Thursday, 16 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Quaid e Jamiat Ka Bayan: Tanqeed, Ikhtilaf Aur Insaf Ka Taqaza

Quaid e Jamiat Ka Bayan: Tanqeed, Ikhtilaf Aur Insaf Ka Taqaza

قائد جمعیت کا بیان: تنقید، اختلاف اور انصاف کا تقاضا

قصور کے جلسے میں فوجی شہداء کے حوالے سے دیے گئے بیان پر مولانا فضل الرحمٰن صاحب شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ان کے بیان کا ٹرائل جاری ہے۔ ان سے معافی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور ان کے خلاف مقدمات کے اندراج کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔ ​سیاست میں مخالفین کو کسی کے لفظ یا جملے کو بھی اپنے حق میں استعمال کرنے کا موقع مل جائے تو اسے ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا۔ ماضی میں بھی سیاسی رہنما فوج اور اس کے افسران پر سخت تنقید کی وجہ سے شدید ردعمل کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

خود مولانا فضل الرحمن صاحب بھی ماضی میں اسی بات پر مخالف جماعت کے خلاف شدید ردعمل دے چکے ہیں۔ جو لوگ آج مولانا کے خلاف سخت زبان استعمال کر رہے ہیں، ان کی اپنی قیادت بھی ماضی میں اسی نوعیت کے بیانات کی وجہ سے تنقید کا ہدف بن چکی ہے۔ یہ سلسلہ نیا نہیں ہے۔ بہرحال ​مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے خلاف پیدا کی جانے والی فضا میں بظاہر مبالغہ آرائی کی جا رہی ہے۔ سیاسی جلسوں میں جذبات کی شدت کے باعث بیان بازی میں سختی آنا کوئی انہونی بات نہیں۔ اگر بات کو سیاق و سباق میں سمجھنے کی کوشش کی جائے اور معاملے کو غیر ضروری طور پر طول نہ دیا جائے تو معاشرتی ہم آہنگی کے لیے یہ زیادہ بہتر ہے۔

​تاہم، اس معاملے کا ایک پہلو ایسا ہے جسے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سمجھنا ضروری ہے۔ پاکستان کے عوام شہداء کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ اس محبت کی وجہ یہ ہے کہ فوجی شہداء اسی معاشرے کے عام گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ کسی کے بیٹے، بھائی یا شوہر ہوتے ہیں۔ لاکھوں خاندانوں کا کوئی نہ کوئی فرد فوج میں ہے، جنہوں نے اپنے پیاروں کو وطن پر قربان ہوتے دیکھا ہے۔ ان شہداء کے پاس نہ کوئی سیاسی پروٹوکول ہوتا ہے اور نہ ہی وہ کسی پالیسی ساز عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ وہ نہ حکومتیں بناتے ہیں، نہ سازشیں کرتے ہیں۔ ​اگر سیاست دانوں کو سیاسی مداخلت سے شکایت ہے تو تنقید بھی انہی ذمہ دار افسران، پالیسیوں یا اداروں کے سیاسی کردار پر ہونی چاہیے۔ عمومی طور پر سب کو اس بحث میں فریق بنانا نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے، بلکہ اس سے خود تنقید کرنے والے کا سیاسی موقف بھی کمزور اور متنازع ہو جاتا ہے۔

​مولانا فضل الرحمٰن صاحب ملک کے ایک بزرگ اور کہنہ مشق سیاست دان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ممتاز عالمِ دین بھی ہیں۔ ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر ان کے سیاسی کردار اور مقام سے انکار ممکن نہیں۔ میرا خیال ہے کہ ان کے بیان کا مقصد شہداء کی توہین کرنا ہرگز نہیں تھا، بلکہ وہ اس سوچ اور کردار پر تنقید کرنا چاہتے تھے جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ سیاسی نظام میں مداخلت کا سبب بنتی ہے۔ اگر ان کا مقصد یہ تھا کہ صرف سیاست دان آئینی محاذ پر لڑیں اور سرحدوں کا دفاع صرف فوج کرے تو اسے شہداء کے ذکرکے ساتھ عمومی انداز میں بیان کرنے کے بجائے احتیاط سے کام لینا چاہیے تھا۔ بڑے رہنماؤں کو الفاظ کے چناؤ میں بہت زیادہ محتاط رہنا پڑتا ہے، کیونکہ بعض اوقات نیت کچھ اور ہوتی ہے مگر الفاظ کا تاثر بالکل مختلف نکلتا ہے۔ ​

یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ کسی ادارے کے افراد فرشتے نہیں ہوتے اور ان سے غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ کسی کے سیاسی کردار پر اختلاف کا حق ہر کسی کو ہے، مگر کسی ادارے کے اعلیٰ سطحی سیاسی کردار اور سرحد پر جان دینے والے عام سپاہی کو ایک ہی ترازو میں تولنا غیر منصفانہ ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب سے اختلاف رکھنے والوں کو بھی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اختلاف کا مطلب کسی بزرگ رہنما کی تضحیک، گالم گلوچ یا کردار کشی نہیں ہے۔ تنقید دلیل کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اگر مولانا صاحب کا مقصد شہداء کی توہین نہیں تھا تو معاملے کو مزید ہوا دینے کے بجائے وضاحت اور اصلاح کا راستہ اختیار کرنا ہی مناسب ہے۔ اختلافِ رائے جمہوری حسن ہے، لیکن اسے نفرت میں تبدیل کرنا کسی کے حق میں نہیں۔

Check Also

Molana Ki Siasat

By Syed Mehdi Bukhari