Wednesday, 01 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  3. Mehnat Kash Ki Jeet

Mehnat Kash Ki Jeet

محنت کش کی جیت

ریاستوں کی کامیابی کا حقیقی معیار صرف معاشی اشاریوں یا ترقیاتی منصوبوں کی کثرت نہیں بلکہ وہ اعتماد، اطمینان اور تحفظ بھی ہے جو ان کے شہری خصوصاً محنت کش طبقہ اپنے قومی نظام سے محسوس کرتا ہے۔ جب قانون سازی کا رخ عوامی فلاح، سماجی انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کی جانب ہو تو ترقی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں رہتی بلکہ معاشرے کے ہر طبقے کی زندگی میں مثبت تبدیلی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

ترمیمی فنانس بل 2026-27 کے ذریعے صوبائی ایمپلائز سوشل سیکورٹی اداروں اور ورکرز ویلفیئر بورڈز کو انکم ٹیکس سے استثنا دینا اسی روشن اور دوراندیش ریاستی فکر کا مظہر ہے۔ یہ اقدام اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ قومی وسائل کو ان اداروں کی مضبوطی اور محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کا عزم مزید مستحکم ہوا ہے۔ اس فیصلے سے اداروں کو اپنی خدمات میں وسعت، معیار میں بہتری اور جدید سہولتوں کی فراہمی کے نئے مواقع میسر آئیں گے، جن کے ثمرات لاکھوں کارکنوں اور ان کے اہلِ خانہ تک پہنچیں گے۔

اس تاریخی پیش رفت کی کامیابی میں وفاقی اور صوبائی سطح پر پالیسی سازوں، قانون ساز اداروں اور متعلقہ انتظامی قیادت کی مشترکہ کاوشیں قابلِ ستائش ہیں۔ بالخصوص صوبائی وزیرِ محنت سندھ سعید غنی کی مؤثر قیادت، مسلسل دلچسپی اور فعال رابطہ کاری، سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کے کمشنر ہادی بخش کلہوڑو، ڈائریکٹر فنانس اسد حیدر عابدی، گورننگ باڈی کے رکن انجینئر ایم اے جبار میمن اور دیگر متعلقہ افسران کی پیشہ ورانہ مہارت، قانونی بصیرت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی اس کامیابی کا نمایاں حصہ ہیں۔ ان کی اجتماعی کوششوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ جب وژن، محنت اور باہمی تعاون یکجا ہو جائیں تو عوامی فلاح کے بڑے مقاصد کامیابی سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

یہ قانون سازی مستقبل کے لیے بھی روشن امکانات کی نوید ہے۔ اضافی مالی وسائل جدید طبی سہولتوں کی توسیع، اسپتالوں کی استعداد میں اضافے، جدید طبی آلات، معیاری ادویات، ڈیجیٹل رجسٹریشن، شفاف مالی نظم و نسق، انتظامی استعداد میں بہتری اور مزدور دوست فلاحی پروگراموں کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں سماجی تحفظ کا نظام پہلے سے زیادہ مضبوط، مؤثر اور جدید خطوط پر استوار ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

ریاست اور محنت کش کا تعلق دراصل اعتماد، شراکت اور مشترکہ ذمہ داری کا رشتہ ہے۔ جب ریاست اپنے قوانین کے ذریعے محنت کشوں کی فلاح کو قومی ترقی کا بنیادی ستون قرار دیتی ہے تو وہ ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھتی ہے جہاں معاشی استحکام، سماجی انصاف اور انسانی وقار ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر آگے بڑھتے ہیں۔ ترمیمی فنانس بل 2026-27 کی یہ قانون سازی اسی روشن وژن کی آئینہ دار ہے، جس میں ایک مضبوط معیشت کے ساتھ ساتھ محفوظ، باوقار، صحت مند اور مطمئن محنت کش کو قومی ترقی کا حقیقی سرمایہ تسلیم کیا گیا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ اقدام پاکستان کے سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط، مؤثر اور جدید بناتے ہوئے قومی فلاح، صنعتی استحکام اور عوامی خوشحالی کے ایک نئے اور روشن دور کی بنیاد ثابت ہوگا۔

Check Also

Sukh Bias Shayad Ab Sukh Ka Saans Lay

By Zafar Iqbal Wattoo