Safar Waseela e Zafar
سفر وسیلہ ظفر

ریزیڈنسی کیلئے امریکہ آنا تو ایک سفر ہی تھا لیکن اس تعلیمی زندگی کے ساتھ بہت سے دوسرے سفر بھی جُڑے ہوئے تھے۔ امریکہ، کینیڈا، انگلینڈ، آئر لینڈ، دوبئی، متحدہ عرب امارات، جرمنی اور کئی دوسرے ممالک دیکھے لیکن نوجوانی کے ہر سفر سے ایک رومانویت وابستہ ہوتی ہے۔ میڈیکل کالج کے دنوں میں لاہور سے راولپنڈی عموماََ ٹرین کا ہی سفر ہوتا تھا لیکن وہ اسی اور نوے کی دہائی ہماری نوجوانی کے دن تھے اور یہ وہی دن تھے جب ہر موسم، موسم بہار کی مہک لئیے آتا تھا۔ ہر رنگ پیرہن کا اور ہر رات دمکتے ہوئے چودہویں کے چاند سی رات لگتی تھی۔ ترکیہ کی ایک پُرانی کہاوت ہے کہ وہ مصیبت جو کل آنے والی ہے وہ مصیبت ہی نہیں کیونکہ بیچ میں پہاڑ سی رات حائل ہے۔ آنے والے دن خوشیوں سے بھرپور اور راتیں خواب ناک سی لگتی تھیں۔ خواب بھی قوس قزح، ھفت رنگ سے تھے۔ ہاں یہ نہیں سوچا تھا کہ ماں باپ جب ریل کی روانگی کو دیکھتے تھے تو اُن پر کیا گزرتی تھی۔
صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیرؔ
ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا
عموما اکانومی کلاس اور کبھی کبھار ائیرکنڈیشن کمپارٹمنٹ میں سفر ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ مستنصر حسین تارڑ صاحب سے بھی ملاقات ہوئی اور خوب بات چیت ہوئی۔ دو گھنٹے کی گفتگو کے بعد تارڑ صاحب کہنے لگے کہ میں نے کبھی کسی کو اپنے گھر نہیں بُلایا لیکن آپ آئیے اور اپنا فون نمبر اور گھر کا پتہ لکھ کر دیا۔ انہی دنوں پاکستان کے ایک اور مشہور ادیب سے ملاقات ہوئی اور وہ ملاقات منہ میں ایسا کسیلا ذائقہ چھوڑ گئی کہ بعد میں اُن کی کتابیں بھی پڑھنا مشکل ہوگئیں۔ وہ کاغذ تو سنبھال ڈالا لیکن ارادہ کیا کہ اب کبھی تارڑ صاحب سے ملاقات نہیں ہوگی البتہ اس کے چالیس سال بعد اپنے کہے پر قائم نہیں رہ سکا اور پچھلے سال اُن سے ملاقات ہو ہی گئی۔
نوجوانی کسی بھی ایک انسان کیلئے یہ بہت حیران کُن تجربہ رہتی ہے۔ بہت عرصہ پہلے ایک کہانی پڑھی تھی جس میں اگلے وقتوں کی ایک نو بیاہتا کا شوہر رشتے نبھانے میں کم ظرف ٹھہرا۔ بھلے غصہ برداشت کرنے میں ناکام تھا یا ذمہ داری نبھانے میں نا اہل یا پھر شاید کسی کی زلفوں کا اسیر۔ باوفا اہلیہ نے یہ تو جان لیا کہ شوہر میں رشتے نبھانے کی صلاحیت نہیں لیکن دانش مندی سے ایک وعدہ لیا کہ جتنی مرتبہ بھی چھوڑ کر جائیں بس واپسی ایک مرتبہ زیادہ ہو۔ اگر جدائی دس بار تو واپسی کا رستہ گیارہ مرتبہ۔ کہانی کے اختتام میں بستر مرگ پر اپنے شوہر کا انتظار کرتے ہوئے یہی بات یاد رکھی۔ شوہر کی واپسی باوفا اہلیہ کی زندگی میں اور آخری مرتبہ آنکھیں موندنے سے پہلے ہوئی۔ بہت نوجوانی کے دور میں یہ کہانی پڑھی اور اس نے دل کے کسی کونے میں قبضہ جما لیا۔ اُس دن یہ جان لیا کہ کوئی سی محبت اور بھلے کیسی ہی کیوں نہ ہو، مرتی نہیں بس ویران دل کے کسی ایک گوشے میں خامشی سے ڈیرہ جما لیتی ہے۔
راولپنڈی جاتے ہوئے ایک مرتبہ ائیرکنڈیشنڈ کلاس میں جانا ہوا اور دوران سفر، ساتھ کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک خوشگوار اور نستعلیق شخصیت کے خوش شکل زمانہ دیدہ صاحب سے ملاقات ہوگئی، عمر کے فرق کے باوجود جلد ہی بے تکلفی ہوگئی اور ہم بہت گھل مل کر بات کرتے رہے۔ اس زمانے میں سیل فون تو ہوتے نہیں تھے اور ویسے بھی چھ گھنٹے کا سفر انسانی رشتوں کی پوشیدہ پرتیں کھولنے کو بہت تھا۔ وہ اپنی نوجوانی کا ذکر کرتے رہے اور کسی کمزور لمحے میں اپنی نوجوانی کی ناکام محبت کو بھی یاد کر بیٹھے۔ ساتھ بیٹھے نوجوان نے نو عمری کے تجسس سے پوچھا کہ کیا آپ کو اب بھی کبھی اُس ماہ گل کی یاد آتی ہے۔ ایسا لگا جیسے اس سوال نے انہیں چالیس پچاس سال پیچھے نوجوانی کے دنوں میں بھیج دیا۔ گزرے وقت کی خوبصورت اور دلکش یادوں نے اپنے حصار میں لے لیا۔ اُن کے وجیہہ چہرے کے ٹھہرے ہوئے نقوش جیسے یادوں کی گہری برسات میں بھیگتے ہوئے دکھائی دئیے۔ ایک ایسی تنہائی کے عالم میں جہاں شاید اب اُن کے سوا کوئی نہیں تھا، کچھ اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے ایک حُزن آلود مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگے ہاں یاد تو آتی ہے۔ کبھی باورچی خانے سے نکلتے ہوئے اور کبھی گھر میں چلتے پھرتے ہوئے خیال تو آتا ہے کہ اگر یہاں وہ ہوتی تو کیسی لگتی۔
ہر رشتہ ایک خاص وقت کیلئے زندگی میں رنگ بھر دیتا ہے۔ کبھی لمحوں میں، گھنٹوں میں، دنوں میں اور کبھی کبھار سالوں کیلئے لیکن ہر رشتے کا ایک اختتام ہے۔ والدین اور بہن بھائی زندگی کے شروع میں زندگی کے خاکے میں روپہلے رنگ بھر دیتے ہیں۔ نوجوانی کے دھنک رنگ خواب کسی اور ہی افسانوی رومانویت سے لکھے جاتے ہیں۔ کچھ محبتیں زندگی بھر کیلئے ساتھ رہتی ہیں اور کچھ ساتھ چل کر دھندلکوں میں کھو جاتی ہیں۔
جن رشتوں کو ہم لازوال سمجھتے ہیں اُن کی بھی ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے۔ گزرتے وقت ایک خوشگوار زندگی کی یادیں بنا ڈالتے ہیں۔ وقت سرعت سے گزر جاتا ہے لیکن اچھی یادیں رہ جاتی ہیں ان رشتوں اور ان لمحوں کی جو ایک وقت ہماری زندگی میں رنگ بھرنے آئے۔ رشتوں میں محنت اور محبت ہماری آپ کی زندگی میں رنگ بھر دیتے ہیں۔
بچپن کی انا ہو، لڑکپن کے ہمجولی، رشتے کے بھائی بہن ہوں یا نوجوانی کی ماہ رو یا پھر تکلیف دہ قریبی رشتے، بس تھوڑی سی محبت ایک خوش کُن سرمایہ ہے۔ لوگوں کو معاف کر دیجئیے بھلے اپنی اچھی یادوں کیلئے۔ یاد رکھئیے کہ ہمارے اپنے ہی رویے طے کرتے ہیں کہ یاد خوشگوار ہوگی یا کیکٹس کی طرح کانٹوں سے بھری اور تکلیف دہ
ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے
چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے
عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہوگیا آخر
محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے

