Monday, 27 July 2026
  1.  Home
  2. Najam Wali Khan
  3. Agar Azad Kashmir Bachana Hai

Agar Azad Kashmir Bachana Hai

اگر آزاد کشمیر بچانا ہے

یہ کالم آزاد جموں و کشمیر میں کل سے تین مرحلوں میں شروع ہونے والے عام انتخابات سے پہلے ایک الارم ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ معرکہ حق ہارنے کے بعد بھارت نے آزاد کشمیر میں جو صورتحال پیدا کی ہے اس کا سامنا ماضی میں کبھی نہیں رہا۔ یہ درست ہے کہ دو برس پہلے بھی ایکشن کمیٹی نے احتجاج کیا تھا مگروہ عوامی مسائل کے لئے تھا۔ ایکشن کمیٹی نے آزاد جموں و کشمیر میں رہنے والوں کو سستے آٹے اور تقریباً مفت بجلی کا خواب دکھایا تھا اور اس کے لئے کون تھا جو باہر نہ نکلتا مگر اب صورتحال خطرناک ہے۔

میں ہمیشہ سے کہتا آیا ہوں کہ جب آپ طاقت کے سامنے سرنڈر کرجاتے ہیں توپھر اس زوال کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ یہ پہاڑ سے گرنے کے مترادف ہوتا ہے کہ جب آپ گرنا شروع کرتے ہیں تو پھر گرتے ہی چلے جاتے ہیں، آپ بہت خوش نصیب ہوں گے کہ ہاتھ کوئی درخت کوئی جھاڑی آجائے، کسی ہموار سطح پر ٹھہر جائیں۔ میں بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کی کامیابی کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے کہنے میں عار نہیں کہ انہوں نے سیاسی اور نفسیاتی جنگ جیت لی ہے، اب وہ دوبارہ نئے مطالبات کے ساتھ آئیں گے، وہاں نریندر مودی کا زوال شروع ہو چکا ہے۔

پہلے ہم کشمیر کی صورتحال کا عقلی اور منطقی جائزہ لے لیتے ہیں۔ ایکشن کمیٹی کے حامی ایک ایسی قیادت کے ساتھ ہیں جو اس سے پہلے اپنی حکومت (اوراس کی بروکری سے وفاقی حکومت) کو سرنڈر کر چکے ہیں۔ وہ 3روپے یونٹ بجلی اور ہزار روپے کا آٹے کا تھیلا لے چکے ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ ان کی اس کامیابی میں اس وقت کے وفاداریاں تبدیل کرکے حکومت لینے والے وزیراعظم انوار الحق نے اہم کردارادا کیا تھا بلکہ آپ اسے ایکشن کمیٹی کا سرپرست اور پشتی بان بھی کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ معاملات اب اگر بہت ہی برے ہیں تو برے اس وقت ہو گئے تھے جہاں پاکستان میں عمران خان کو مسلط کرتے ہوئے اسے تحفے میں پنجاب دیا گیا تھا وہاں آزاد کشمیر بھی عبدالقیوم نیازی کی صورت میں جیب میں ڈال دیا گیا تھا۔

عبدالقیوم نیازی کے بعد سردار تنویر الیاس، ستیاناس کے بعد سوا ستیا ناس تھا اوراس کے بعد وہی انوار الحق آ گیا تھا جس کا میں نے پہلے ذکر کیا۔ میری خواہش یہ ہے کہ فیض حمید کو صرف پاکستان کی تباہی میں ہی چارج شیٹ نہ کیا جائے بلکہ اس پر کشمیر کی تباہی و بربادی کا مقدمہ بھی درج کیا جائے۔ فیض حمید اور عمران خان کی کمزور پارٹنر شپ میں کشمیر پر پہلا ایٹم بم اس وقت گرا تھا جب 5اگست 2019 کونریندر مودی نے بھارتی مقبوضہ کشمیر کی عالمی متنازع حیثیت ختم کرتے ہوئے (آئین کے آرٹیکل 370 اور 35اے کی منسوخی کے ذریعے) سقوط سری نگر کر لیا تھا اور یہ نالائقوں اور بزدلوں کا یہ ٹولہ ایک ٹانگ پرآدھا گھنٹہ احتجاج کرنے کے سوا کچھ نہ کر سکا تھا۔ اسی دور میں یہ فقرے سامنے آئے تھے کہ میں کیا کروں کیا ہندوستان پر حملہ کر دوں اور یہ کہ ہماری جیپوں میں تیل ہی نہیں ہے۔

یہ کہنے میں عار نہیں کہ آزاد کشمیر کو کئی برس کی نالانقی اور ناکامی نے اس پوزیشن میں پہنچایا ہے اور یہ کہ اگر انوار الحق اس وقت ایکشن کمیٹی کے لئے وہی کردارادا نہ کر تا جو2014کے دھرنوں میں اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کیا تھا تو نہ عمران خان کی سازش اتنی کامیاب ہوتی اور نہ ہی ایکشن کمیٹی کا گنڈویا سانپ بنتا۔ میرے پاس دلیل یہ بھی ہے کہ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ عشروں سے اس بے ہودہ فلسفے کے ساتھ موجود ہے مگر اس کو کوئی پذیرائی نہیں ملی تو ایکشن کمیٹی کے میرجعفر اور میر صادق کو کیسے مل گئی؟

میں بھارت کے جنگی جنونی بجٹ کی جمع تفریق کرتا ہوں جو کہ نوے بانوے ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے اور میں سوچتا ہوں کہ اگر اس نے صرف ایک ارب ڈالر (جو پاکستان کے 280روپے بنے) بلوچستان سے آزاد کشمیر کے لئے مختص کر دئیے تو کیا بنے گا اور مجھے لگتا ہے کہ ایسا ہوچکا ہے جب اس کے اہم عہدیدا ر بیان دیتے ہیں کہ آپریشن سندور ابھی جاری ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ جب توپیں گرجنا، میزائل اڑنا بند ہو گئے تو آپریشن سندور کیسے جاری ہے، اس کا جواب یہی ہے کہ کسی ماہرنگ بلوچ کی صورت اور کسی شوکت میر کی صورت، اب بھارت کے ہتھیار یہ ہیں۔

میں اکثر کہتا ہوں کہ کسی بھی ملک میں بھرپور عوامی تحریک صرف اور صرف حکومت اور بیوروکریسی کی نااہلی سے شروع ہوتی ہے۔ کوئی نااہل سیاستدان یا سرکاری افسر ہوتاہے جو فرعون بن جاتا ہے اور عوام اس کے سامنے سراپا احتجاج۔ ہم نے آزاد کشمیر میں تسلسل کے ساتھ نااہل حکومتیں دی ہیں جیسے عبدالقیوم نیازی، تنویر الیاس، انوار الحق اور اب فیصل راٹھور۔ ہمارے دوست پروفیسر نعیم مسعود پیپلزپارٹی کے حامی سمجھے جاتے ہیں مگر وہ جس طرح مجھ سے گفتگو میں ایکشن کمیٹی کی بدمعاشی اور بلیک میلنگ کے کامیاب ہونے میں فیصل ممتاز پر برسے مجھے اس پر حیرانی ہوئی۔

میں نے اس کی اے پی سی اور سپریم کورٹ میں ریفرنس کی بنیاد پر دفاع کرنے کی کوشش کی مگر مجھے لگا کہ میرا دفاع بودا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ پیپلزپارٹی چاہے غریبوں، کسانوں ا ور سرکاری ملازموں کے لئے بہت اچھی ہو مگر وہ مجموعی گورننس کے اعتبار سے مایوس نہیں بلکہ تباہ کن کارکردگی کی حامل ہے۔ میں دوستوں سے کہوں گا کہ وہ گلگت بلتستان میں الیکشن کے بعدا س کے پہلے (اور پیپلزپارٹی کے) وزیراعلیٰ مہدی شاہ کی گورننس پڑھ لیں کہ وہاں بھی باقاعدہ بسوں سے اتار کے لوگوں کو گولیاں ماری جاتی تھیں، وہاں فرقہ واریت نے قتل عام شروع کر رکھا تھا، پندرہ پندرہ دن کرفیو اور مہینہ مہینہ انٹرنیٹ بند رہتے تھے۔

مجھے کراچی اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی گورننس کے بارے کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں اور یہی صورتحال کسی حد تک بلوچستان کی ہے (اگرچہ میری اطلاعات کے مطابق مقتدر حلقے موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی کارکردگی سے بہت خوش ہیں) مگر وہاں آج جو کچھ ہے اس میں بھی پیپلزپارٹی کی بیڈ گورننس شامل ہے اور سب سے آخر میں آزاد کشمیر۔ بلاول بھٹو اسی طرح آزاد کشمیر کی حکومت چاہتے ہیں جس طرح انہوں نے جی بی کی لی۔

میں نہیں جانتا کہ آزاد کشمیر کی حکومت کا فیصلہ آزاد کشمیر کے عوام کریں گے یا مقتدر حلقے لیکن جو بھی کرے گا میں اسے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ آزاد کشمیر کو بچانا چاہتے ہیں تو پھر اس بار مسلم لیگ نون کو حکومت دیں کیونکہ یہی واحد جماعت ہے جو اپنی سیاست بچانے کی بجائے ریاست کو بچانے کی جدوجہد کرتی ہے اور اس کی ایک نہیں کئی مثالیں موجود ہیں۔۔ اگر یہ فیصلہ نہ کیا گیا تو میرا نہیں خیال کہ وہاں ریاست بچ سکے گی کیونکہ وہاں کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے کا بہت نقصان ہوچکا اور اس کی بنیادی ذمہ داری بیڈ گورننس پر ہی عائد ہوتی ہے۔

Check Also

Mere Sar Ka Dard

By Saad Sharif