Wednesday, 24 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Badar Habib Sipra
  4. Awaz Se Safar Masood Lillah Tak

Awaz Se Safar Masood Lillah Tak

آواز سے سفرِ مسعود للہ تک

جون اور جولائی کی سخت گرمی اور پنجاب ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کی کٹھن تربیت کا آپس میں گویا سخت بیر ہے، مگر ہمارا دونوں کے ساتھ نبھا ضروری ہے۔ ایک مشہور کہاوت ہے:

"Sweat saves blood, and blood saves lives. "

یعنی اگر انسان وقت پر محنت کا پسینہ بہائے تو ضرورت پڑنے پر یہی پسینہ انسانی جانیں بچانے میں معاون بنتا ہے۔ چونکہ ہم نے انسانی خدمت کا عہد کر رکھا ہے، اس لیے اس اصول پر دل و جان سے عمل پیرا ہیں۔ صبحِ صادق سے لے کر شام ڈھلے تک کبھی کنوؤں کی گہرائیوں میں، کبھی فائر ٹاور کی بلندیوں پر، کبھی پانی کی وسعتوں میں اور کبھی ملبے کے نیچے، پسینہ خشک ہونے کا نام نہیں لیتا۔ جسمانی مشقیں، ڈرل اور دیگر تربیتی سرگرمیاں اس کے علاوہ ہیں۔

ایسے سخت جان ماحول میں غیر نصابی مطالعے کے لیے وقت نکالنا بھی ایک چیلنج سے کم نہیں اور شاید یہی وجہ تھی کہ تقریباً ایک ماہ قبل موصول ہونے والی کتاب "سفرِ مسعود للہ" کو پڑھنے اور اس پر اظہارِ خیال کرنے میں تاخیر ہوئی۔

میں خود کو کوئی بڑا قاری نہیں سمجھتا، البتہ علم سے محبت ضرور رکھتا ہوں اور اس بات کا قائل ہوں کہ جہاں سے کوئی اچھی بات یا نصیحت ملے، اسے پلو سے باندھ لینا چاہیے۔ چند برس قبل میرے والدِ محترم اور بڑے بھائی نے مجھے مصنف کی ایک اور تصنیف "آوازِ مسعود للہ" پڑھنے کا کہا۔ حکم کی تعمیل میں جب اس کتاب کا مطالعہ کیا تو مصنف کی خوش اسلوبی، شگفتہ بیانی، داستان طرازی اور الفاظ پر قدرت نے مجھے بے حد متاثر کیا۔

ان کی منفرد طرزِ تحریر اور دلنشیں اندازِ بیان نے نہ صرف مجھے مسحور کیا بلکہ لکھنے کے فن کی طرف بھی راغب کیا۔ اسی کتاب کے مطالعے کے بعد میں نے پہلی بار قلم اٹھایا اور اپنے تاثرات قلم بند کرنے کی کوشش کی۔ خوش قسمتی سے وہ تحریر مصنف تک پہنچی تو انہوں نے نہ صرف اسے پسند کیا بلکہ اپنے فیس بک صفحے پر شائع بھی کیا۔ ان کی اس حوصلہ افزائی نے میرے اندر لکھنے کا جذبہ مزید مضبوط کیا اور اسی لیے میں انہیں اپنے ادبی سفر کا ایک اہم استاد سمجھتا ہوں۔

وقت جیسا بھی ہو، موسم کیسا بھی ہو اور معمولات کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں، کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو بہرحال انجام دینا پڑتے ہیں۔ چنانچہ موجودہ مصروف اور سخت تربیتی ماحول کے باوجود میں نے "سفرِ مسعود للہ" کا حرف حرف پوری توجہ اور انہماک سے پڑھا اور یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ واقعی ایک منفرد عالمی سفرنامہ ہے۔

ساتوں براعظموں پر مشتمل یہ سفرنامہ محض مقامات کی سیاحت نہیں بلکہ تاریخ، تہذیب، ثقافت، فطرت اور انسانیت کا حسین امتزاج ہے۔ مصنف نے ان تمام عناصر کو ایک ایسے ہار میں پرویا ہے جس کی ہر کڑی قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ تحریر میں روانی، پختگی اور فکری گہرائی نمایاں ہے، جبکہ مصنف کی لفظ شناسی اور سخن فہمی ہر صفحے پر اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔

یہ سفرنامہ ایک روشن الماری کی مانند ہے جس کے ہر دریچے میں یادوں، مشاہدات اور تجربات کے قیمتی خزانے محفوظ ہیں۔ مصنف نے اپنے حواسِ خمسہ کو بھرپور انداز میں استعمال کرتے ہوئے دنیا کو دیکھا، سنا، محسوس کیا اور پھر اسی شدتِ احساس کے ساتھ قارئین تک منتقل کیا۔ انہوں نے قدرت کے حسین مناظر کو آنکھوں سے دیکھا، مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کو سمجھا، دنیا کے شور اور خاموشی کے فرق کو سنا، زمین کی خوشبو کو محسوس کیا، مختلف خطوں کی آب و ہوا میں سانس لی اور ان علاقوں کے ذائقوں کو چکھ کر اپنے تجربات کو الفاظ کا روپ دیا۔

انہوں نے انٹارکٹیکا کی برفانی خاموشی کو محسوس کیا، یورپ کی تہذیبی رنگینیوں کا مشاہدہ کیا، امریکہ کی ترقی اور افریقہ کی محرومیوں کو سمجھا، ایشیا کی روحانیت اور قدیم روایات کو قریب سے دیکھا اور پھر ان تمام مشاہدات کو دیانت داری اور سادگی کے ساتھ اپنے قارئین تک پہنچایا۔

مطالعے کے دوران مجھے بارہا یوں محسوس ہوا جیسے میں خود مصنف کے ہمراہ ساتوں براعظموں کی سیاحت کر رہا ہوں۔ کتاب مکمل کرنے کے بعد میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر کوئی شخص دنیا کی سیر کا خواب دیکھتا ہے مگر وسائل کی کمی اس کے راستے میں حائل ہے، تو اسے اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ یہ سفرنامہ اسے دنیا کے رنگ، ثقافتیں، مناظر اور فطرت کے عجائبات اپنے تخیل میں محسوس کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

سفرنامے کے اختتامی ابواب میں مصنف نے زندگی کی ایک تلخ مگر اٹل حقیقت کی جانب بھی توجہ دلائی ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور ہر ذی روح نے ایک دن یہاں سے رخصت ہونا ہے۔ انسان کو اپنی منزلِ آخر سے غافل نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ تیار مسافر نسبتاً کم پریشان ہوتا ہے جبکہ غافل مسافر زیادہ آزمائشوں کا سامنا کرتا ہے۔

مصنف نے موجودہ دنیا کے تضادات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ایک طرف انسان خلاؤں کو تسخیر کر رہا ہے اور دوسری طرف کروڑوں انسان آج بھی روٹی، کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ اسی طرح انہوں نے ہمارے معاشرے کے اس رویے کی بھی نشاندہی کی ہے کہ ہم اکثر دوسروں کے دکھ کو اس وقت تک نہیں سمجھتے جب تک وہ خود ہم پر نہ گزر جائے۔

سرطان جیسے جان لیوا مرض کا سامنا کرنے کے باوجود مسعود للہ صاحب اپنے خاندان، دوستوں اور چاہنے والوں کے لیے حوصلے، محبت اور امید کا استعارہ ہیں۔ ان کی بے لوث محبت، خلوص اور مثبت طرزِ فکر ان کی شخصیت کو مزید باوقار بناتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں صحتِ کاملہ، درازیٔ عمر اور مزید علمی و ادبی کامیابیاں عطا فرمائے۔ ان کے قلم میں مزید تاثیر اور قوت پیدا کرے تاکہ ہم جیسے علم کے متلاشی افراد ان کے علم و تجربے کی روشنی سے مستفید ہوتے رہیں۔

Check Also

Nanga Tourism Nahi Chahiye

By Shair Khan