Monday, 27 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Saad Sharif
  4. Mere Sar Ka Dard

Mere Sar Ka Dard

میرے سر کا درد

ہر انسان کی زندگی میں ایک ایسا دوست ضرور ہوتا ہے جس کے بغیر محفل ادھوری لگتی ہے۔ کیونکہ محفل لگتی ہی اس وقت ہے جب تک اسکو تنگ نا کیا جائے۔ جو بظاہر تو لمبی لمبی چھوڑتا ہے۔ مگر کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ سب حقیقت سے واقف ہوتے ہیں۔ میرے لیے وہ دوست حزیفہ ہے۔ ویسے تو وہ کشمیر کا رہنے والا ہے، لیکن حرکتیں اس کی انڈیا کی ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی طرح ہے کیونکہ اس کو صاف پانی بھی نہ ملے تو سب سے پہلے پاکستان پر تنقید کرتا ہے۔

اس کی باتیں سن کر کبھی کبھی لگتا ہے کہ شاید وہ پوری دنیا گھوم کر آیا ہے۔ اگر اس کی باتوں پر یقین کیا جائے تو وہ ہر کام میں ماہر، ہر کھیل کا چیمپئن اور ہر معاملے کا سب سے بڑا ایکسپرٹ ہے، لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ آپ اس کے برعکس سمجھ سکتے ہیں۔ اگر آپ میں قوت سماعت زیادہ پائی جاتی ہیں تو آپ اس کا سامنا کر سکتے ہیں کیونکہ فضول باتیں تو یہ اس طرح کرتا ہے جیسے اگلے فیفاء ورلڈ کپ میں اس کو انعام کے لیے بلایا جائے گا۔

حزیفہ کی سب سے مشہور عادت لمبی لمبی چھوڑنا ہے۔ اگر وہ کہہ دے کہ اس نے دس فٹ کی چھلانگ لگائی ہے تو سمجھ جاؤ اصل میں ایک چھوٹا سا گڑھا بھی مشکل سے پار کیا ہوگا۔ اگر وہ کہے کہ پوری کلاس اس سے مشورہ لیتی ہے تو یقیناً دو لوگ بھی اس کی بات پوری نہیں سنتے ہوں گے۔ اس کی کہانیوں میں اتنا مصالحہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھی لگتا ہے وہ حقیقت نہیں بلکہ فلم کی کہانی سنا رہا ہے۔

شرارت کے معاملے میں بھی حزیفہ کسی سے کم نہیں۔ وہ دوسروں کو چھیڑنے میں بڑا ماہر ہے، لیکن جب کوئی اس کی اپنی بات پکڑ لے تو فوراً موضوع بدل دیتا ہے۔ اگر کبھی کسی بحث میں پھنس جائے تو اتنے دلائل دیتا ہے کہ آخر میں خود بھی بھول جاتا ہے کہ بات شروع کس چیز سے ہوئی تھی۔

کشمیر کا ذکر آئے تو اس کی آنکھوں میں چمک آ جاتی ہے۔ وہ اپنے علاقے کی تعریف ایسے کرتا ہے جیسے پورا کشمیر اسی کی جاگیر ہو اور ہمیں یقین ہے کہ کشمیری لوگ بھی سے پریشان ہونگے اس لیے تو کراچی پڑھنے بھیج دیا ہے۔ اس کی باتیں سن کر کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ اس سے پوچھا جائے: "بھائی! تم کشمیر کے رہائشی ہو یا کشمیر کے برانڈ ایمبیسیڈر؟"

اگرچہ ہم سب اس کی لمبی لمبی باتوں پر خوب ہنستے ہیں، لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ حزیفہ دل کا صاف، مخلص اور وفادار دوست ہے۔ اگر کسی دوست کو مدد کی ضرورت ہو تو وہ سب سے پہلے آگے بڑھتا ہے۔ مگر آج کل ٹانگ کا درد لیے گھوم رہا لیکن درد ہے نہیں بس دوسروں کے سامنے معصوم اور نمبر بنانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ اسی لیے اس کی شرارتیں، مبالغہ آرائیاں اور مزاحیہ حرکتیں ہمیں کبھی بری نہیں لگتیں بلکہ ہماری دوستی کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔

آخر میں حزیفہ سے صرف ایک ہی گزارش ہے کہ کبھی کبھی حقیقت بھی بول لیا کرو، کیونکہ تمہاری کہانیوں پر اب گوگل بھی تحقیق شروع کر دے تو حیرانی نہیں ہوگی بلکہ وہ خود افسوس کرے گا اور ہمارے صبر کی داستانیں لوگوں کو بتائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ خوش رکھے، سلامت رکھے اور اس کی "لمبی لمبی چھوڑنے" کی صلاحیت کو صرف ہنسی مذاق تک محدود رکھے۔

Check Also

Doobta Hua Lahore

By Shahid Mehmood