Monday, 27 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Doobta Hua Lahore

Doobta Hua Lahore

ڈوبتا ہوا لاہور

پچھلے پورے ہفتہ میں ہونے والی موسلا دھار بارش نے لاہور کے اکثر علاقوں کو پانی میں ڈبویا۔ شدید بارشوں کے سامنے شہری انتظامیہ اور واسا کی ٹیم بھی بے بس دکھائی دے رہے تھے۔ عام مضافاتی علاقوں کے ساتھ ساتھ ڈیفنس، جوہر ٹاؤن، گلبرگ جیسے پوش علاقے بھی بارش کے پانی سے نہ بچ سکے۔ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی بارش کے چند گھنٹوں میں اکثر علاقوں سے پانی کا اخراج کردیا گیا تھا جس کے لئے یقینی طور پر حکومت، واسا اور شہری انتظامیہ کی تعریف کی جانی چاہیئے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پچھلے ایک سال میں لاہور سمیت پنجاب کے اٹھائیس شہروں میں سیوریج کے حوالے سے بڑے پیمانے پر کام ہوا ہے اور لاہور کے شہریوں نے تو پورا ایک سال سیوریج کے گڑھوں اور ٹوٹے پھوٹے راستوں کا سامنا کیا ہے۔ اس پر ورلڈ بینک کے قرضے سے خطیر رقم خرچ ہوئی ہے اور کہا یہی جارہا تھا کہ یہ سیوریج کی آپ گریڈیشن تیس سال تک کی شہری ضروریات کے کئے کافی ہوگی۔ پھر بھی پورے لاہور شہر کا ڈوب جانا یہ سوال کھڑے کرتا ہے کہ جو سیوریج کا انتظام ایک سال کے بعد ہی جواب دے گیا ہے تو تیس سال کے بعد اس نے کیا کام کرنا ہے۔ اس حوالے سے بھی وزیر اعلٰی کو نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔

حکومتی وزراء ڈوبے ہوئے لاہور اور سیوریج کی بری کارکردگی پر سیکھنے کی بجائے اس بات کا کریڈٹ لے رہے ہیں کہ ڈوبنے کے چند گھنٹوں بعد ہی شہر سے پانی کا نکاس ہوجانا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ اب اس دعوے پر نوحے پڑھنے کو ہی جی کرتا ہے کیونکہ جو پانی لوگوں کا کروڑوں روپے کا نقصان کر گیا اور لوگوں کے گھروں کے سامان اور ڈھانچے کا ستیا ناس کر گیا، لوگوں کی دکانوں اور گوداموں میں گھس گیا اور پھر اربوں روپے سے بننے والی گلیاں اور سڑکیں تباہ کرگیا اسے آخر تو واپس جانا ہی تھا لیکن اس پہنچنے والے نقصان کا ازالہ تو ہر گز نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ وہ جو چار سو کلومیٹر کی سیوریج لائنوں کی صفائی کا دعوٰی ہے تو یقین جانئیے اس میں کوئی صداقت نظر نہیں آتی ہے۔ واسا کے لوگ صرف اسی وقت کسی علاقے میں صفائی کرتے ہیں جب وہاں کی سیوریج لائن بلاک ہوجاتی ہے۔ معمول کی صفائی اور دیکھ بھال کے معاملات تو اب کم کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

ہم اپنے علاقہ میں بطور سوشل ورکر کام کرتے ہیں اور جب کبھی مسائل پیدا ہوتے ہیں تو مختلف شہری انتظامیہ کے لوگوں سے رابطہ میں رہتے ہیں۔ میں نے دیکھا یہی ہے کہ واسا کے حکام اور افسران دیگر محکموں کی نسبت زیادہ مستعد اور کوآپریٹو ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی ہے کہ فیلڈ سٹاف کہیں بھی سیوریج کی بندش کے سلسلے میں جاتا ہے تو یہ لوگ پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم نے پچھلے کئی سالوں میں مین سیوریج لائن کو بھی اپنی مدد آپ کے تحت ہی صاف کروایا ہے۔ واسا کے لوگ تو کسی علاقہ میں سیوریج لائن بند ہونے سے خوش ہی ہوتے ہیں اور انھیں مسائل کو حل کرنے کی ہرگز جلدی نہیں ہوتی ہے۔ جس قدر مسئلہ بڑھتا جاتا ہے اتنا ہی رہائشیوں ہر دباؤ بھی بڑھنے لگتا ہے کیونکہ گندگی والا پانی جب سڑکوں اور گلیوں میں جمع ہوتا ہے تو گندگی اور تعفن پھیلاتا ہے۔

واسا کا عملہ اسی نفسیاتی مسئلہ کا فائدہ اٹھاتا ہے اور اس طرح لوگ پیسے دے کر سیوریج کا مسئلہ حل کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس مین ہول میں اتر کر صفائی کرنے میں واسا کا عملہ سو بہانے لگاتا ہے اسی مین ہول میں پیسے وصول کرکے فوری طور پر اتر کر صفائی کردیتا ہے۔ وزیر اعلٰی پنجاب بیوروکریسی اور سرکاری مشینری پر جتنا زیادہ انحصار کرتی ہیں اتنا ہی ان محکموں میں کرپشن کی بیماری زیادہ پھیلتی ہے اور حکومت کے لئے سبکی کا باعث بنتی ہے۔ لاہور کا سیوریج کا ڈھانچہ ناکافی اس لئے بھی ہے کہ شہر میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی اور بے ربط آبادیوں کا سیلاب ہے۔ بہت سے چھوٹے چھوٹے لینڈ مافیا آبادیوں کے قریب زرعی زمینوں پر پلاٹ کاٹ کر گھر بناتے ہیں اور ایک ایک دو دو گھر بناکر بیچ کر فرارہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ واپڈا، ایل ڈی اے، کارپوریشن اور واسا کے عملہ سے ملی بھگت کرکے بجلی اور سیوریج کا انتظام بھی کرلیتے ہیں۔

سستی زرعی زمین کو کئی گنا قیمتوں پر گھر بناکر بیچ دیا جاتا ہے اور کچھ حصہ مذکورہ محکموں کو دے کر ہر طرح کا بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور اس مافیا کے خلاف کاروائی بھی نہیں ہوتی ہے۔ مجھے سابقہ ایم ڈی واسا نے بتایا تھا کہ واسا کا سارا سیوریج پلان اس طرح کی بے ربط آبادیوں کی وجہ سے خراب ہوتا ہے۔ بدقسمتی ہے کہ ایسے لینڈ مافیا کے پیچھے مقامی سیاست دانوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس لئے واسا سمیت مختلف محکموں کے لوگ چاہتے ہوئے بھی ان لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈال پاتے ہیں۔ ​ایسے حالات میں جب واسا کے لوگ خود کو لینڈ مافیا کے سامنے بے بس پاتے ہیں تو ان کے خلاف لڑنے کی بجائے خود بھی ان لوگوں کے دست راست بن کر معاشی فائدے لیتے۔ وزیر اعلٰی کو ایسے مافیا کے خلاف بھی کوئی مربوط پلان بنانا چاہیئے کیونکہ اس کے بغیر بارشوں سے نمٹنے کا کام نہیں ہو سکتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ کچھ عرصہ سے جس طرح کی شدید بارشیں ہورہی ہیں تو ان کے سارے پانی کو سیوریج کے ذریعہ بہانا ناصرف مشکل ہے بلکہ بیوقوفانہ عمل بھی ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ مختلف سوسائٹیوں اور علاقوں میں واقع پارکوں کے اندر زیر زمین پانی جذب کرنے والے کنویں تعمیر کرے تاکہ بارش کے پانی کا بڑا ریلہ سیوریج کے اندر جانے کی بجائے زیر زمین جذب ہو جائے جس سے زیر زمین پانی کے ذخائر بھی بڑھ جائیں گے۔ ہم اپنی سوسائٹی میں ان ہی بنیادوں پر کام کررہے ہیں لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر حکومت ہمیں سپورٹ کرے تو ہم اپنی سوسائٹی کے تین بڑے پارکوں میں اس طرح کے پانی جذب کرنے والے چھوٹے کنویں تعمیر کر سکتے ہیں۔ اگر حکومت چاہے تو ہر نئی بننے والی آبادی میں ایسے کنویں بنانے کی شرط رکھ دے تو یہ بڑا قومی فلاح کا کام ہوگا۔

سب سے اہم ضرورت اس امر کی ہے کہ شہروں میں بے ربط آبادیوں کو سختی سے روکا جائے اور جن لوگوں نے ایسی آبادیاں بنا کر قومی جرم کیا ہے تو ان لوگوں کو پکڑ کر احتساب کیا جائے اور ان کی ناجائز دولت کو ضبط کرکے قومی خزانے میں ڈالا جائے اور اس رقم کو شہری ڈھانچے کی تعمیر میں استعمال کیا جائے۔ اس عمل سے ناصرف شہروں کو سیلاب اور آفات سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ شہروں کا سکون برباد کرنے والوں کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ حکومت جو عام آدمی پر چالان اور جرمانوں کو عذاب برپا کرکے اپنی کریڈیبلٹی کو داو پر لگاتی ہے اور اگر ایسے مافیا کو پکڑ کر ناجائز پیسہ نکلوائے تو فنڈز بھی وافر ملیں گے اور عوام اور شہر بھی خوشحال ہوں گے۔

Check Also

Haji Mastan (1)

By Syed Mehdi Bukhari