Thursday, 25 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Saif Wallahray
  4. Al Salam o Alaika Ya Ibn Rasool Allah

Al Salam o Alaika Ya Ibn Rasool Allah

السلام علیک یا ابن رسول اللہ ﷺ

تاریخِ انسانیت میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے اعمال، کردار اور فیصلوں کے ذریعے محض ایک فرد نہیں رہتیں بلکہ ایک فکر، ایک نظریہ اور ایک دائمی پیغام بن جاتی ہیں۔ ان شخصیات کی عظمت کا راز ان کی ظاہری کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس لمحۂ انتخاب میں پوشیدہ ہوتا ہے جب وہ حق اور باطل کے درمیان کھڑے ہوکر ایسا فیصلہ کرتی ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتا ہے۔ واقعۂ کربلا کی تاریخ ایسے ہی عظیم کرداروں سے مزین ہے۔ یہاں ہر شخصیت اپنی جگہ ایک مستقل درسگاہ ہے، ہر شہید ایک مکمل بابِ معرفت ہے اور ہر قربانی انسانیت کے لیے ایک ابدی پیغام رکھتی ہے۔ انہی درخشاں کرداروں میں ایک نام حُر بن یزید الریاحیؑ کا بھی ہے، جو تاریخِ کربلا میں توبہ، بصیرت، جرأتِ اعتراف اور بیداریِ ضمیر کی سب سے روشن علامت بن کر سامنے آتا ہے۔

اگر واقعۂ کربلا کو انسانی شعور کی سب سے بڑی اخلاقی آزمائش قرار دیا جائے تو حُر بن یزید الریاحیؑ اس آزمائش میں کامیاب ہونے والے ان منفرد انسانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اقتدار، منصب، قبائلی حیثیت اور دنیاوی مفادات کو ٹھکرا کر حق کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کے تمام کرداروں میں حُرؑ کا مقام ایک خاص انفرادیت رکھتا ہے۔ حضرت عباسؑ وفاداری کا استعارہ ہیں، حضرت علی اکبرؑ جوانی کی قربانی کا عنوان ہیں، حضرت قاسمؑ اطاعت و عشق کی علامت ہیں، لیکن حُرؑ امید کا استعارہ ہیں، وہ امید جو ہر خطاکار، ہر گناہگار اور ہر بھٹکے ہوئے انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ جب تک زندگی باقی ہے، واپسی کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔

تاریخی روایات کے مطابق حُر بن یزید الریاحیؑ قبیلہ بنی ریاح کے ایک ممتاز سردار اور کوفہ کے معروف سپہ سالار تھے۔ ان کا شمار ان افراد میں ہوتا تھا جن کی بہادری، جنگی مہارت اور قبائلی اثر و رسوخ پورے عراق میں معروف تھا۔ عبیداللہ بن زیاد نے جب امام حسینؑ کے قافلے کو روکنے کے لیے لشکر روانہ کیا تو حُرؑ کو ایک ہزار سواروں کے ساتھ اس مہم پر مامور کیا گیا۔ بظاہر وہ حکومتِ وقت کے ایک وفادار سپاہی تھے اور انہیں حکم دیا گیا تھا کہ امام حسینؑ کو کوفہ نہ پہنچنے دیا جائے۔

یہیں سے تاریخ کا وہ باب شروع ہوتا ہے جو حُرؑ کو عام سپہ سالاروں سے ممتاز کر دیتا ہے۔

جب حُرؑ کا لشکر شدید گرمی اور پیاس کی حالت میں امام حسینؑ کے قافلے کے قریب پہنچا تو امامؑ نے نہ صرف سپاہیوں بلکہ ان کے گھوڑوں تک کو پانی پلانے کا حکم دیا۔ عرب کی جنگی تاریخ میں دشمن کے ساتھ ایسا سلوک غیر معمولی تھا۔ یہاں دشمنی سے پہلے انسانیت تھی، جنگ سے پہلے اخلاق تھا اور سیاست سے پہلے رحمت تھی۔ امام حسینؑ کے اس عمل نے حُرؑ کے دل پر پہلا اثر اسی وقت چھوڑ دیا تھا، اگرچہ وہ اس کیفیت کو اُس وقت پوری طرح سمجھ نہ سکے۔

کربلا کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ حُرؑ اور امام حسینؑ کے درمیان ہونے والے مکالمے محض دو افراد کی گفتگو نہیں تھے بلکہ وہ ضمیر اور اقتدار، حق اور مصلحت، نور اور ظلمت کے درمیان جاری ایک فکری کشمکش کا اظہار تھے۔ حُرؑ جانتے تھے کہ وہ کس شخصیت کے سامنے کھڑے ہیں۔ انہیں معلوم تھا کہ یہ رسولِ اکرم ﷺ کے نواسے، حضرت فاطمۃ الزہراؑ کے فرزند اور حضرت علیؑ کے لختِ جگر ہیں۔ اسی لیے جب امام حسینؑ نے ناراضی کے عالم میں ان سے فرمایا کہ "تیری ماں تیرے غم میں بیٹھے"، تو حُرؑ نے جواب دیا کہ اگر کوئی اور شخص یہ الفاظ کہتا تو میں ضرور جواب دیتا، لیکن آپ کی والدہ وہ ہیں جن کا نام احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔

یہ جواب اس بات کا ثبوت تھا کہ حُرؑ کے دل میں اہلِ بیتؑ کی محبت اور احترام زندہ تھا، اگرچہ وہ ابھی تک حق کے راستے پر قدم رکھنے کا حتمی فیصلہ نہیں کر سکے تھے۔

دسویں محرم سے قبل کے ایام دراصل حُرؑ کے باطن میں برپا ہونے والے ایک عظیم انقلاب کے ایام تھے۔ ایک طرف ابن زیاد کی حکومت، منصب، سیاسی مفادات اور دنیاوی کامیابیوں کی کشش تھی، دوسری طرف نواسۂ رسولﷺ کی صداقت، مظلومیت اور حقانیت تھی۔ ظاہری طور پر حُرؑ یزیدی لشکر میں کھڑے تھے، لیکن ان کا ضمیر مسلسل انہیں جھنجھوڑ رہا تھا۔

یہی وہ مرحلہ ہے جو حُرؑ کی شخصیت کو تاریخی اعتبار سے غیر معمولی بناتا ہے۔ تاریخ میں ایسے بے شمار لوگ ملتے ہیں جو ابتدا ہی سے حق کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، لیکن ایسے افراد بہت کم ملتے ہیں جو باطل کے لشکر سے نکل کر حق کے خیمے تک پہنچنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ حُرؑ کی عظمت اسی میں ہے کہ انہوں نے اپنی غلطی کو پہچانا، اس کا اعتراف کیا اور پھر اس اعتراف کی قیمت اپنی جان دے کر ادا کی۔

عاشور کی صبح جب جنگ ناگزیر ہو چکی تھی، فرات کا پانی بند تھا اور معصوم بچوں کی پیاس کی صدائیں فضا میں گونج رہی تھیں، تب حُرؑ کے دل میں جاری کشمکش اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوئی۔ روایت ہے کہ ان کا جسم لرز رہا تھا۔ ایک ساتھی نے تعجب سے پوچھا کہ عراق کا سب سے بہادر سپاہی آج کیوں کانپ رہا ہے؟

حُرؑ نے تاریخ کا وہ جملہ کہا جو قیامت تک انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑتا رہے گا: "خدا کی قسم! میں اپنے آپ کو جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا دیکھ رہا ہوں اور میں جنت پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دوں گا"۔

یہ محض ایک جملہ نہیں تھا بلکہ ایک روحانی انقلاب کا اعلان تھا۔

اسی لمحے حُرؑ نے اپنے گھوڑے کا رخ بدل دیا۔ یہ صرف گھوڑے کا رخ بدلنا نہیں تھا بلکہ پوری زندگی کا رخ بدل دینا تھا۔ یہ اقتدار سے حق کی طرف، مصلحت سے حقیقت کی طرف اور دنیا سے آخرت کی طرف سفر تھا۔ شاید تاریخ میں کسی انسان نے اتنا مختصر مگر اتنا عظیم سفر نہیں کیا جتنا حُرؑ نے چند لمحوں میں طے کیا۔

جب حُر بن یزید الریاحیؑ اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر خیمۂ حسینیؑ کی جانب بڑھے تو درحقیقت وہ صرف چند قدموں کا فاصلہ طے نہیں کررہے تھے بلکہ ایک پوری تاریخ عبور کررہے تھے۔ ایک طرف ابنِ زیاد کا دربار تھا، حکمرانی کے وعدے تھے، قبائلی مفادات تھے اور دنیاوی عزت و جاہ تھی، جبکہ دوسری طرف ایک ایسا قافلہ تھا جس کے حصے میں ظاہری کامیابی نہیں بلکہ پیاس، مصیبت، شہادت اور اسیری لکھی جاچکی تھی۔ مگر حُرؑ نے اس لمحے یہ ثابت کردیا کہ انسان کی عظمت اس بات میں نہیں کہ وہ کہاں کھڑا ہے بلکہ اس بات میں ہے کہ حق کو پہچان لینے کے بعد وہ کس طرف کھڑا ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔

تاریخ کے صفحات میں بہت سے ایسے افراد ملتے ہیں جنہوں نے سچائی کو پہچان لیا مگر اس کے تقاضوں کو قبول نہ کرسکے۔ بہت سے لوگ حق کے قائل تو ہوئے لیکن اس کے لیے قربانی دینے پر آمادہ نہ ہوئے۔ حُرؑ کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے حق کو پہچاننے کے بعد اس کی قیمت بھی ادا کی۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کے تمام کرداروں میں حُرؑ کا نام توبہ، حریت اور اخلاقی جرات کی علامت بن گیا۔

روایات میں آتا ہے کہ جب حُرؑ امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کی گردن ندامت سے جھکی ہوئی تھی، آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور دل میں ایک ہی سوال تھا کہ کیا اتنی بڑی خطا کے بعد بھی معافی ممکن ہے؟

انہوں نے سلام عرض کیا: " السلام علیک یا ابن رسول اللہ ﷺ "

اور فرمانے لگے کہ: "یا ابن رسول اللہ ﷺ! میں وہی شخص ہوں جس نے آپ کا راستہ روکا، آپ کو اس سرزمین پر آنے پر مجبور کیا اور آپ کے قافلے کو واپس لوٹنے نہ دیا۔ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟"

یہ سوال دراصل صرف حُرؑ کا سوال نہیں تھا۔ یہ ہر اس انسان کا سوال تھا جو کبھی اپنی غلطیوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ یہ ہر اس دل کی آواز تھی جو اپنے ماضی کے اندھیروں سے نکل کر روشنی کی طرف آنا چاہتا ہے۔

امام حسینؑ کا جواب بھی صرف حُرؑ کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک پیغام تھا۔ آپؑ نے فرمایا: "ہاں، اللہ تمہاری توبہ قبول فرمائے گا"۔

یہ مختصر سا جواب رحمت، مغفرت اور امید کی ایک پوری دنیا اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔ کربلا کے میدان میں جہاں موت سایہ فگن تھی، وہاں بھی ناامیدی کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ حسینؑ کا دربار وہ دربار تھا جہاں مایوس دلوں کو امید ملتی تھی اور گناہگاروں کو واپسی کا راستہ دکھائی دیتا تھا۔

حُرؑ کے قبولِ توبہ کا واقعہ دراصل کربلا کے اخلاقی فلسفے کو سمجھنے کی کلید ہے۔ اگر کربلا صرف ایک سیاسی معرکہ ہوتی تو شاید وہاں توبہ، معافی اور رحمت کے لیے اتنی وسعت نہ ہوتی۔ لیکن چونکہ کربلا دراصل انسانی ضمیر کی بیداری کا نام ہے، اس لیے وہاں ایک ایسے شخص کو بھی گلے لگا لیا جاتا ہے جو چند لمحے پہلے تک مخالف لشکر میں کھڑا تھا۔

اس کے بعد حُرؑ نے امام حسینؑ سے اجازت طلب کی کہ وہ میدانِ جنگ میں سب سے پہلے جا کر اپنی وفاداری کا ثبوت دیں۔ گویا وہ اپنی گزشتہ کوتاہیوں کا کفارہ اپنی جان کی قربانی سے ادا کرنا چاہتے تھے۔ اجازت ملنے کے بعد وہ میدان میں اترے اور سب سے پہلے اہلِ کوفہ کو مخاطب کیا۔ ان کے الفاظ میں درد بھی تھا، احتجاج بھی اور ایک ایسی اخلاقی قوت بھی جو صرف سچائی کے ساتھ وابستہ انسان کو حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے اہلِ کوفہ کو یاد دلایا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے خطوط لکھ کر حسینؑ کو بلایا تھا، یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے نصرت کے وعدے کیے تھے اور یہی وہ لوگ آج نواسۂ رسول ﷺ کے مقابل کھڑے تھے۔ تاریخ میں شاید اس سے بڑی اخلاقی منافقت کی کوئی مثال مشکل ہی سے ملتی ہو کہ جس شخصیت کو اپنی رہنمائی کے لیے دعوت دی جائے، بعد ازاں اسی کے خلاف تلوار اٹھالی جائے۔

مگر اقتدار کی سیاست ہمیشہ سے اصولوں کے بجائے مفادات کی زبان سمجھتی آئی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ حُرؑ کی نصیحتوں کا جواب تیروں سے دیا گیا۔ ان کے الفاظ ضمیر کو جھنجھوڑ رہے تھے اور ضمیر کی آواز سننا ظلم کے نظام کے لیے ہمیشہ مشکل رہا ہے۔

اس کے بعد میدانِ کربلا میں حُرؑ نے جس شجاعت کا مظاہرہ کیا، وہ ان کی عسکری مہارت اور روحانی استقامت دونوں کا مظہر تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اب زندگی کے چند ہی لمحے باقی ہیں، مگر انہیں اپنی جان کی فکر نہ تھی۔ انہیں صرف اس بات کی فکر تھی کہ کہیں ان کی سابقہ لغزش کا کوئی داغ باقی نہ رہ جائے۔

شدید زخمی ہونے کے بعد جب وہ زمین پر گرے تو امام حسینؑ خود ان کے سرہانے تشریف لائے۔ تاریخِ کربلا کا یہ منظر محض ایک جذباتی واقعہ نہیں بلکہ ایک گہرا اخلاقی استعارہ ہے۔ امام حسینؑ نے دنیا کو دکھا دیا کہ توبہ کرنے والا انسان اپنے ماضی سے نہیں بلکہ اپنے حال سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر ندامت سچی ہو تو رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر واپسی خلوص کے ساتھ ہو تو انسان اپنے ماضی کی تمام تاریکیوں پر غالب آسکتا ہے۔

امام حسینؑ نے حُرؑ کے چہرے سے گرد صاف کرتے ہوئے فرمایا: "تم واقعی حُر ہو، جیسے تمہاری ماں نے تمہارا نام رکھا تھا۔ تم دنیا میں بھی آزاد تھے اور آخرت میں بھی آزاد رہو گے"۔

یہ جملہ صرف ایک فرد کی تحسین نہیں بلکہ آزادی کے حقیقی مفہوم کی وضاحت ہے۔ حقیقی آزادی خواہشات کی غلامی سے نجات کا نام ہے، باطل کے سامنے سر نہ جھکانے کا نام ہے اور حق کی خاطر ہر قربانی دینے کا نام ہے۔ حُرؑ نے یہ آزادی حاصل کرلی تھی، اسی لیے وہ تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔

آج چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود جب بھی محرم کا چاند طلوع ہوتا ہے، کربلا کے شہداء کے ساتھ حُرؑ کا نام بھی عقیدت اور احترام سے لیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ وہ شہیدِ کربلا ہیں بلکہ اس کی اصل وجہ یہ بھی ہے کہ وہ انسانی ضمیر کی بیداری کی سب سے روشن مثال ہیں۔ ان کی زندگی ہر اس شخص کو امید دیتی ہے جو اپنی کوتاہیوں پر شرمندہ ہے، ہر اس انسان کو حوصلہ دیتی ہے جو حق کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے اور ہر اس دل کو یقین دلاتی ہے کہ خدا کی رحمت انسان کے گناہوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

واقعۂ کربلا میں حُر بن یزید الریاحیؑ کا کردار اس حقیقت کا اعلان ہے کہ تاریخ انسان کے ماضی سے زیادہ اس کے آخری اور درست فیصلے کو یاد رکھتی ہے۔ بعض اوقات چند لمحوں کا اخلاص برسوں کی غفلت پر غالب آجاتا ہے اور ایک سچا فیصلہ پوری زندگی کا مفہوم بدل دیتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ جب بھی حُرؑ کا ذکر آتا ہے تو انسان کو اپنے اندر امید کی ایک نئی روشنی محسوس ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کربلا کی تپتی ہوئی ریت آج بھی یہ صدا دے رہی ہو کہ اگر حُرؑ کے لیے واپسی کا راستہ کھلا تھا تو حق کی تلاش کرنے والے کسی بھی انسان کے لیے وہ راستہ کبھی بند نہیں ہوسکتا۔

السلام علیک یا حُر بن یزید الریاحیؑ۔

Check Also

Vigo Dala Culture

By Kiran Arzoo Nadeem