Wednesday, 01 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Irfan Javed
  4. Angoor Meethay Hain

Angoor Meethay Hain

انگور میٹھے ہیں

سوشل میڈیا کی آمد اور عام ہونے کے بعد اس کے صارفین کی توجہ کا دورانیہ چند لمحات تک محدود ہوگیا ہے اور سنجیدہ فکری تحریروں کی طلب میں کمی ہوئی ہے، ایسی تحریریں جو مسلسل ارتکاز اور تفکر کا تقاضا کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا کی عموی پوسٹیں اخبارِ جہاں میں شائع ہونے والے کٹ پیس یا ڈائجسٹوں میں شائع ہونے والے ہلکے پھلکے اقتباسات اور لطائف کی یاد دلاتی ہیں تو ضیا شاہد کے زیرِ ادارت شائع ہونے والے اخبار"خبریں" اور ادیب جاودانی کے "مون ڈائجسٹ" کی توجہ حاصل کرنے اور چونکا دینے والی چٹ پٹی رپورٹوں کی جانب بھی توجہ منعطف کراتی ہیں۔

پاکستان میں سنجیدہ فکری مواد کی کمی کا احساس اِن دنوں ویسے بھی فزوں تر ہے کہ ہر دو جانب کے مفکرین سبط حسن، علی عباس، جلال پوری، ابنِ حنیف، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد اور متفرق و متضاد خیالات کی حامل اس نوع کی فکری شخصیات عنقا ہوتی جارہی ہیں۔ ان حالات میں اگر کوئی سنجیدہ اور متوازن تصنیف نظروں سے گزرے تو مسرور و شاد کر دیتی ہے۔ ایک عادت ہے کہ اگر کوئی تحریر و تصنیف متاثر کرے تو اسے وقت کے توشہ خانے میں رکھ کر مناسب مدت بعد دوبارہ مطالعہ کیا جائے۔ اگر پہلا سا تاثر قائم رہے یا مزید توانا ہو تو اس کی فکری افادیت کا قائل ہونا پڑتا ہے۔

ماضی قریب میں ایسی دو فکری کتابوں کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا جنھوں نے متاثر کیا اور آمادہ کیا کہ احباب سے ان کا تذکرہ کیا جائے۔ ان دونوں کتب کے مصنّفین سے نہ تو کبھی ملاقات ہوئی اور نہ ہی بات۔ البتہ ان تحریروں کے وسیلے سے خوب ملاقات رہی۔

ایک کتاب عاصم بخشی کی "دُبدھا" ہے۔ یہ متفرق موضوعات پر حوالہ جات کے ساتھ مضامین ہیں اورخوب دعوت فکر دیتے ہیں۔ یہ تصنیف ایک اہم تر ادبی و علمی اعزاز کے لیے میری ایک کتاب کے ساتھ فائنلسٹ تھی۔ بالآخر اسے اعزاز ملا تو مجھے حقیقی خوشی ہوئی تھی کہ میری کتاب سے بہتر ایک اہم، قابلِ ذکر و قابلِ غور تصنیف کو اعزاز ملا تھا۔

عاصم بخشی خود نمائی و خودستائی سے گریزاں آدمی نظر آتے ہیں وگرنہ جب تراجم پر آرا کا غلغلہ اٹھا تو عاصم بخشی، زینت حسام، ندیم اقبال اور اس نوع کے اہم ترجمین کا ذکر تک نہ ہوا جن کے حقیقی معنوں میں اُردو قاری پر احسانات ہیں۔ وہ ادیب جو مالی منفعت کے لیے نہیں بلکہ اپنے شوق سے تراجم کرتا ہے عموماً زیادہ بہتر مترجم ثابت ہوتا ہے (یقیناََ استثنیات ہیں)۔ "دُبدھا" میں، جفت اور طاق، جبر وقدر، عشق و عقل، قدیم و جدید وغیرہ یعنی ہر ایک موضوع پر متضاد نظریات مع فکری توجیہات کو ایسے پیش کیا ہے کہ قاری سوچنے پرآمادہ ہوجاتا ہے۔

دوسری تصنیف کا ظم سعید کی کتاب "دو پاکستان" ہے۔ پہلی مرتبہ اس کتاب کا نام میں نے ایک سنجیدہ اور فکری طور پر مضبوط دوست سے سُنا تھا۔ بہ ظاہر یہ کتاب پاکستان کے دو طبقات یعنی اشرافیہ اور عامۃ الناس سے معاملہ کرتی ہے مگر اس میں فقط حالات کا رونا نہیں رویا گیا بلکہ گہرائی میں جاکر سنجیدگی سے ان کے قابلِ عمل حل بھی پیش کیے گئے ہیں۔ اس کتاب کا بنیادی مغز اعداد و شمار نہیں بلکہ بنیادی مرکز تک رسائی اوراس کا دیگر ممالک کے ساتھ متاثر کن موازنہ و تجزیہ ہے۔ جذباتیت اور نعرے بازی سے گریز کرتے ہوئے اعتدال اور توازن کا دامن نہیں چھوڑا گیا۔ ہمارے ہاں تنقید اور طنز کا چلن عام ہوچکا ہے، موثر اور قابلِ عمل حل پیش کرنے والے کم کم ہیں۔ یہ کتاب مدلل حل پیش کرتی ہے اور سوچنے کا سامان بھی۔

جو دوست نوحہ خواں ہوتے ہیں کہ پاکستان میں سنجیدہ فکری کتب تصنیف ہونا ختم ہوگئی ہیں یہ کتب ان کے لیے تحفہء بیش قیمت ہیں۔ دونوں کتابوں کو ادبی انعامات دیے گئے جو ان انعامات کی ساکھ اور اعتبار میں اضافہ ہے۔

Check Also

Sukh Bias Shayad Ab Sukh Ka Saans Lay

By Zafar Iqbal Wattoo