Tuesday, 28 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Atiq Chaudhary
  4. Supply Chain Ki Behri Bisat

Supply Chain Ki Behri Bisat

سپلائی چین کی بحری بساط

اکیسویں صدی میں عالمی طاقت کا معیار بدل چکا ہے۔ اب جنگیں صرف ٹینکوں، میزائلوں اور فوجی قوت سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ معیشت، عالمی تجارتی راستوں اور سپلائی چین پر کنٹرول ہی اصل طاقت کی علامت بن گیا ہے۔ دنیا کی 80 فیصد سے زائد تجارت سمندری راستوں سے ہوتی ہے، جبکہ توانائی، خوراک، خام مال اور جدید ٹیکنالوجی کی ترسیل چند انتہائی حساس بحری گزرگاہوں پر منحصر ہے۔ اسی لیے باب المندب، نہر سویز، آبنائے ملاکا، بحیرہ جنوبی چین اور بالخصوص آبنائے ہرمز آج عالمی سیاست کے سب سے اہم اسٹریٹجک مراکز بن چکے ہیں۔

تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے۔ ابن خلدون نے صدیوں پہلے لکھا تھا کہ جو ریاستیں اپنے تجارتی راستوں پر گرفت کھو دیتی ہیں، ان کا سیاسی اور معاشی زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بعد ازاں الفریڈ تھائر مہان نے سمندری طاقت کو عالمی بالادستی کی بنیاد قرار دیا، جبکہ ہالفورڈ میکنڈر نے بھی جغرافیائی محل وقوع کی اسٹریٹجک اہمیت واضح کی۔ موجودہ عالمی منظرنامہ ان نظریات کی عملی تصویر پیش کر رہا ہے، جہاں بحری راستوں پر غلبے کی نئی دوڑ جاری ہے۔

گزشتہ چند برسوں نے عالمی سپلائی چین کی کمزوری بھی آشکار کر دی ہے۔ بحیرہ احمر میں حملوں کے باعث سینکڑوں تجارتی جہازوں نے نہر سویز کا مختصر راستہ چھوڑ کر کیپ آف گڈ ہوپ کا طویل سفر اختیار کیا، جس سے شپنگ اخراجات، انشورنس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اسی طرح روس-یوکرین جنگ نے بحیرہ اسود کو غذائی بحران کا مرکز بنا دیا اور اناج کی فراہمی متاثر ہونے سے متعدد ترقی پذیر ممالک شدید معاشی دباؤ کا شکار ہوئے۔

دوسری جانب امریکہ اور چین کی بڑھتی ہوئی مسابقت نے آبنائے ملاکا، بحیرہ جنوبی چین اور تائیوان کے گرد کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔ سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت اور جدید الیکٹرانکس کی عالمی سپلائی انہی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔ چین اپنی "ملاکا ڈائلیما" سے نکلنے کے لیے متبادل راہداریوں پر سرمایہ کاری کر رہا ہے، جبکہ گوادر بندرگاہ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) بھی اسی وسیع جیو اکنامک حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔ ان تمام گزرگاہوں میں آبنائے ہرمز کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ دنیا کے تقریباً ایک تہائی خام تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں معمولی کشیدگی بھی عالمی توانائی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔

حالیہ بحران میں امریکہ اور ایران کے تعلقات دوبارہ تناؤ کا شکار ہوئے، جبکہ خلیج فارس میں عسکری سرگرمیوں نے خطے کے امن پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کی بے چینی مزید بڑھ گئی۔۔ ایسے وقت میں جب پاکستان اور قطر کی مخلصانہ ثالثی سے امن آبنائے ہرمز سے اپنا راستہ بنا رہا تھا، سعودی عرب اور قطر کے تجارتی جہازوں پر ڈرون حملوں کے چونکا دینے والے واقعے نے امن کوششوں کو گہرا دھچکا پہنچایا۔ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے یہ کارروائی اس نازک موڑ پر سامنے آئی جب ایران میں سپریم لیڈر کی تدفین کی آخری رسومات جاری تھیں۔ اس اچانک کشیدگی کے جواب میں امریکی صدر کے حکم پر ایرانی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے، جس کے بعد دونوں ممالک کے مابین قائم ہونے والے امن معاہدے (ایم او یو) کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا۔

اس سنگین صورتحال میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور ناکہ بندی کے اعلان نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، جس کی بدولت عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور امریکہ و ایران کی اس دیرینہ چپقلش کے باعث اب پوری دنیا کی معیشت پس کر رہ گئی ہے۔ اس تمام صورتحال میں یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ کیا ایرانی قیادت یہاں کسی گہرے ٹریپ کا شکار تو نہیں ہو رہی؟

خطے کے بدخواہ اور دشمن عناصر تو ہمیشہ سے یہی چاہتے ہیں کہ مسلم ممالک کسی نہ کسی طرح آپس میں دست و گریبان رہیں تاکہ ان کی اپنی بالادستی قائم رہے۔ ایسے میں تمام متعلقہ ممالک کے لیے ضروری ہے کہ جذبات کے بجائے تدبر، سفارت کاری اور علاقائی تعاون کو ترجیح دیں۔ برادر اسلامی ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کی محاذ آرائی نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگی۔ اس بحران کا ایک اہم پہلو بین الاقوامی بحری قوانین بھی ہیں۔ قدرتی بحری گزرگاہیں پوری دنیا کے مشترکہ تجارتی مفاد کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ اگر کوئی ساحلی ریاست یکطرفہ طور پر ان راستوں پر اضافی پابندیاں یا مالی شرائط عائد کرنے کی کوشش کرے تو یہ صرف ایک مقامی تنازع نہیں رہے گا بلکہ عالمی تجارت کے لیے خطرناک مثال بن جائے گا۔ اگر ایسی روایت قائم ہوگئی تو باسفورس، باب المندب، ملاکا اور دیگر اہم گزرگاہوں پر بھی اسی نوعیت کے مطالبات سامنے آسکتے ہیں، جو عالمی سپلائی چین کے لیے شدید خطرہ ثابت ہوں گے۔

اس کے برعکس نہر سویز اور پاناما کینال کی حیثیت مختلف ہے کیونکہ یہ انسانوں کی تعمیر کردہ آبی گزرگاہیں ہیں، جہاں انتظامی اخراجات کے تحت ٹول وصول کیا جاتا ہے، جبکہ قدرتی آبناؤں کے حوالے سے بین الاقوامی قانون کا تصور بالکل مختلف ہے۔ یہی قانونی فرق آج عالمی سفارت کاری کے اہم ترین مباحث میں شامل ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ شدید کشیدگی کے باوجود بیشتر خلیجی ممالک نے تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کسی بڑی جنگ کی قیمت صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ معیشت، تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی زندگی میں بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔ اسی لیے خطے میں امن برقرار رکھنا صرف سیاسی ضرورت نہیں بلکہ معاشی ناگزیرت بھی ہے۔ آنے والے برسوں میں عالمی مقابلہ تیل کے ذخائر سے زیادہ ان سمندری راستوں اور اقتصادی راہداریوں پر ہوگا جہاں سے تجارت اور توانائی کا بہاؤ جاری رہتا ہے۔

امریکہ کی "فریڈم آف نیویگیشن"، چین کا "بیلٹ اینڈ روڈ" منصوبہ اور روس کی آرکٹک حکمت عملی اسی نئی عالمی مسابقت کے مختلف پہلو ہیں۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ گوادر بندرگاہ، بحیرہ عرب تک براہِ راست رسائی اور علاقائی اقتصادی راہداریوں میں پاکستان مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ داخلی سیاسی استحکام، معاشی مضبوطی اور متوازن خارجہ پالیسی کو قومی ترجیح بنایا جائے۔ حقیقت یہی ہے کہ آج جغرافیہ صرف نقشوں پر کھینچی ہوئی سرحدوں کا نام نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی ترقی اور عالمی اثرورسوخ کا بنیادی ذریعہ بن چکا ہے۔ جو ریاستیں اپنی بحری تجارت، سپلائی چین اور اسٹریٹجک گزرگاہوں کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوں گی، وہی مستقبل کی عالمی معیشت میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔ اگر آبنائے ہرمز جیسے حساس راستے مسلسل کشیدگی کا شکار رہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا ایک نئے معاشی بحران اور سپلائی چین کے شدید تعطل کا سامنا کر سکتی ہے۔

Check Also

Chalak Kawa Aur Muhammad Sharif Ki Muhabbat Bhari Kahani

By Shair Khan