Monday, 27 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Yasir
  4. Lahore Awargi

Lahore Awargi

لاہور آوارگی

ان دنوں مستنصر حسین تارڑ صاحب کی "لاہور آوارگی" پڑھ رہا ہوں۔ جب سے جہلم بک کارنر کی ویب سائٹ پہ یہ کتاب دیکھی تھی تب سے ہی اسے پڑھنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن میری عادت ہے جو کتابیں پہلے منگوا چکا ہوں انہیں پڑھ لوں تو مزید منگواتا ہوں۔ لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ کتابیں آپ کے مزاج کی نہیں ہوتی چاہے وہ جتنا بھی مشہور ہوں، اس لیے ایک دو کتابوں کو درمیان میں ہی ترک کیا اور "لاہور آوارگی" شروع کر دی۔ اس میں لاہور کے حوالے سے مستنصر صاحب کے جذبات اور ان کی لاہور سے محبت کو انہوں نے قلم کیا ہے۔ کسی کو بھی اس کتاب کے پسند آنے کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں، ایک مستنصر صاحب اور دوسرا لاہور۔ مجھے یہ دونوں ہی پسند ہیں۔ میرے پسندیدہ شہر کی رونقوں، اس کے مقامات اس کی سڑکوں، اس کے مزاج، اس کے لوگوں، اس کی تاریخ، اس کے کھانوں، تہواروں اور اس کی شکایتوں کا تذکرہ ہو اور لاہور سے محبت رکھنے والوں کو یہ پسند نا آئے یہ ہو نہیں سکتا۔

میری لاہور سے کوئی نسبت نہیں لیکن اس سے منسوب ہونے کو دل کرتا ہے اس کا ذکر اچھا لگتا ہے، ایسے جیسے ایک بچھڑے محبوب کا ذکر دل و دماغ کو فرحت بخشتا ہو۔ میں تو باسی بھی لاہور سے تین چار سو کلو میٹر دور شہر کا ہوں، تو لاہور کا نام خود سے جوڑنے کے لیے اپنے چند دوستوں کے ساتھ انٹرمیڈیٹ کے بعد لاہور جا ٹھہرا اور معروف پرائیویٹ کالج میں داخلہ لے لیا۔ اس وقت تو یہ بھی نہیں پتا تھا کہ لاہور اگر پڑھنا ہے تو گورنمنٹ کالج، پنجاب یونیورسٹی، ایف سی کالج، لمز جیسا کوئی ادارہ انتخاب ہونا چاہیے تھا، کہ کالجز یونیورسٹیز کی تو بھرمار ہے مگر ان قدیم اور لاہور کے اصلی تاریخی اداروں کا جو رومانس ہے وہ انہیں دیکھ کر ان سے پڑھنے والوں کی صحبت سے ہی محسوس ہوا۔ لیکن خیر ہمیں تو بس لاہور کی مہر لگوانا تھی تو ہماری دانست میں جو اس وقت بہتر لگا اور جو اپنے کم علمی کے دور میں کر سکتے تھے وہ کیا اور پھر چار سال اس شہر میں گزارے۔

وحدت روڈ کا وہ ہاسٹل جس میں کالج کا پہلا سال گزارا آج بھی یاد ہے۔ فرصت میں پڑے رہنا، کھانا پینا، سونا، ہلہ گلا کرنا میوزک سننا اور آوارہ گردی کرنا کہ پڑھائی سے تو اپنا تعلق واجبی سا رہ گیا تھا دوستوں کی کمپنی میں۔ بس اتنا تھا کہ کالج باقاعدگی سے جایا کرتے تھے۔ بس پورے پورے نمبروں میں ڈگری حاصل کر لی اور یونیورسٹی پہنچ گئے۔ یونیورسٹی کے دو سال نسبتاً بہت اچھے گزرے کہ ہم کچھ نا کچھ سمجھدار بننے کی کوشش کر رہے تھے۔ پڑھائی کے حوالے سے بھی اور دوستیوں کے حوالے سے بھی یہ دو سال میرے لیے زیادہ یادگار دن ہیں۔

اب تو لاہور سے بچھڑے بھی ڈیڑھ دہائی بیت چکی ہے، کبھی کبھار اس سے ملنے چلا جاتا ہوں۔ کچھ اچھے دوست وہاں قیام پزیر ہیں۔ ان کی مہربانی ہے کچھ عرصہ بعد بلا لیتے ہیں اور اپنی میزبانی سے نوازتے ہیں۔ لیکن اب لاہور جاؤں تو راستے بھول جاتا ہوں، کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ میں اس شہر کے رومانس کو تلاش کرتا رہتا ہوں اور جن راہوں سے اپنے لاہور کے زمانوں سے گزرتا تھا انہیں ڈھونڈتا رہتا ہوں لیکن وہ راستے مجھے کوئی اور گزرگاہوں میں لے جاتے ہیں کہ سب کچھ بدلا ہوا ہے کہیں انڈر پاس آ رہا ہے کہیں فلائی اوور آ رہا ہے، کہیں سر کے اوپر سے بس گزر رہی ہے تو کہیں ٹرین۔ میرے راستوں کے نشانیاں ان کے پیچھے کھو گئی ہیں، وہ عمارتیں وہ راستے میری نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ مجھے پتا ہی نہیں چلتا کب نہر کے اوپر سے گزر گیا ہوں، کب کیمپس پل گزرا اور کب مسلم ٹاؤن موڑ سے گزرنے کی بجائے اس کے اوپر پل سے گزر گیا ہوں۔ کب مال روڈ پیچھے رہ گیا کب جیل روڈ کا بھی پتا نہیں چلا۔ یہ تو میرا روز کا راستہ تھا یہ میں کیسے بھول سکتا ہوں۔ لیکن یہ صرف میرا حال نہیں ہے، لاہور کے رہنے والے "اصلی لاہوری" مستنصر صاحب بھی "لاہور آوارگی" میں ان ہی خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ بھی اپنے پرانے لاہور سے اداس ہیں اور اس کی یاد اپنی تحریروں میں رقم کرتے ہیں۔

پچھلے دنوں ایک بار پھر اندرون لاہور کی سیر کا شوق چرایا تو ایک دوست کے ساتھ ہو لیا اور اندرون کا رخ کیا، سب سے پہلے صبح صبح حاجی صاحب کے بونگ پائے کا ناشتہ کیا اور اس کے بعد بادشاہی مسجد سے ملحقہ پرانی گلیوں کی سیر کی اور نیو انار کلی کی محفوظ شدہ پرانی عمارتوں کے بند ریسٹورنٹ دیکھے (یہ شام میں کھلتے ہیں) پھر دہلی گیٹ گئے اور اس کے اندر بازار میں سے سبیل والی گلی، گلی سورجن سنگھ اور مزید پرانی عمارتوں اور گلیوں کا نظارہ کیا۔ walled city Lahore authority نے کافی مقامات کو محفوظ کیا اور انکی نشاندہی کی ہے، یہ سب دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ وہیں سے ہوتے ہوئے اکبری منڈی کے بازار بھی پھر ڈالے، دہلی دروازے سے اندر شاہی حمام کے سامنے تمباکو اور حقے کی دکانوں کا ایک الگ ہی نظارہ ہے، لٹکتی ہوئی چِلمیں اور حُقوں کی رنگین بوکیاں ایک عرصہ کے بعد نظر آئیں تو حیرت میں پڑ گیا کہ یہ دکانیں اب بھی موجود ہیں اور یہ چیزیں اب بھی بکتی ہیں۔

دل کو تسلی ہوئی کہ حقہ پینے والے بزرگوں میں سے کچھ اب بھی زندہ ہیں۔ اب "لاہور آوارگی" پڑھ رہا ہوں تو کئی مقامات جو اس دن بنا تعارف بس قدیم طرز تعمیر کے اشتیاق سے دیکھے تھے ان کی تاریخ معلوم ہو رہی ہے ادھر سے تحریر پڑھتا ہوں ادھر سے اس دن بنائی گئی تصویر یں دیکھتا ہوں کہ ہاں یہ تذکرہ اس جگہ کا ہے۔ "لاہور آوارگی" کے بعد ایک بار پھر لاہور کی سیر کو جاؤں گا اور اس کے بعد مستنصر صاحب کی "لاہور دیوانگی" کتابوں کی اگلی لسٹ میں شامل ہے۔

Check Also

Mere Sar Ka Dard

By Saad Sharif