Monday, 27 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Social Media Aur Ghairat Ka Janaza

Social Media Aur Ghairat Ka Janaza

سوشل میڈیا اور غیرت کا جنازہ

معاشرے میں بڑھتی ہوئی برائیاں اُس وقت مزید طاقتور ہو جاتی ہیں جب کچھ لوگ چند لمحوں کی شہرت چند ہزار لائکس اور چند ڈالر کمانے کی خاطر اپنی نجی زندگی اپنے گھر کے معاملات اور اپنی عزت کو سوشل میڈیا کی منڈی میں سجا دیتے ہیں۔ ڈاکٹر نبیہہ جو چند روز پہلے اپنے شوہر کے خلاف غلیظ واہیات سے عزت تاریخ تار کرتی نظر آرہی تھی اور اخلاقیات کا جنازہ نکال رہی تھی یہ سب کیا ہے؟ سوشل میڈیا کے ذریعے چند لائکس سے پیسے کمانا کی احمقانہ کاوش اس پر مفصل کالم پھر کبھی صحیح آج سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے لئے یہ بتانا ہے ہر بیہودہ بات ویڈیو کو آنکھیں بند کرکے آگے فارورڈ نہ کریں بلکہ انہیں نظر انداز کریں اور کوشش کریں ان فالو کردیں ان فرینڈ کردیں۔

ولاگنگ بذاتِ خود کوئی برائی نہیں برائی اُس وقت جنم لیتی ہے جب کوئی شخص اپنی ازدواجی زندگی کو تماشہ بنا دے۔ طلاق اور گھریلو جھگڑوں کو عوامی تفریح میں بدل دے ایک دوسرے کی تذلیل کرے خاندان کی خواتین کی عزت کو بھی اس کشمکش میں گھسیٹ لے اور پھر چند دن بعد ایسے اکٹھے ہو جائیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو یہ رویہ صرف غیر سنجیدگی نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے لوگ نوجوان نسل کو بھی یہی سبق دے رہے ہیں کہ عزت سے زیادہ شہرت اہم ہے، کردار سے زیادہ ویوز قیمتی ہیں اور سچائی سے زیادہ ڈرامہ منافع بخش ہے۔ ان کا مقصد معاشرے کی اصلاح نہیں بلکہ ہر قیمت پر توجہ حاصل کرنا اور لائکس، ویوز اور ڈالر سمیٹنا ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے لوگوں کو نہ لائک کریں، نہ فالو کریں اور نہ ہی ان کے مواد کو پھیلائیں۔ ہر ویو ہر لائک اور ہر شیئر دراصل اسی طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اگر معاشرہ واقعی اخلاقی اقدار کو زندہ رکھنا چاہتا ہے تو اسے ایسے مواد کا اجتماعی بائیکاٹ کرنا ہوگا۔

یاد رکھیے جب عزت کاروبار بن جائے تو کردار دیوالیہ ہو جاتا ہے اور جب تماشا روزگار بن جائے تو غیرت سب سے پہلے قربان ہوتی ہے ایسے لوگوں کی چاندی ضرور ہوتی ہے لیکن اس کی قیمت معاشرے کی اخلاقی تباہی ہوتی ہے اس لیے فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم کردار کو فروغ دیتے ہیں یا تماشے کو۔

یہ یاد رکھیے کہ سوشل میڈیا پر ہر کلک ایک ووٹ ہے ہر لائک ایک تائید ہے، ہر شیئر ایک تشہیر ہے۔ اگر ہم کسی منفی مواد پر اپنی توجہ دیتے ہیں تو درحقیقت ہم اس کی عمر بڑھا رہے ہوتے ہیں۔ اصلاح کا راستہ گالم گلوچ نہیں بلکہ شعوری بائیکاٹ ہے جو مواد اخلاق، علم تہذیب اور معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچاتا ہو اس سے خاموشی کے ساتھ کنارہ کشی اختیار کیجیے۔ ایسے اکاؤنٹس کو ان فالو کیجیے غیر ضروری پوسٹوں کو نظر انداز کیجیے اور اپنے بچوں کو بھی سکھائیے کہ ہر چیز دیکھنے کے قابل نہیں ہوتی۔

معاشرے میں برائی صرف اس لیے نہیں پھیلتی کہ برے لوگ موجود ہوتے ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ اچھے لوگ اکثر خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں ایک بہتر فکری ماحول میں پروان چڑھیں تو ہمیں اپنی ڈیجیٹل عادات بدلنی ہوں گی اپنی توجہ ان لوگوں کو دیجیے جو علم، کردار، ادب، تحقیق اور مثبت سوچ کو فروغ دیتے ہیں۔ یاد رکھیے ہر وہ چیز جو زیادہ دیکھی جاتی ہے وہی زیادہ بنتی بھی ہے اس لیے فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم معاشرے میں شعور کو فروغ دیں یا شور کو برائی کو شہرت نہ دینا بھی ایک سماجی ذمہ داری ہے اور بعض اوقات خاموش بائیکاٹ بلند ترین احتجاج ثابت ہوتا ہے۔

Check Also

Mere Sar Ka Dard

By Saad Sharif