Wednesday, 01 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Maghrabi Bangal Mein Qissa e Pareena Bani Communist Party

Maghrabi Bangal Mein Qissa e Pareena Bani Communist Party

مغربی بنگال میں قصّہ پارینہ بنی کمیونسٹ پارٹی

کلکتہ کا ذکر جاری رکھتے ہوئے یاد آیا کہ 13نومبر1984ء کی صبح اس شہر کی پرنس سپ سٹریٹ میں واقع ایک ہوٹل میں اپنے بستر سے اٹھا تو خیال آیا کہ بطور پاکستانی مجھے مقامی پولیس کے دفتر میں اپنے قیام کا اندراج درکار ہے۔ ناشتے کے بعد تیار ہوکر نیچے آیا تو کائونٹر پر کھڑے شخص سے قریبی تھانے کا پوچھا۔ اس نے بتایا کہ ہوٹل سے باہر نکل کر دائیں ہاتھ مڑکر گلی کی نکڑ تک پہنچنے کے بعد بائیں ہاتھ ہوجائوتو تھوڑی دیر چلنے کے بعد مجھے لال بازار تھانے کی عمارت نظر آجائے گی۔ اس کے بتانے سے یاد آیا کہ ہلواڑہ ریلوے اسٹیشن سے ہوٹل آتے ہوئے میں اس عمارت کے پاس سے گزرا تھا۔

تھانے پہنچا تو وہاں تیر کے نشان کے ساتھ انگریزی زبان میں غیر ملکیوں کا اندرج کرنے والے کمرے کا راستہ دکھایا گیا تھا۔ دو کمرے تھے جن میں تین پولیس والے سادہ کپڑوں میں میزوں پر بیٹھے تھے۔ میں ایک کے پاس پہنچا تو اس نے مجھے برصغیر کے علاوہ کسی اور ملک کا باشندہ سمجھتے ہوئے انگریزی میں میرے ملک کا پوچھا۔ میں نے تھیلے سے پاکستانی پاسپورٹ نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ اسے دیکھ کر وہ شک سے نہیں بلکہ تجسس سے چونکا۔ اپنے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور میری تفصیلات ایک رجسٹر میں درج کرنا شروع ہوگیا۔ تفصیلات کو رجسٹر میں درج کرلینے کے بعد وہ بائیں ہاتھ موجود ایک اور کمرے میں رجسٹر اٹھاکر چلا گیا۔ مجھے شبہ ہوا کہ وہ اپنے افسر سے میرے اندراج کے کاغذ پر دستخط کروانے گیا ہے۔ وہاں داخل ہونے کے چند ہی لمحوں بعد مگر اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے اندر بلایا تو میں ذہنی طورپر تفتیش کے لئے تیار ہوگیا۔

غالباََ ڈی ایس پی رینک کا ایک سمارٹ افسر تھا۔ اپنے ہاتھ میں رکھے پاسپورٹ کو دیکھتے ہوئے اس نے میری جائے ولادت لاہور کا نام لیا اور اس امر پر حیرانی کا اظہار کیا کہ پاکستان کے پنجاب میں پیدا ہونے کے باوجود میرا کلکتہ سے ایسا کیا رشتہ ہے کہ میں اس شہر آیا ہوں۔ میں نے چرب زبان دیانتداری سے اسے بتایا کہ بچپن سے بنگال کے جادو اور کالی ماتا کا ذکر سنا ہے۔ کالج میں ٹیگور کی تحریریں پڑھیں اور بعدازاں ستیہ جیت رے کی فلمیں دیکھیں۔ اس کے علاوہ سبھاش چندربوس کا ذکر بھی کثرت سے سنا ہے جو برطانوی سامراج کے خلاف جاپان اور جرمنی کی مدد سے مسلح جدوجہد کے ذریعے آزادی کی جنگ لڑنا چاہتے تھے۔ اس نے میرے بتائے ہر لفظ پر ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اعتبار کیا۔

مجھ سے پوچھا کہ میں کتنے روز تک کلکتہ میں رہوں گا۔ میں نے پانچ مزید دن رہنے کی تمنا بتائی۔ اندراج کے کاغذ کی نقل اپنے دستخطوں کے ساتھ مجھے تھماتے ہوئے اس نے مگر دو دن بعد کی تاریخ ڈال دی۔ پاکستان سے اندراگاندھی کے قتل کے چند ہی دن بعد آئے صحافی کے ساتھ یہ حیران کن دوستانہ رویہ تھا وگرنہ مجھے ہوٹل چھوڑتے ہوئے اس کے دفتر دوبارہ لو ٹنے کے بعد اپنے کلکتہ سے رخصت کے پروانے پر دستخط کروانا ہوتے۔

میرے شکریہ ادا کرنے سے قبل ایک چھوٹی پیالی میں گرم کافی بھی آگئی۔ اپنے سامنے رکھی کافی کو اٹھانے سے قبل اس نے دوستانہ انداز میں پوچھا کہ پولیس اندراج کروالینے کے بعد میں سب سے پہلے کہاں جانا چاہتا ہوں۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسٹ) کا مرکز بطور صحافی میری اولیں ترجیح تھی۔ میں نے اس کا پتہ پوچھا تو اس نے بتایا کہ تھانے سے باہر نکل کر تھوڑی دیر چلوتوٹرام کا سٹاپ آئے گا۔ ہماری نئی نسل کو شاید ٹرام نامی سواری سے واقفیت نہیں۔ یہ سڑکوں پر ریل کے ڈبے کی صورت چلا کرتی تھی۔ بچپن میں اسے کراچی میں چلتے ہوئے دیکھا ہے۔ پاکستان کے کسی اور شہر میں نظر نہیں آئی۔

پولیس والے نے بتایا کہ دائیں ہاتھ جاتی ٹرام پر بیٹھ جائوں تو آخری سٹاپ پر ا یک سکوائر آئے گا۔ اس سکوائر کا نام جو اس نے بتایا مجھے اس کی سمجھ نہ آئی۔ ٹرام سے اتر کر دائیں بائیں دوکانوں کے سائین بورڈ دیکھے تو دریافت ہواکہ جس چوک کا وہ ذکر کررہا تھا وہ درحقیقت حضرت علیؓ کے نام سے منسوب ہے۔ "مولا علی سکوائر" اس چوک کا نام تھا۔ اس چوک اترا تو پولیس والے کے مطابق میرے بائیں ہاتھ علم الدین سٹریٹ نظر آگئی۔ اس میں داخل ہوتے ہی ایک بلند اور کشادہ "کوٹھی" نما عمارت پر نظر پڑی۔ اس پر لال سیاہی میں درانتی اور ہتھوڑا کندہ تھے۔ نیچے بنگالی لکھی تھی میں سمجھ گیا کہ یہ کمیونسٹ پارٹی کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ اس کی جانب بڑھتے ہوئے عمارت کی پیشانی پر اردو اور انگریزی زبان میں "مظفر بھون" بھی لکھا ہوا نظر آیا۔

بعدازاں دریافت یہ ہوا کہ مذکورہ عمارت موجودہ بنگلہ دیش کے ایک قصبے سے کلکتہ آئے مشہور اخبار نویس اور ادیب مظفر احمد نے ساری عمر کی کمائی سے تعمیر کی تھی۔ موصوف کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ وصیت کے ذریعے اپنی عمر بھر کی محنت سے بنایا مکان پارٹی کو ورثے میں دے دیا۔ اس میں داخل ہوتے ہی نگاہ پتھرسے تعمیر ہوئے ایک وسیع وعریض زینے پرپڑی۔ ایسے زینوں سے عموماََ بلیک اینڈ وائٹ فلموں کے ہیرو یا کوئی سخت گیر والد سلپنگ گائون پہنے ڈرامائی انداز میں نیچے اترا کرتے تھے۔

میں اس کے ذریعے اوپرکی منزل گیا تو تین سے چار کمروں میں درجنوں رضا کار سرجھکائے پوسٹر لکھتے یا کچھ رجسٹروں پر جھکے نظر آئے۔ ایک کونے میں نسبتاََ بڑی عمر کے ایک صاحب مگر نظر بظاہر فارغ بیٹھے تھے۔ میں ان کے پاس چلا گیا۔ اپنا تعارف کروایا اور استدعا کی کہ مجھے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا "مارکسٹ" کی تاریخ بتائیں۔ 1977ء سے کمیونسٹ پارٹی مغربی بنگال کی حکمران تھی۔ جیوتی باسو اس کے قائد تھے۔ یوں محسوس ہورہا تھا کہ ان کے ہوتے ہوئے راجیوگاندھی بھارت میں بہت مقبول ہونے کے باوجود بنگال سے لوک سبھا کی اکثریتی نشستیں نہیں جیت پائے گا۔ میں نے اس کی وجہ جاننے کو سوالات کئے۔ تفصیلی جوابات مل گئے تو میں نے ان سے رخصت چاہی۔ موصوف نے اپنا کارڈ دیا اور کسی بھی وقت مزید جاننے کے لئے فون کی دعوت دی۔

کمیونسٹ پارٹی کے دفتر سے نکل کر میں علم الدین سٹریٹ کے مزید اندر گھس گیا۔ تھوڑی دیر چلنے کے بعد میرے دونوں جانب گوشت بیچنے والوں کی دوکانیں نظر آئیں۔ تنگ گلی میں تقریباََ 15منٹ تک چلتے ہوئے مجھے خدشہ لاحق رہا کہ لوہے کی سیخ سے لٹکا گائے یا بھینس کا گوشت میر ے کپڑوں پر گر جائے گا۔ "گائوماتا" کا گوشت بیچنے والوں کی اپنے سودے کی ایسی نمائش کا منظر میں نے بھارت کے بارہا سفر کے دوران کسی اور شہر میں کبھی نہیں دیکھا۔

مذہبی رواداری کی یہ سب سے بڑی علامت تھا۔ گلی سے باہر نکلا تو شاہراہ کے پار ایک پارک نما قطعے کے کنارے ایک نوجوان بنگالی میں بلند آواز سے خطاب کرتا سنائی دیا۔ اس کی باتیں سننے کو لوگ رک کر اس کے گرد دائرے کی صورت کھڑا ہونا شروع ہوگئے۔ کچھ وقت گزرگیا تو اس شخص کے گرد چار لڑکے اور لڑکیاں کھڑے ہوکر سوالات کرنا شروع ہوگئیں۔ اس کے گرد کھڑے نوجوانوں کے سوال سن کر تماشائی قہقہے لگاتے۔ جلد ہی مجھے احساس ہوگیا کہ "اسٹریٹ تھیٹر" کے ذریعے انتخابی مہم چلائی جارہی ہے۔ اس مہم میں "ویلن" کے طورپر لیکن انداگاندھی یا راجیوکا ذکر ہرگز نہ ہوا۔ تمام تر تنقید ممتا نام کی خاتون پر مرکوز رہی۔

کلکتہ میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی تضحیک اور تنقید کا مرکزی نشانہ ممتا بینر جی تھی جو ان دنوں کانگریس کی نوجوان ترین قائد اور بے تحاشہ متحرک سیاستدان تصور ہوتی تھیں۔ کلکتہ میں اپنے قیام کے دوران میں ان سے لیکن مل نہیں پایا کیونکہ وہ مسلسل سفر میں تھیں اور انتخابی جلسوں سے خطاب میں مصروف۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مگر کانگریس نہیں بلکہ ممتا بینر جی کو اپنا اصل حریف سمجھتی تھی اور ممتا نے بالآخر اپنی لگن سے 2011ء میں مغربی بنگال کمیونسٹ پارٹی سے چھین لیا۔ 34برس تک کمیونسٹ پارٹی کی مسلسل رہی حکمرانی کو ایسی ضرب لگائی کہ وہ آج تیزی سے معدوم ہوتی جماعت تصور کی جارہی ہے۔ ہندوانتہا پسندی نے کامریڈ مظفر احمد کے آبائی گھر میں قائم ہوئی جماعت کو قصہ پارینہ بنادیا ہے۔

مجھے خبر نہیں کہ کلکتہ کی علم الدین سٹریٹ میں گائے بھینس کا گوشت آج بھی ایسے ہی بک رہا ہے جیسے میں نے 13نومبر1984ء کے دن دیکھا تھا۔ یہ خبر البتہ مل چکی ہے کہ لال بازار اور علم الدین سٹریٹ کے اکثر مکینوں کے نام انتخابی فہرسوں سے نکال دئے گئے ہیں۔ مولا علی سکوائر کے گرد محلوں میں آباد کئی خاندانوں کے اجداد عراق کے نجف شہر سے آئے تھے۔ انہیں مگر اب بھارت کا شہری ہی تسلیم نہیں کیا جارہا۔ کلکتہ سے تقریباََ 200کلومیٹر دور مرشد آباد نامی قصبہ ہے۔ برطانوی راج سے قبل یہ قصبہ دورِ حاضر کے بنگلہ دیش، بھارتی بنگال، بہار اور اڑیسہ پر مشتمل علاقوں کی بدولت قائم ہوئی ایک خودمختار ریاست کا دارالحکومت تھا۔ انگریزوں نے اسے جنگ پلاسی کے ذریعے چھین لیا۔ 1947ء میں ہندوانتہا پسندوں نے اس میں سے صرف "مغربی بنگال" نکالا اور اب یہ صوبہ نجانے کتنے برسوں تک ہندوتوا کی زد میں رہے گا۔

بشکریہ: نوائے وقت

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Kabhi Ke Din Bare Kabhi Ki Raatein

By Javed Ayaz Khan