Thursday, 16 July 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Mazeed Aag Bharkane Ka Baais Banta Housion Ka Agla Jarihana Qadam

Mazeed Aag Bharkane Ka Baais Banta Housion Ka Agla Jarihana Qadam

مزید آگ بھڑکانے کا باعث بنتا حوثیوں کا اگلا جارحانہ قدم

دن کے 24گھنٹے مجھے اور آپ کو باخبر رکھنے کے دعوے دار ٹی وی چینلوں کے بعد دنیا کی اکثریت اب موبائل فونز کے ذریعے "علم" حاصل کررہی ہے۔ ٹویٹر، فیس بک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارموں کی بدولت پھیلائی خبروں سے گماں ہوتا ہے کہ یمن نام کا کوئی ملک ہے جس پر حوثی باغیوں نے قبضہ کررکھا ہے۔ یہ باغی ایران کے حلیف ہیں۔ وسیع تر حوالوں سے بلکہ اس ملک کے محض "کارندے" یا (Proxies) ہیں۔ ایران کو جب بھی اپنے مخالفین کو دیوار سے لگانا ہو تو وہ حوثیوں کو متحرک ہونے کا حکم دیتا ہے۔ ایران کی تسلی کے لئے وہ یمن کی پہاڑیوں سے یمن کے ساحل کے قریب باب المندسے گزرنے والے بحری جہازوں پر میزائل اچھالنا شروع ہوجاتے ہیں۔

حوثیوں کے بارے میں مشہور ہوئی کہانی کے برعکس رواں برس کے مارچ سے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ اور جنگ بندی کے باوجود جاری رہی چپقلش سے وہ حیران کن حد تک کنارہ کش رہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا حق ملکیت اجاگر کرنا چاہا تو اس کے خلیج میں سب سے بڑے حریف سعودی عرب نے نہایت بردباری اور خاموشی سے آبنائے ہرمز کے متبادل راستے استعمال کرنا شروع کردئے۔ سعودی عرب کی پٹرول اور گیس کے حوالے سے تیار کردہ مختلف النوع برآمدات کا 70فی صد حصہ اب بحر ہند کے پانیوں تک پہنچنے کے لئے آبنائے ہرمز کا محتاج نہیں رہا۔ وہاں کے مشرقی علاقوں میں پیدا ہوئے تیل کو پائپ لائنوں کے ذریعے سعودی عرب کے جنوبی شہر یعنوب پہنچایا جاتا ہے۔ یعنوب کی بندرگاہ پر کھڑے جہاز وہاں سے تیل لادکر یمن کا رخ کرتے ہیں اور اس کے طویل ساحل سے گزرتے ہوئے بحرہند کے گہرے پانیوں میں داخل ہوجاتے ہیں۔ حوثیوں نے اس تجارت میں رخنہ ڈالنے کے لئے یمن کے ساحلوں سے گزرتے جہازوں پر میزائل اچھالنے سے گریز اختیار کئے رکھا۔

رواں ہفتے کا آغاز ہوتے ہی مگر حالات بدل گئے۔ موبائل فونز پر سرسری نگاہ ڈالتے ہوئے "عالمی امور" کے مجھ جیسے نام نہاد ماہرین کو علم ہوا کہ "سعودی عرب" (جی ہاں سعودی عرب) نے یمن کے ڈھائی ہزار سال سے آباد شہر صنعاء کے ہوائی اڈے پر حملہ کردیا ہے۔ صنعاء شہر حوثیوں کے قبضے میں ہے۔ اس کے ہوائی اڈے پر حملہ ہوا تو حوثیوں نے جواباََ سعودی عرب کے جنوب میں قائم فوجی تنصیبات پر میزائل اچھالنا شروع کردئے۔ ان کے "جوابی حملوں " سے تاثر یہ ملا کہ خلیجی جنگ میں اب سعودی عرب اور حوثی بھی باقاعدہ فریق کی صورت شامل ہوچکے ہیں۔ جنگ کے شعلے مزید بھڑک اور پھیل چکے ہیں۔

جان کی امان مانگتے ہوئے یاد یہ دلانا ہے کہ یمن گزشتہ کئی برسوں میں دو حصوں میں بٹ چکا۔ 1990ء سے قبل بھی یہ دو "خودمختار" ممالک میں بٹا ہوا تھا۔ وہ ملک شمالی اور جنوبی یمن کہلاتے تھے۔ شمالی یمن 1918ء میں خلافتِ عثمانیہ کی شکست وریخت کے بعد آزاد ہوا تو وہاں زیدی مسلک سے تعلق رکھنے والے اکثریتی قبائل نے بادشاہت قائم کرلی۔ اس کا سربراہ خود کو "امام" پکارتا تھا۔ 1962ء میں لیکن مصر کے صدر ناصر سے متاثر ہوکر یمن کی فوج نے اس بادشاہت کا تختہ الٹ دیا۔ معزول کئے جانے کے بعد "امامت" کے والی یمن کے ناقابل تسخیر پہاڑوں میں چھپ کر فوجی حکومت کے خلاف گوریلا جنگ لڑنا شر وع ہوگئے۔ اس دور کے "باغی" زیدی مسلک ہی سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے سربراہ "امام بدر" کو مگر سعودی عرب کی سرپرستی میسر تھی کیونکہ وہ صدر ناصر کے "انقلابی خیالات" کی مزاحمت میں مصروف تھا۔

شمالی یمن کے برعکس جنوبی یمن نے برطانوی سامراج سے 1839ء میں اپنے زیر نگین انڈیا تک بحری تجارت کو آزاد، منظم اور پرامن رکھنے کے لئے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس کا شہر عدن بحرہند کی فطری اور گہرے پانیوں سے مالامال بندرگاہ تھی۔ عدن شہر کا حتمی نگہبان دہلی میں بیٹھا برطانوی ہند کا وائسرائے ہوتا تھا۔ عدن شہر کی "حفاظت" یقینی بنانے کے لئے وہاں برطانوی افواج کے دستے تعینات رہے جن کے سپاہیوں اور افسروں کی اکثریت آج کے پاکستان اور بھارت سے بھری ہوئی تھی۔ عدن میں کاروبار اور تعلیم کے فروغ کے لئے آج کے بھارت اور پاکستان سے بھی کئی متمول گھرانے وہاں بسائے گئے تھے۔ عدن گویا ہر اعتبار سے کراچی، بمبئی یا مدراس کی طرح برطانوی ہند ہی کا ایک تجارتی شہر شمار ہوتا تھا۔ برطانیہ نے 1960ء کی دہائی میں وہاں سے رخصت کا فیصلہ کیا تو جنوبی یمن کے "انقلابیوں " نے وہاں "کمیونسٹ حکومت" قائم کرلی۔ ماسکو اور کیوبا اس کے سرپرست رہے۔ کمیونزم کے زوال کے بعد یہ دونوں ملک اس کے تحفظ کے قابل نہ رہے تو 1990ء میں شمالی اور جنوبی یمن دوبارہ متحد ہوگئے۔ "متحدہ یمن" فقط 36سال قائم رہا۔

حالیہ تاریخ کے اس مختصر عرصے کے برعکس یمن قدیم ترین ملک اور تہذیب رہا ہے۔ کلام پاک کی سورۃ الفیل میں اسی ملک کے ایک لشکر کا ذکر بھی ہے جس کے ہاتھیوں کو ربّ کریم نے ابابیلوں کی پھینکی کنکریوں سے تباہ کردیا تھا۔ اس کے علاوہ یمن اساطیری ملکہ سبا کی وسیع وعریض سلطنت کا مرکز بھی رہا ہے۔ اسی ملک سے دنیا بھر میں کافی کا استعمال متعارف ہوا۔ یمن کے پتھر بھی انتہائی قیمتی مانے جاتے تھے۔

دورِ حاضر کا یمن مگر اپنی شاندر تاریخ کے برعکس غریب ترین اور پسماندہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کے نوجوانوں نے بھی عرب دنیا کے دیگر نوجوانوں کی طرح 2011ء میں یہاں سے "عرب بہار" نامی تحریک چلانے کی کوشش کی تھی۔ اسے سختی سے کچلا گیا تو انصار اسلام نامی ایک نئی تنظیم کھڑی ہوگئی۔ اس نے زیدی مسلک کی "انقلابی" تشریع کی بدولت جو نظریہ ایجاد کیا اس نے حوثی تنظیم کو جنم دیا۔

اس تنظیم نے مسلح جدوجہد کے ذریعے "آئینی اعتبار" سے قائم حکومت کو شمالی یمن سے نکال کر جنوبی یمن دھکیل دیا۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی جانب سے تسلیم شدہ اس حکومت کو سعودی عرب کی سرپرستی بھی میسر ہے۔ حوثی اور ان کے مخالف مگر ایران اور سعودی عرب کے محض کٹھ پتلی نہیں ہیں۔ اپنا وجود برقرار رکھنے یا اہمیت جتلانے کے لئے آزادانہ قدم بھی اٹھاتے ہیں۔

پیر کے روز جنوبی یمن تک محدود ہوئی حکومت کو اطلاع ملی کہ ایران کے شہید رہبر اعلیٰ کی تدفین کے بعد حوثی قیادت کا ایک وفد ایرانی پاسداران کی ملکیت تصور ہوتی مایاائر کے ایک طیارے سے یمن کے مرکزی شہر صنعاء کے ہوائی اڈے پر اتررہا ہے۔ جنوبی یمن تک محدود ہوئی حکومت کو شبہ تھا کہ مذکورہ طیارے میں حوثیوں کے لئے تازہ ترین ہتھیاروں اور میزائلوں کی ایک کھیپ بھی لائی جارہی ہے۔ حوثیوں کو اس نے متنبہ کیا کہ ایرانی طیارہ استعمال نہ ہو۔ حوثیوں نے انکار کیا تو سعودی عرب نہیں جنوبی یمن تک محدود ہوئی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ "حکومت یمن" نے صنعاء کے ہوائی اڈے کو ناقابل استعمال بنانے کے لئے وہاں میزائل اچھالنا شروع کردئے۔

حوثیوں نے طیش میں آکر انہیں نشانہ بنانے کے بجائے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں قائم ہوائی اڈے اور فوجی تنصیبات پر میزائل پھینکنا شروع کردئے۔ یہ کالم لکھنے تک سعودی عرب نے حوثیوں پر جوابی حملے نہیں کئے ہیں۔ بردباری سے گویا درگزرکا پیغام دیا ہے۔ حوثیوں کا اگلا (جارحانہ) قدم ہی مزید آگ بھڑکانے کا باعث ہوسکتا ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Domestic Helper Mujahid Ka Husn e Zauq

By Rauf Klasra