Thursday, 25 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Waris Dinari
  4. Dakuon Ke Mukhtalif Roop

Dakuon Ke Mukhtalif Roop

ڈاکوؤں کے مختلف روپ

ڈاکوؤں کا کام ہے خوف حراس پھیلا کر لوگوں کو گن پوائنٹ پر لوٹ لینا ہے۔ کچے اور پکے کے ڈاکوؤں کے بارے میں ہم آئے روز سنتے لکھتے آتے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی ڈاکوؤں کی بیشمار قسمیں ہیں۔ جن میں کالی وردی والے، کالےکوٹ، سفید کوٹ والے شیروانی اور شلوار قمیض والے، سب سے پہلے تو میں ان معزز باعزت باوقار شعبوں سے وابستہ افراد سے انتہائی معذرت خواہ ہوں یہاں پر ان مقدس شعبوں سے منسلک بعض کالی بھیڑوں کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ جنھوں نے ان مقدس شعبوں کا تقدس پامال کیا ہوا ہے۔

گزارش یہی ہے بس پہلے سے پریشان لوگوں کو مزید پریشان مت کریں۔ کیونکہ آج کا انسان مادی اور نفسیاتی لحاظ سے تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، بیماری اور غیر یقینی مستقبل نے عام آدمی کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی اندرونی جنگ میں مصروف ہے۔ ایسے میں جہاں معاشرے کو مرہم، ہمدردی اور دلاسے کی ضرورت تھی، وہاں پر ہم چند پیسوں کی خاطر ہم ان پریشان حال کو اتنا پریشان اور خوف زدہ کرتے ہیں۔ کہ بعض اوقات وہ نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں۔ یہاں تک وہ اپنی زندگی سے بیزار ہو آ کر انتہائی خطرناک عمل کر بیٹھتے ہیں۔

آج کل ہمیں ہر وقت ہر لمحہ ٹیلی ویژن ہو یا سوشل میڈیا پر ایسے ایسے اشتہارات دیکھائے جاتے ہیں۔ جن کو دیکھ کر لوگ خوش ہونے کے بجائے پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور خوف زدہ ہوکر زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ کاروباری دنیا میں مقابلے کی مسابقت کاروبار کرنا اور منافع کمانا ہر تاجر کا حق ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا منافع انسانی جذبات اور خوف کی قیمت پر ہونا چاہیے؟ ہاں اشیاء کامعیار بہتر سے بہتر بنا کر ان کی خوبیاں فائدے افادیت بیان کرکے فروخت کریں۔ یہاں تک آگاہی دے کر بھی اشیاء فروخت کی جاسکتی ہیں۔ لیکن اپنے منافع کی خاطر خوف حراس پھیلا کر پہلے سے پریشان حال لوگوں مزید پریشان کرکے اپنا سودا فروخت کرنا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ خدا کے لیے چیزیں ضرور بیچیں، لیکن خوف مت بیچیں۔

آج کل گرمیوں کا موسم ہے ملک کے بیشتر علاقوں میں سورج نکلتے ہی آگ برسانا شروع کر دیتا ہے سورج کی تپش سے دھوپ میں رکھی ہوئی تمام چیزیں صرف ایک چنگاری ہی دو تین سیکنڈوں میں ہر چیز کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے اس لئے تھوڑی بھی لاپرواہی بے احتیاطی سے دھوپ میں کھڑی گاڑی ہو یا کوئی سامان ہر چیز راکھ میں تبدیل ہونے میں بس چند منٹ ہی لگتے ہیں۔

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس نے تمام قومی شاہراہوں موٹر ویز پر حفاظتی اقدامات کے تحت تمام تمام مسافر اور مال بردار گاڑیوں میں آگ بھجانے والے آلات فائرایکسٹنگوئشر رکھنا لازمی قرار دیا 24 جون کے بعد خلاف ورزی کے مرتکب گاڑیوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ پولیس نے یہ قدم کئی روزہ آگاہی مہم کے بعد شروع کیا ہے۔ جو کہ بہت ہی خوش آئند بات ہے۔ جس سے کسی حد تک لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ممکن ہو سکے گی۔ تاہم آگ بھجانے والے آلات فائرایکسٹنگوئشر کے کاروبار سے منسلک اداروں نے اے ائی کی مدد سے بنائی گئی ویڈیوز میں گاڑیوں کو مختلف طریقوں سے جلتے ہوئے دیکھا کر لوگوں کو ذہنی مریض بنا دیا۔

ایک ماہ قبل میرے ایک دوست کی قیمتی گاڑی کو پٹرول کی نلکی سے پٹرول رسنے کی وجہ سے آگ لگی گئی۔ بے چارے کی گاڑی جل کر خاکستر ہوگئی۔ فائرایکسٹنگوئشر کے کاروبار سے وابستہ لوگوں نے اس طرح کے واقعات کو سوشل میں بڑھا چڑھا کر پیش کردیا جس کا یہ نتیجہ ہے گاڑی رکھنے والا ہر دوسرا تیسرا شخص میری طرح پریشان ہوکر آن لائن یہ فائر ایکسٹنگوئشر آڈر کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ہر شخص کا موضوع یہی ہے یار گاڑیوں کو آگ لگنے کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ اب کیا ہوگا یہ خوف پیدا کیا گیا ہے مندرجہ بالا سطور میں زیادہ تر مالی نقصان کا تذکرہ کیا گیا۔

یہی نہیں میڈیسن کے کاروبار سے منسلک کچھ کمپنیاں اور کچھ لوگ جن میں ہربل فارما والے بھی شامل ہیں۔ جو اپنے پروڈکٹ کی فروخت سیل بڑھانے کی خاطر لوگوں میں مختلف بیماریوں کا خوف پیدا کرکے اپنی چیز فروخت کرتے نظر آتے ہیں حیرانگی اور پریشانی تب ہوتی ہے کہ ان پروڈکٹ کی تشہیر بڑے بڑے نامور ڈاکٹرز، دانشور، اسکالرز کو کرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ اس لئے تو کہتے ہیں بعض افراد مسیحا کا روپ اختیار کرکے قصاب کا کام کرتے ہیں۔ انہی قسم کے بعض ڈاکٹر اپنی کمیشن کی خاطر مریض کو خوف زدہ کرکے مختلف قسم کے مہنگے ٹیسٹ کرانے پر مجبور کرتے ہیں بعض تو اپنی مرضی کے رپورٹ بھی مرتب کراتے ہیں۔

چند سال قبل میرے ایک واقف کار نے رات بارہ بجے مجھے فون کیا کہ بھائی ہم آپ کے گھر کے سامنے کھڑے چند منٹ ہمیں دیں میں پریشانی کے عالم میں نکلا تو باہر دیکھا کچھ فاصلے پر چنگ چی رکشہ کھڑا ہے اس پر کچھ خواتین بیٹھی ہوئی تھیں۔ خیر میں اس شخص سے ملا پوچھا بھائی خیر تو ہے۔ اتنی سردی میں تو انھوں نے بتایا کہ رکشے پر میری بیٹی۔ اہلیہ ہیں بہو کو درد زہ (labor pain) ہیں یہاں پر ڈاکٹر صاحبہ کو دیکھایا تو انھوں نے الٹراساؤنڈ کرکے کہا کہ فوری طور پر آپریشن کی جائے نہیں تو ماں اور بچے کی جان کو خطرہ ہے کیونکہ بچہ الٹا ہے سرجری کے بغیر ناممکن ہے لہذا فوری طور پر ستر ہزار روپے جمع کرادیں۔ تاکہ ہم آپریشن کی تیاری کرلیں۔ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں تھے واپس ہوئے ہیں اب جیکب آباد جارہے وہاں پر سرکاری ہسپتال سے آپریشن کروائیں گے کچھ پیسے ہیں پھر بھی ہوسکتا ہے کہ ضرورت پڑے آپ ہمیں کسی طرح دس ہزار ادھار دیں ایک ہفتے میں آپ کو لوٹا دیں گے۔ میری جیب سے سات ہزار نکلے تو انھوں نے کہا کہ اللہ مالک ہے کام ہو جائے گا۔

صبح حسب معمول میں اپنی دکان پر بیٹھا ہوا تھا دس بجے کے قریب جیکب آباد جانے والا لڑکا دوکان پر آیا تو میں پریشان ہوگیا اس نے آتے ہیں سلام کے بعد مجھے مبارک باد دی خیرو عافیت کے ساتھ میں ایک بیٹے کا باپ بن گیا ہوں والد صاحب نے بھیجا ہے جاکر حاجی کو مبارکی دے آؤ میں نے ان کو مبارک باد دیتے ہوئے پوچھا کہ رات آپ لوگ کتنے بچے جیکب آباد پہنچے اور آپریشن کس ٹائم ہوا اور آپ اتنے سویرے کیسے واپس ہوئے تو انھوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہم روتے ہوئے پریشانی میں رکشہ پر جارہے تھے۔ کیٹل فارم کے نزدیک پہنچے تو تکلیف بہت زیادہ بڑھ گئی رکشے کو چند منٹ کے لئے روکا بے بسی کی عالم میں سب رو رہے تھے اسی دوران اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کیا اور بچہ خیر وعافیت کے ساتھ پیدا ہوگیا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ماں اور بچہ خیریت سے ہیں۔

یہ مٹھائی آپ کے لئے لایا ہوں خوشی کے ساتھ بہت ہی غصہ آیا کہ غریبوں کے ساتھ اتنا بڑھا دھوکہ لڑکے کو کہا کہ چلو اس پر کیس کرتے ہیں اور یہ رپورٹیں وغیرہ کورٹ میں پیش کرتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنی رپورٹ اس ہستی کو پیش کردیا جہاں نا کسی وکیل کی ضرورت ہے اور ناہی کسی گواہ کی اور وہ بہترین انصاف کرنے والی واحد ہستی ہے۔ اس طرح کے واقعات آئے روز ہر جگہ ہوتے رہتے ہیں۔ یہ اکا دکا نہیں سینکڑوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود مجال کسی کو کوئی سزا ملی ہو۔

سچ پوچھو تو یہ ڈاکٹر بیماری کا نہیں ڈر کا بزنس کرتے ہیں۔

Check Also

Wazir e Azam House Par Telecom Tower

By Abdul Hannan Raja