہیں ہوتیں کہ وہ تو پیشہ ور عورتوں میں گھرا رہنا پسند کرتا ہے۔ صرف کنٹینٹ کے بدلے۔ پچھلے کچھ عرصے میں چند مشہور سوشل میڈیائی جوڑوں کی علیحدگی کی ویڈیوز وائرل ہوئیں اور ہر بار پورا ملک اسٹیج ڈرامہ دیکھنے بیٹھ گیا۔ ہم نے اپنی سب سے مقدس خلوت کو تماشہ بنا دیا ہے۔
آج کے تخلیق کار (کنٹینٹ کری ایٹر) کی دنیا میں ایک اصول باقی سب اصولوں کو نگل جاتا ہے۔ ہر چیز کنٹینٹ ہے۔ خوشی کنٹینٹ ہے، غم کنٹینٹ ہے، جھگڑا کنٹینٹ ہے اور ہاں، طلاق بھی کنٹینٹ ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ ٹوٹتے رشتوں کی ویڈیوز سب سے تیزی سے وائرل ہوتی ہیں۔ الگورتھم کو انسانی سکون میں کوئی دلچسپی نہیں۔ اسے اشتعال چاہیے، آنسو چاہیے، تماشا چاہیے۔ جو ویڈیو جتنا بڑا جذباتی طوفان اٹھائے، مشین اسے اتنا ہی اوپر لے جاتی ہے۔ سکون بکتا نہیں، تماشا بکتا ہے اور اوپر جانے کا مطلب صرف شہرت نہیں، پیسہ ہے۔ ایک وائرل ویڈیو کے پیچھے ویوز ہیں، ویوز کے پیچھے اشتہار اور برانڈ کے پیسے ہیں۔ اُس ملک میں جہاں محنت کے باوجود مہینہ پورا کرنا مشکل ہو، جہاں پڑھا لکھا نوجوان نوکری کے لیے دھکے کھاتا ہو، وہاں ایک وائرل ٹوٹتی شادی سال بھر کی ایمان دار کمائی سے زیادہ کما سکتی ہے۔ اِس زاویے سے دیکھیں تو اپنی تکلیف بیچنا پاگل پن نہیں لگتا حساب کتاب لگتا ہے اور ہم اس حساب کتاب کے ماہر ہوتے جارہے ہیں۔
اسکرین کا رشتہ جو ہم کسی سکرین پر نظر آنے والے شخص سے جوڑ لیتے ہیں یک طرفہ رشتہ ہوتا ہے، حالانکہ اُسے ہمارے وجود کی خبر تک نہیں ہوتی۔ ناظر محبت کرتا ہے، بھروسا کرتا ہے، مالک ہونے کا احساس پال لیتا ہے اور دوسری طرف بیٹھا تخلیق کار وہ اسے جانتا تک نہیں۔ اب سوچیں، جب کوئی جوڑا اپنی ازدواجی زندگی سکرین پر "پرفارم" کرنے لگے، تو وہ لاکھوں ناظرین اُن کے کمرے میں ایک غیر مرئی تیسرے فرد کی طرح آ بیٹھتے ہیں۔ شادی اب دو کے بیچ نہیں رہتی وہ بیس لاکھ کے بیچ آ جاتی ہے اور کوئی کسی کے ساتھ سچی قربت نہیں پا سکتا جب بیس لاکھ آنکھیں اسے دیکھ رہی ہوں۔ خلوت کی تعریف ہی یہ ہے کہ اُس میں کوئی تیسرا نہ ہو۔ پھر ایک اور چیز ہوتی ہے۔ ہر لائیک دماغ میں ڈوپامائن کی ننھی سی لہر چھوڑتا ہے۔ دماغ اِس لہر کا عادی ہو جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ انسان کی اپنی قدر باہر کی توثیق سے بندھ جاتی ہے۔
لوگ دیکھیں تو میں ہوں، نہ دیکھیں تو میں کچھ بھی نہیں اور جب اصل ذات اور آن لائن کردار آپس میں گھل مل جائیں، تو انسان یہ پہچاننا چھوڑ دیتا ہے کہ اداکاری کہاں ختم ہوتی ہے اور زندگی کہاں شروع۔ قرآن گھر کے رشتے کو ایک نہایت لطیف لفظ سے بیان کرتا ہے: سکینہ، یعنی وہ اطمینان جو دو دلوں کے ملنے سے پیدا ہوتا ہے۔ سورۃ الروم میں ہے کہ اللہ نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی تاکہ تم ایک دوسرے میں سکون پاؤ۔ سکینہ اور اسٹیج ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اسٹیج تماشے کا مطالبہ کرتا ہے، تماشے کو ناظر چاہیے اور ناظر ہمیشہ نیا مسالہ مانگتا ہے۔ جہاں پرفارمنس آ جائے، وہاں سے سکینہ چپ چاپ اٹھ کر چلا جاتا ہے۔ ازدواجی راز فاش کرنے کو سب سے بڑی خیانتوں میں شمار کیا گیا اور آج ہم وہی خیانت لائیک کے بدلے، اپنی مرضی سے بخوشی کرتے ہیں۔
تحقیق بتاتی ہے کہ سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال ازدواجی اطمینان کو گھٹاتا ہے، جھگڑے اور شک کو بڑھاتا ہے۔ ایک بڑی وجہ "موازنہ" ہے۔ سکرین پر ہر کوئی اپنی زندگی کا سب سے چمکدار، سب سے سجایا ہوا لمحہ دکھاتا ہے۔ ہم اپنی اصل، تھکی ہوئی، عام سی زندگی کا مقابلہ دوسروں کے اِن سجے ہوئے مناظر سے کرتے ہیں اور اپنا شریکِ حیات اچانک کم تر لگنے لگتا ہے۔ ہم جس کے ساتھ ہیں، اُس سے بدظن ہو جاتے ہیں، اُس کے لیے جو نہیں ہے۔ یہ سب ایک پوری نسل دیکھ رہی ہے اور بچے وہی سیکھتے ہیں جو دیکھتے ہیں۔ آج کا نوجوان یہ سیکھ رہا ہے کہ محبت ایک پرفارمنس ہے، جھگڑا ایک کنٹینٹ ہے اور "دِکھنے" کا واحد راستہ اپنے آپ کو کھول کر رکھ دینا ہے۔ وہ سیکھ رہا ہے کہ اُس کی اپنی رسوائی کی بھی ایک بازاری قیمت ہے اور سب سے خطرناک بات حیا، وہ اسلامی اور ثقافتی احساس جو ہمیں بتاتا ہے کہ کچھ باتیں ڈھکی رہنی چاہئیں، اب اُسے "کنٹینٹ"کہہ کر مذاق بنا دیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا کی وجہ سے ہم انسان ایک ایسے جال میں پھنس گئے ہیں جو اُن کی عزتِ نفس کو کرنسی میں بدل دیتا ہے۔ میرے خیال میں اس کی تین وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی، معاشی وجہ ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں نوجوانوں کا سیلاب ہے اور نوکریاں کم، وہاں "انفلوئنسر" بننا کبھی کبھی باہر نکلنے کی واحد نظر آتی سیڑھی لگتی ہے۔ دوسری، نفسیاتی: دیکھے جانے، پہچانے جانے کی وہ فطری انسانی بھوک، جسے یہ مشین جان بوجھ کر بھڑکاتی ہے اور تیسری، ساختی: پرانے خاندان، بڑے بزرگ جو معاشرے کی نجی باتوں کو نجی رکھتے تھے، اب کمزور پڑ چکے ہیں، ملکی مشینری اور ریگولیٹری اتھارٹیز کا ان معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں اور اُن کی جگہ ایک الگورتھم نے لے لی ہے جو اِن دیواروں کے گرنے پر انعام دیتا ہے۔
میرے ایک دوست بتاتے ہیں کہ ان جاننے والوں میں ایک نوجوان جوڑا تھا۔ شادی کے شروع میں دونوں خوش تھے۔ پھر انہوں نے "کپل کنٹینٹ" بنانا شروع کیا۔ چھوٹی چھوٹی، پیار بھری، مسکراتی ویڈیوز۔ لوگوں کو پسند آئیں، فالوورز بڑھے اور پھر ایک عجیب چیز ہوئی۔ وہ اصل زندگی میں خاموش رہنے لگے مگر کیمرے کے سامنے مسکراتے۔ کیمرہ آف ہوتے ہی گھر میں ایک سرد خلا اُتر آتا۔ ناظرین کو اُن کی شادی حقیقت سے زیادہ سچی لگتی تھی مگر ہوا یہ کہ معاملات بگڑنے لگے۔ آخرکار وہی سوشل میڈیا اُنہیں نگل گیا۔ جو رشتہ کنٹینٹ بن جائے، اُس کے اندر بچانے کے لیے کوئی نجی مرکز باقی نہیں رہتا۔
میری قارئین سے درخواست ہے کہ سب سے پہلے یہ طے کریں کہ کچھ چیزیں مقدس ہیں اور فروخت کے لیے نہیں ہیں۔ ہر گھر میں ایک ایسا کمرہ ہونا چاہیے جہاں کیمرہ کبھی داخل نہ ہو آپ کے رشتے کی خلوت وہی کمرہ ہے۔ اپنے بچوں اور چھوٹوں کو سکھائیں کہ سکرین پر جو نظر آتا ہے وہ سجایا ہوا منظر ہے، پوری زندگی نہیں، یہی سادہ شعور اُنہیں بے جا موازنے کے زہر سے بچا لیتا ہے اور اگر آپ کو محسوس ہو کہ آپ کی اپنی قدر لائیک اور توثیق کی بھوک میں ڈوبتی جا رہی ہے، یا آپ کا رشتہ دکھاوے کے بوجھ تلے دم توڑ رہا ہے تو یہ کمزوری نہیں، ایک زخم ہے اور زخم چھپانے کے نہیں، بھرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ کسی ماہرِ نفسیات سے بات کرنا اُسی طرح دانائی ہے جیسے جسم کے زخم کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانا۔

