ڈیرے کا شاہ جی

ڈاکٹر نبیل شاہ کی بھی اپنی جگہ الگ قسم کی ایک چس ہے۔ نیبل شاہ کا ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق ہے۔ ایسا خوش قسمت انسان ہے کہ جس کام میں ہاتھ ڈالتا ہے اسے کامیاب کرتا ہے۔ یوں سمجھیں مٹی کو سونا بنانے کا فن جانتا ہے۔
کبھی کبھار اس کے "مہمان میزبان" ریسٹورنٹ جانا ہوتا ہے۔ خوبصورت جگہ اور خوبصورت ماحول۔ کبھی بہت دن گزر جائیں تو فون آ جائے گا سوہنڑا کتھاں او۔ بڑے دن ہوگئے۔
آئیں آپ کو پسندیدہ دال کھلائیں۔ پھر وہ خود اپنے ہاتھوں سے زبردست دال بناتے ہیں۔
وہاں ان کے ریسٹورنٹ پر ہر وقت ان کے یاروں دوستوں کی خدمت ہورہی ہوتی ہے۔
میں نے کہا شاہ جی کماتے کیا ہیں؟ سب کچھ تو لگتا ہے یار دوست کھا جاتے ہیں۔
ہنس کر بولے لالہ رئوف اللہ کا کرم ہے بہترین سسٹم چل رہا ہے۔ دوستوں کے کھانے سے بھلا کب کمی ہوتی ہے؟ برکت پڑتی ہے۔
خیر بیٹھے تھے کہ تین نوجوان کھانا کھانے آئے۔ وہ بل دینے لگے تو منع کر دیا۔ شاہ جی کو لگا ان میں سے ایک نوجوان شاید ڈیرہ کا تھا۔
نوجوانوں نے کہا چلیں پورا نہیں تو پچاس فیصد رعایت کر لیں۔ بل لے لیں۔
شاہ جی بولے بالکل نہیں۔
جب وہ چلے گئے تو پوچھا کون تھے؟ کہنے لگے مجھے ایک نوجوان پر شک ہوا کہ شاید وہ ہمارے ڈیرہ اسماعیل خان محلے کا تھا۔ اب بھلا اس سے یا اس کے دوستوں سے بھی کھانے کا بل لیتا؟
میں نے کہا ان نوجوانوں کو آپ کا یہ gesture ہمیشہ یاد رہے گا۔ بات پیسوں کی نہیں ہوتی بات اس احساس کی ہوتی ہے۔ اس نوجوان کو اپنے دوستوں کے سامنے کتنا فخر محسوس ہوا ہوگا کہ کسی نے بل نہیں لیا کہ وہ محلے دار تھا۔
میں نے کہا شاہ جی میں 2006 لندن میں تھا۔ میرے بچے ساتھ تھے۔ مہد اس وقت چھوٹا تھا۔ الفریڈ کے قریب ہم سیون کنگز اسٹیشن سے ٹرین پکڑنے گئے تو وہاں برگر شاپ پر دو پشتون نوجوان سرو کر رہے تھے۔ ہم نے چار برگر اور چپس آڈر کیے۔
مہد یہاں اسلام آباد میں پشتون بچوں کے ساتھ کھیلتا تھا تو کچھ کچھ پشتو کے لفظ سیکھ گیا تھا۔ مہد نے ان دونوں کو پشتو میں بات کرتے سنا تو اس نے بھی انہیں کوئی پشتو کا لفظ کہا۔
وہ دونوں حیران رہ گئے اور ایک بھاگ کر آیا اور اس نے مہد کو اٹھایا اور اس کے ساتھ پشتو بولنے لگا۔ اب وہ ہم سے برگرز کے پیسے نہیں لے رہا تھا۔
بڑی مشکل سے اسے راضی کیا کہ آپ اپنے اس پشتون بھائی کو مفت برگر دے دیں، ہم باقی تینوں کو پشتو نہیں آتی لہذا ہمیں چارج کریں۔ انہوں نے مہد کو برگر فری دیا۔
بات فری برگر کی نہیں تھی، بات اس خوبصورت gesture کی تھی جو آج بیس سال کے بعد بھی مجھے نہیں بھولا۔
اس طرح نیبل شاہ کا یہ جیسچر بھی اس ڈیرے کے نوجوان کو نہیں بھولے گا جیسے سیون گنگز اسٹیشن پر چکن برگر شاپ کے نوجوان پشتون کا میرے بیٹے مہد کو دیا گیا مفت برگر آج تک نہیں بھولا۔

