Tuesday, 28 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Haji Mastan (2)

Haji Mastan (2)

حاجی مستان (2)

میٹروپولیٹن یا بڑے تجارتی شہروں میں ایک تو سرکاری حکومت ہوتی ہے اور ایک غیر سرکاری مگر متوازی جسے عرف عام میں انڈرورلڈ کہا جاتا ہے۔ سرکاری حکومت قانون قاعدے سے چلتی ہے۔ انڈرورلڈ خوف، اعتماد اور شہرت یا اپنی ساکھ سے۔ ستر کی دہائی کے وسط کا بمبئی انہی دو حکومتوں کے درمیان تقسیم تھا۔ دن کے وقت عدالتیں کھلتی تھیں مگر شام ڈھلتے ہی کئی مالیاتی و زمینی تنازعات ایسے دروازوں پر پہنچ جاتے جہاں نہ جج بیٹھتا تھا، نہ وکیل۔ وہاں صرف ایک شخص بیٹھتا تھا اور اس کا فیصلہ دونوں فریق خاموشی سے قبول کر لیتے تھے۔ بمبئی میں اگر کسی ایک نام نے اس غیر رسمی عدالت یا انڈرورلڈ آپریشنز کو سب سے زیادہ طاقت دی تو وہ کریم لالہ تھا۔

عبدالکریم خان پاکستان کے سرحدی علاقے سے روزگار کی تلاش میں بمبئی آیا تھا۔ اس زمانے میں بمبئی صرف ہندوستان کا شہر نہیں تھا بلکہ پورے برصغیر اور آس پاس کے خطے کا معاشی مرکز تھا۔ افغانستان، پشاور، نیپال، برما وغیرہ سے لوگ یہاں قسمت آزمانے آتے تھے۔ کریم لالہ بھی انہی ہزاروں مہاجروں میں شامل تھا مگر اس کے خواب دوسروں سے بڑے تھے۔ اس کے پاس نہ سرمایہ تھا، نہ تعلیم، نہ کوئی بڑا ہنر لیکن ان کے پاس ایک چیز تھی جس کی بمبئی کی گلیوں میں ہمیشہ قیمت رہی ہے اور وہ تھی اثر پیدا کرنے کی صلاحیت۔ اس نے بمبئی میں ایک سوشل کلب قائم کیا جو حقیقت میں جوئے کا اڈہ تھا۔ وہاں روزانہ ہر طبقے کے لوگ آتے۔ کوئی اپنی قسمت آزمانے، کوئی اپنی قسمت ہارنے۔ جو لوگ ہار جاتے، انہیں قرض درکار ہوتا۔ قرض کے ساتھ سود آتا اور سود کے ساتھ ایک نیا کاروبار جنم لیتا۔ رفتہ رفتہ کریم خان صرف جوئے کے اڈے کا مالک نہ رہا بلکہ قرض دینے والا "لالہ" بن گیا۔ یہی لقب آگے چل کر اس کی شناخت بن گیا۔ کریم لالہ۔

بمبئی میں آباد پٹھان برادری تعداد میں زیادہ تھی اور باہمی رشتوں کو اہمیت دیتی تھی۔ جب کسی کو جھگڑا پیش آتا، جب کوئی گرفتار ہوتا، جب کسی کو مالی یا جسمانی مدد درکار ہوتی تو لوگ کریم لالہ کے پاس پہنچتے۔ اس نے اپنے گرد وفادار لوگوں کا ایک حلقہ بنا لیا۔ یہ کوئی باقاعدہ تنظیم نہیں تھی، لیکن ہر شخص جانتا تھا کہ اگر کریم لالہ نے کسی کی حمایت کا اعلان کر دیا تو معاملہ بدل سکتا ہے۔ اس زمانے میں بمبئی کی عدالتوں میں مقدمات برسوں چلتے تھے۔ بڑے تاجروں کو فوری فیصلے چاہیے ہوتے تھے۔ یہ ضرورت کریم لالہ جیسے ثالثوں کے لیے ایک موقع بن گئی۔ وہ دونوں فریقوں کو بٹھاتا اور فیصلہ سنا دیتا۔ بیٹھک کے باہر درجنوں پٹھان نوجوان کریم لالا کے اشارے کے منتظر کھڑے رہتے۔

اسی عرصے میں بمبئی میں "پگڑی سسٹم" کے تحت دیے گئے مکانات ایک بڑا مسئلہ بن چکے تھے۔ پرانے کرایہ دار خالی نہیں کرتے تھے اور مکان مالکان عدالتوں کے چکر کاٹتے رہتے تھے۔ ایسے میں کریم لالہ کے آدمیوں کی مانگ بڑھ گئی۔ صرف یہ خبر کافی ہوتی کہ لالہ نے بلا لیا ہے۔ اکثر اوقات کسی طاقت کے استعمال کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی تھی۔ نام ہی کافی ہوتا تھا۔

وہیں بمبئی پورٹ پر حاجی مستان اسمگلنگ کی دنیا میں اپنا مقام بنا چکا تھا مگر اسے ایک مسئلہ درپیش تھا۔ کاروبار بڑھ رہا تھا مگر اس کاروبار کی حفاظت کے لیے ایسے لوگوں کی ضرورت تھی جن کا نام ہی مزاحمت ختم کر دے۔ کریم لالہ اس ضرورت کا جواب تھا۔ ایک دن حاجی مستان نے ڈونگری محلے کی جامع مسجد میں جمعے کی نماز کے بعد کریم لالہ کو جا لیا۔ مسجد میں گفتگو شروع ہوئی اور کاروبار پر ختم۔ یہیں ایک ایسا اتحاد وجود میں آیا جس نے بمبئی کی جرائم پیشہ دنیا کا توازن بدل دیا۔ حاجی مستان سرمایہ، منصوبہ بندی اور تجارتی ذہن رکھتا تھا۔ کریم لالہ کے پاس افراد اور اثر و رسوخ کی طاقت تھی۔ ایک کے پاس دماغ تھا دوسرے کے پاس بازو۔

بمبئی کے نقشے پر تین نام سب سے نمایاں تھے۔ حاجی مستان۔ کریم لالہ اور وردراجن مدالیار۔ یہ تینوں ایک دوسرے سے مختلف تھے مگر ایک دوسرے کے بغیر اپنی طاقت بھی مکمل نہیں تھی۔ اگر کسی نے بمبئی کی زیرِ زمین معیشت کو کاروبار کی زبان سکھائی تو وہ حاجی مستان تھا۔ وہ جانتا تھا کہ بندوق سے آدمی ڈر تو سکتا ہے، مگر سرمایہ کاری نہیں کرتا۔ اس لیے اس نے اپنی شناخت ایک ایسے تاجر کی بنائی جو سفید لباس پہنتا، مہنگی گاڑیوں میں چلتا اور فلمی دنیا کے لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا۔ وہ خود کو غنڈہ نہیں بلکہ کاروباری شخص کے طور پر پیش کرنا پسند کرتا تھا۔ اس کے لیے اصل طاقت بندرگاہ تھی۔ جہاز۔ کارگو۔ گودام اور دبئی سے آنے والا سونا۔

کریم لالہ اس کے پاس بندرگاہ نہیں تھی، مگر ایسے لوگ تھے جنہیں دیکھ کر دوسروں کے حوصلے پست ہو جاتے تھے۔ اس کی طاقت صرف اس کے آدمی نہیں تھے اس کا نام تھا۔ ایک ایسا نام جو کئی جھگڑے لڑے بغیر ختم کرا دیتا تھا اور جس کے نام میں دہشت تھی۔ ان تینوں میں سب سے زیادہ عوامی مقبولیت کسی کو ملی تو وہ وردراجن مدالیار تھا۔ تامل برادری میں اس کا اثر غیر معمولی تھا۔ وہ غریبوں کی مدد کرتا۔ مذہبی تقریبات میں چندہ دیتا۔ ضرورت مندوں کی شادیوں میں تعاون کرتا۔ یہ تینوں جانتے تھے کہ مسلسل جنگ کسی کے حق میں نہیں۔ اس لیے ہر ایک کا اپنا دائرہ مقرر تھا۔ کوئی بندرگاہ پر زیادہ مضبوط تھا۔ کوئی جنوبی بمبئی میں۔ کوئی وسطی علاقوں میں۔

اسی زمانے میں بالی ووڈ تیزی سے پھیل رہا تھا۔ فلمیں بن رہی تھیں۔ سینما ہال کھل رہے تھے۔ سرمایہ درکار تھا۔ بینک ہر منصوبے کو قرض نہیں دیتے تھے۔ جہاں سرمایہ کم پڑتا وہاں غیر رسمی سرمایہ راستہ ڈھونڈ لیتا۔ یہی وہ دور تھا جب فلمی صنعت اور انڈرورلڈ کے درمیان مالی روابط قائم ہونے لگے۔ طاقت کبھی تنہا نہیں چلتی۔ کاروبار کو تحفظ چاہیے۔ سیاست کو وسائل اور مقامی اثرورسوخ رکھنے والوں کو سرپرستی۔ اسی لیے سیاست دان، مقامی بااثر افراد اور جرائم پیشہ عناصر ایک دوسرے کے قریب آتے رہے۔

بمبئی میں گینگ کو کمپنی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ پٹھان کمپنی کی دھوم مچ رہی تھی۔ پولیس پٹھان کمپنی کے چلن اور کریم لالہ سے ناواقف نہیں تھی۔ ان کے جوئے کے اڈوں پر چھاپے بھی پڑتے۔ تفتیش بھی ہوتی۔ مگر اس دور میں قانون نافذ کرنے کا نظام خود کئی کمزوریوں کا شکار تھا۔ پولیس والے بھی ایک ایک کرکے پٹھان کمپنی کا حصہ دار بننے لگے۔ البتہ ایک پولیس اہلکار ایسا تھا جس کے بارے میں بمبئی پولیس میں خاص ذکر آتا ہے۔ یہ ایک دیانت دار ہیڈ کانسٹیبل تھا ابراہیم کاسکر۔ یہی ابراہیم کاسکر آگے چل کر ایک ایسے شخص کا باپ بنا جس کا نام بعد میں برصغیر کی جرائم پیشہ تاریخ کا سب سے معروف نام بن گیا۔ داؤد ابراہیم کاسکر المعروف داؤد ابراہیم۔ ہیڈ کانسٹیبل ابراہیم کاسکر سچ میں دیانتدار شخص تھا۔ اس کے بارہ بچے تھے جن میں سات بیٹے اور باقی بیٹیاں تھیں۔ ان سات بیٹوں میں سے دو صابر کاسکر اور انیس کاسکر اپنے چھوٹے بھائی داؤد ابراہیم کی جرائم کی دنیا کے ساتھی بنے۔ جبکہ ایک بہن حسینہ پارکر جرائم کی دنیا میں "مافیا کوئین" کے نام سے جانی گئی۔ ان کا ذکر آگے ہوگا۔

اسی دوران ڈونگری کی گلیوں میں ایک شریف ہیڈ کانسٹیبل کا بیٹا خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ مستان دولت سے حکومت کرتا ہے، کریم لالہ خوف سے اور وردراجن عوامی حمایت سے۔ ہر ایک کے پاس طاقت کا الگ فارمولا تھا۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ اگر یہ تینوں طاقتیں ایک ہی نظام میں جمع ہو جائیں تو؟ داؤد نے ان تینوں سے کچھ نہ کچھ سیکھا۔ مستان سے کاروباری نظم۔ کریم لالہ سے ساکھ اور خوف کی اہمیت اور وردراجن سے مقامی نیٹ ورک کی طاقت۔ ابتدائی طور پر وہ حاجی مستان کے ہاں "نوکری" کرنے لگا۔ نوکری ظاہر ہے ہیر پھیر کے کاموں سے منسلک تھی۔ مستان اسے ہونہار بچہ سمجھتا تھا اور ویسے ہی ٹریٹ کرتا تھا۔ مگر وہ ان سب جیسا بننا نہیں چاہتا تھا۔ وہ ان سب سے بڑا بننا چاہتا تھا۔ اسی لیے اس نے ابتدا ہی سے شہر کی حدود سے باہر سوچنا شروع کیا۔ اس کی نظر صرف بمبئی پر نہیں تھی۔ وہ دبئی کو بھی دیکھ رہا تھا، کراچی کو بھی، حتی کہ آنے والے سالوں میں ڈی کمپنی (داؤد گینگ) کا قانونی کاروبار دنیا کے گیارہ ملکوں تک پھیل گیا اور اب بھی موجود ہے۔ اس میں نیپال، امارات، بھوٹان، چائنہ وغیرہ شامل ہیں۔ سو اس کی نظر بہت آگے کا دیکھ رہی تھی۔

تاریخ کا ہر طاقتور کردار ایک دن اپنے جانشین کو جگہ دیتا ہے۔ کبھی خوشی سے۔ کبھی مجبوری میں اور کبھی اس لیے کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ ستر کی دہائی کے اختتام تک پہلی مافیا نسل اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ ان کے بعد آنے والے لوگ زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھے مگر زیادہ منظم تھے، زیادہ بے رحم تھے اور زیادہ بین الاقوامی سوچ رکھتے تھے۔ بمبئی اب ایک نئے دور میں داخل ہونے والا تھا۔ گینگ وار شروع ہونے والی تھی۔ ڈی کمپنی اُبھرنے والی تھی۔ بمبئی پولیس، سی بی آئی اور داؤد ابراہیم آپس میں قتل و غارت میں مشغول ہونے والے تھے۔ بمبئی تاریخ کی ناقابلِ یقین خونی جنگ میں بدلنے والا تھا۔

Check Also

Pesha Warana Raqabatein (2)

By Ali Raza Ahmed