Ikhtilaf, Istehza Aur Ikhlaqi Hudood
اختلاف، استہزاء اور اخلاقی حدود

جامعۃ الرشید سے وابستہ بعض حضرات محترم مفتی عبد الرحیم صاحب کی توہین آمیز ویڈیوز یا تصاویر یہ ثابت کرنے کے لیے شیئر کر رہے ہیں کہ جمعیت کے بعض کارکنان کس قدر بداخلاق ہیں اور ایک بزرگ عالمِ دین کا طنزیہ و تمسخر آمیز انداز میں مذاق اڑا رہے ہیں۔ میرے خیال میں ایسی ویڈیوز اور تصاویر کو مزید شیئر کرنا مناسب نہیں، کیونکہ اس سے خود اسی قابلِ اعتراض مواد کی تشہیر ہوتی ہے۔ یہ بھی کوئی ایسا غیر متوقع واقعہ نہیں کہ جس پر حیرت ہو۔ جو لوگ اختلاف رکھنے والے علماء کے خلاف ہر قسم کی بداخلاقی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، ان سے اس نوعیت کے استہزاء کی بھی توقع کی جا سکتی ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ ویڈیو بنانے والے واقعی جمعیت کے کارکنان ہی ہوں، ممکن ہے کسی نے محض شرارت یا مذاق کے طور پر ایسی ویڈیو بنائی ہو۔ البتہ اصل مسئلہ ویڈیو بنانے والوں سے زیادہ اس رویے کے بارے میں جماعت کے کارکنان اور ذمہ داران کے طرزِ عمل کا ہے۔ جمعیت سے وابستہ بعض افراد خود اس ویڈیو کو توہین آمیز تبصروں اور نامناسب الفاظ کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں، جو یقیناً قابلِ افسوس رویہ ہے۔ البتہ جمعیت سے وابستہ کئی افراد اس توہین آمیز عمل کی مذمت بھی کر رہے ہیں۔
زیادہ اہم سوال مگر یہ ہے کہ کیا جماعت کی قیادت اور ذمہ داران مجموعی طور پر ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں؟ کیا وہ اس قسم کی بدتمیزی، تمسخر، الزام تراشی اور کردار کشی پر اپنے کارکنان کی سرزنش کرتے ہیں؟ کیا وہ کارکنوں کی اخلاقی تربیت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں؟ اگر ایسے معاملات میں خاموشی اختیار کی جائے اور کارکنان کی اصلاح نہ کی جائے تو یہ خاموشی کم از کم اس رویے کی حوصلہ افزائی کا تاثر ضرور پیدا کرتی ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض حضرات کا مؤقف ہے کہ جمعیت کی قیادت نے کبھی اپنے کارکنان کو ایسی توہین آمیز حرکتوں کی تعلیم و ترغیب نہیں دی، اس لیے قیادت کو انفرادی رویوں کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قیادت نے کھل کر اپنے کارکنان کو بداخلاقی، بدتمیزی، الزام تراشی اور مخالف علماء کی تضحیک سے روکا ہے؟ بلکہ اگر قیادت کی طرف سے بڑے جلسوں اور اجتماعات میں خود مخالف علماء کے بارے میں توہین آمیز یا بے بنیاد الزامات پر مبنی گفتگو ہوتی رہے تو پھر کارکنوں کے رویوں کو قیادت کے طرزِ عمل سے الگ قرار دینا قرینِ انصاف نہیں، کیوں کہ کارکنان قیادت سے سیکھتے ہیں۔
قیادت کے الفاظ، اندازِ گفتگو اور طرزِ عمل کارکنوں کی تربیت اور رویوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے قیادت پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف خود مہذب اور ذمہ دارانہ زبان استعمال کرے بلکہ اپنے کارکنان کی اخلاقی تربیت اور اصلاح کے لیے بھی واضح اور عملی کردار ادا کرے۔

